چلاس: کے آئی یو کیمپس کو بعد میں دیامر یونیورسٹی میں تبدیل کر دی جائے گی۔ چئیر مین ہائیر ایجوکیشن کمیشن

چلاس: کے آئی یو کیمپس کو بعد میں دیامر یونیورسٹی میں تبدیل کر دی جائے گی۔ چئیر مین ہائیر ایجوکیشن کمیشن

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان) صوبائی وزیر وویمن ڈویلپمنٹ ثوبیہ جبین مقدم نے اسلام آباد میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چئیر مین ڈاکٹر مختار سے ملاقات کی۔ملاقات میں قراقرم یونیورسٹی کے دیامر کیمپس کو فنکشنل کرنے اور مستقل تعمیرات کے حوالے سے تفصیلی گفت و شنید ہوئی۔ صوبائی وزیر نے دیامر میں تعلیمی سہولیات اور کے آئی یو کیمپس کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دیامر کیمپس سے نہ صرف دیامر بلکہ کوہستان کے طلبہ بھی استفادہ حاصل کر سکیں گے۔چونکہ کوہستان اپر اور لوئیر میں ہائیر ایجوکیشن کی کوئی تعلیمی سہولت میسر نہیں ہے۔دیامر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اور کے آئی یو سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔غریب طلباء کو ا تنی زیادہ مسافت پر تعلیم حاصل کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔دیامر کی عوام نے دیامر بھاشا ڈیم کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے۔عوام کی اس قربانی کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اور تعلیمی سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔ چئیر مین ایچ ای سی ڈاکٹرمختار نے کہا کہ ہنزہ اور دیامر کیمپسز کو ایک ساتھ ہی شروع کر دیا جائے گا۔صوبائی حکومت کی جانب سے دیامر میں مختص بلڈنگ میں ہی کلاسز کا اجراء کر دیا جائے گا۔اور مستقل سطح پر بھی کیمپس کی عمارت کی تعمیر کر دی جائے گی۔دوران ملاقات چئیر مین ایچ ای سی نے وائس چانسلر کے آئی یو ڈاکٹر آصف کو ہدایت کی کہ دیامر کیمپس کو فوری طور پر فنکشنل کیا جائے۔ کیمپس کی مستقل تعمیر کے سلسلے میں سروے اور فیزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے۔اس مقصد کے لئے ٹیم دیامر بھیجی جائے۔یہ ٹیم دو تین ہفتوں میں سروے مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔کے آئی یو کیمپس کو مکمل اسٹیبلش کرنے کے بعد دیامر یونیورسٹی میں تبدیل کر دی جائے گی۔تاکہ وہاں کے طلباء کو گھر کی دہلیز پر تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔ملاقات میں صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم نے چئیرمین ایچ ای سی کو کے آئی یو کیمپس میں فارسٹری،آرکیالوجی،ایگریکلچر،سوشیالوجی،اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں دیامر بھاشا ڈیم اور سی پیک کو مد نظر رکھ کر ٹیکنکل ٹریننگز ڈپارٹمنٹ کے قیام کی بھی سفارش کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔