بلوچستان اور فا ٹا۔ایک ہی مسئلہ

بلوچستان اور فا ٹا۔ایک ہی مسئلہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بلوچستان اور فا ٹا وطن عزیز کے دو سلگتے ہو ئے مسا ئل ہیں ۔اسلام آباد،پشاور ،کو ئٹہ،اور کر اچی کے با خبر حلقوں کے سا تھ گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے۔کہ دو نوں کا مسٗلہ ایک ہی ہے۔اور مسئلہ کر پشن کا مال ہے۔اس مال کی مالیت کر وڑوں ،اربوں میں نہیں۔کھربوں میں ہے۔دونوں مقامات پر رو پے پیسے اور ڈالر گنے نہیں جاتے ،بو ریوں کے حساب سے ادھر اُدھر کئے جاتے ہیں ۔کتنے کروڑ کا نہیں پوچھا جاتا،کتنی بوریاں کہہ کر سوال جواب کیا جاتا ہے۔اور یہ کوئی نیا انکشاف نہیں ۔انگریزی میں اس کو اوپن سکریٹ( Open secret)کہا جا تا ہے۔جن لوگوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے اندر بلو چستان اور فاٹا میں نو کری کی ہے ۔کاروبار کیا ہے۔یا سال ڈیڑھ سال کسی اور حثیت میں گذارا ہے ان کو علم ہے کہ اصل مسئلہ کرپشن ہے کر پشن کا راستہ روکو گے تو بدامنی ختم ہو جا ئیگی۔کو ئی محقق ،صحافی، استاد یا سیاح کو ئیٹہ جائے تو اس کو بلوچ علاقوں میں جانے سے منع کیا جاتا ہے وہ قلات ،مکران ،گوادر،ڈیڑہ بگٹی اور کوھلو نہیں جا سکتا کوئی ریسرچ سکالر ،کالم نگار یا صحافی پشاور آئے تو اس کو تیراہ ،پاڑہ چنار ،وانا ،میران شاہ اورغلنی جانے سے منع کیا جا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ امن عامہ کی حالت ٹھیک نہیں دہشت گردی ہے ۔جان کے ضیاع کا خطرہ ہے “جس کو ہو دین ودل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں “!فاٹا کا مَلک اور سرکاری عملہ اس کا ذمہ دار ہے بلوچ علاقوں کا سردار اور سرکاری سیٹ اپ اس دہشت گردی اور بدامنی کا ذمہ دار ہے ۔چھوٹی سی مثال ہے ۔ایک بلوچ شہری نے سی اینڈڈبلیوڈیپارٹمنٹ میں 40سال نوکری کی۔اس دوران بیٹے کو تعلیم دی،بیٹا اکاونٹس افیسرہے۔بوڑھے بلوچ کو ریٹائر ہوئے6سال ہو گئے ہیں ۔3سال بعد اس کو پنشن کے واجبات اس طرح مل گئے کہ اکاونٹس آفس نے 50فیصد پیشگی رشوت لیکر اُس کی پنشن جاری کردی ۔مگر جی پی فنڈ روک لیا ۔جی پی فنڈ کی رقم 6 لاکھ روپے بنتی ہے۔طریقہ یہ ہے کہ 3لاکھ روپے پیشگی لے آؤ ادا کرو۔اور 6لاکھ کا چیک لے لو ۔اُس کا اپنا بیٹا اس شعبے میں ہے مگر اُس کی مدد نہیں کر سکتا ۔وہ کہتا ہے ھم ایک دوسرے کے لین دین میں مداخلت نہیں کرتے۔پھر اپنے لین دین میں سے باپ کے 3لاکھ روپے دیدو اور بقیہ 3لاکھ لے کر باپ کو دیدو ۔وہ کہتا ہے اس کو میرا باپ نہیں مانتا ۔وہ کہتا ہے یہ میرا اپنا پیسہ ہے ۔میرے اپنے اکاونٹ میں ہے میں 50 فیصد بھتہ کس لئے دیدو ں؟اُس کو بنایا جاتا ہے ۔اوپر شکایت کرو وہ کہتا ہے ایسا کیا تو بچوں کو اغواکیا جائے گا۔باپ کو قتل کر کے بوری میں ڈال کر کسی ویرانے میں پھینک دیا جائے گا۔دفتر کا عملہ سردار کے سا تھ ملا ہواہے ۔سردار کے پاس بد معاشوں کا پو را لشکر ہے ۔وہ حرکت میں آجاتا ہے پڑھے لکھے بلوچ کو بتا یا جا تا ہے پھر علاقہ چھوڑدو،یہاں سے نکل جاؤ۔وہ جواب دیتا ہے باپ داداکی ہڈیاں یہاں دفن ہیں ۔اپنی مٹی ہے۔اس کوچھوڑ کر کہا ں جا ئیں ۔ملا زمت لینا ،زمینات یا لین دین کے جھگڑوں کا فیصلہ کرانا ،کاروبار کر نا ،لائسنس لینا،کو ئی بھی کام بھاری رشوت اور بھتے کے بغیر نہیں ہو تا۔وطن عزیز کا قانوں کو ئی اہمیت نہیں رکھتا ۔بنی آدم ہو نے کا رشتہ کو ئی وقعت نہیں رکھتا۔مسلمان ہو نا کو ئی معنی نہیں رکھتا ۔پاکستانی ہو نا کو ئی شنا خت نہیں ہے۔اس مثال کو تیرا ہ ،خار ،پاڑہ چنار ،کلایہ ،وانا،اور میران شاہ میں کسی شہری کے مسا ئل پر چسپان کر کے دیکھاجائے۔تو ہو بہو وہی تصویر یہاں بھی آپ کے سامنے آئے گی۔یہ بات اب زیر بحث ہے کہ جنرل مشرف نے سردار پر وار کیا مگر کر پشن پر وار نہیں کیا۔اس کو سردار سے پہلے کر پشن پر وار کر نا چا ہےئے تھا۔جب تک کر پشن ہے سردار اپنی جگہ رہے گا ۔مَلک اپنی جگہ رہے گا۔بلوچستان کے سابق سکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو 40 ارب روپے کے ساتھ پکڑا گیا۔یہ 100 بوریوں کا مال تھا۔اس طرح ہزاروں بوریوں کا ،مال ہر روز ادھر اُدھر ہو تا ہے ۔بلو چستان اور فا ٹا میں ایک سال کی پو سٹنگ سے جو آمدن ملتی ہے۔وہ کو ئی بڑا پروفیشنل انجینئر،ڈاکٹر ،بینکریا چارٹرڈاکاونٹنٹ20سالوں میں سعودی عرب ،دوبئی اور ابوظہبی میں نہیں کما سکتا۔اور بدامنی، دہشت گردی کی بنیاد یہی کرپشن ہے۔وطن عزیز پا کستان کے مو جودہ سیا سی سسٹم میں تمام سیا سی جماعتیں کر پشن سے طاقت حا صل کر تی ہیں ۔کروڑ ،ڈیڑھ کروڑ روپے جلسوں ،جلوسوں ،دھرنون،ریلیوں پر لگاتی ہیں ساراکرپشن کا مال ہو تا ہے4بار مارشل لاء آئے،کسی بھی مارشل لاء نے کر پشن کو نہیں روکا بلکہ اس میں مزید اضافہ کیا ۔کرپشن سے نجات کا کو ئی راستہ نظر نہیں آتا۔یہان کچھ لوگ انقلاب کی بات کر تے ہیں ۔مگر انقلاب نہیں آسکتا مذہبی طور پر ہمارے پاس ایک مذہب نہیں ہے13مذہبی فرقے ہیں سب مسلّح ہیں سب کی آپس میں دشمنی ہے۔مزدوروں اور کسانوں کی کو ئی تنظیم ،کوئی یونین کو ئی پارٹی ،کو ئی جماعت نہیں ہے۔اس لئے بلو چستان اور فا ٹا میں یہ آگ سلگتی رہے گی۔کرپشن کا ناسور اس آگ کو ایندھن فراہم کرے گا۔اور کر پشن میں کمی کا کو ئی امکان مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا ۔میرا دوست سچ کہتا ہے بلو چستان اور فا ٹا میں دو مسائل نہیں ہیں ایک ہی مسئلہ ہے۔اور مسئلے کا نام ہے کرپشن ،بدعنوانی ،بھتہ خوری ،جب تک یہ مسئلہ موجود ہے نہ بلوچستان میں امن ہوگا نہ فا ٹا میں امن ہو گا دونوں جگہ خوف ،بدامنی اور دہشت گردی کے سایے اس طرح منڈلاتے رہینگے۔یہاں وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔جس دن کے بارے میں فیض نے کسی سہانی صبح کو پیش گوئی کی تھی۔

اے خاک نشینو !اُٹھ بیٹھووہ وقت قریب آپہنچاہے

جب تخت گرائے جائینگے جب تاج اُچھالے جائینگے

اب ٹوٹ گرینگی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائینگے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔