تعلیم کی اہمیت اور دیامر

تعلیم کی اہمیت اور دیامر

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: نثار احمد اسحاق

اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد محضدولت کماکر امیر ترین لوگوں میں شامل ہونے کا نہیں۔بلکہ اس کا اصل مقصد ایک اچھا مہذب ایماندار، سنجیدہ انسان بننے کا ہے۔جو لوگ دولت کمانے کیلئے علم حاصل کرتے ہیں ان کے دل میں علم جگہ نہیں پاتا۔جو لوگ دنیا کمانے میں مشغول ہوجاتے ہیں ان کے اندر حیوانی خصلتیں آجاتی ہیں۔حیوانوں جیسا لالچ دل میں آجاتا ہے اور یہ لوگ جاہل، خود غرض اور قومی ہمدردی سے ناآشنا ہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں محض خدمت حلق کیلئے ان کے اندر انسانی خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ لوگ حصول علم کا صحیح مقصد کو جان لیتے ہیں اور یہ لوگ معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہے اور معاشر ہ ترقی کی راہ میں گامزن ہو جا تا ہے۔ اس معاشرے میں رہنے والے لوگ خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں۔اس فانی دنیا میں آنے کے بعد انسان حرص اور لالچ جیسی برائیوں میں مبتلا ہو جا تا ہے کہ اسے کیوں بھیجا گیا تھا۔ اس عارضی دنیا میں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں رہنے والے لوگوں کا جینا حرام ہو جاتا ہیں۔اس لئے ہمیں معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنانے کے لئے لوگوں کی صحیح تعلیم و تربیت پر زور دینا ہوگا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمار اگاؤں ہڈر کے لوگ جاہل، کاہل اور شرارت کے مطیع بن بیٹھے ہیں۔ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔معاشرے میں رہنے والے بچے گالی گلوچ کو ہر سانس کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کا معمول بن چکا ہے ۔ دن بہ دن نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ہمیشہ ایک دوسرے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور آخر کار نوبت قتل تک آجاتی ہے۔

ان تمام برائیوں کی جڑ ایک ہی چیز تعلیم سے دوری ہے اور محرومی ہے۔ہمارے بچے بہت ذہین ہیں مگر مستقبل کے ستارے اپنے بنیادی حق تعلیم سے محروم ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارا گاؤں ہڈردیامر کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر یہاں ایک ہی مڈل سکول لڑکوں کیلئے موجود ہے۔ اسں لئے یہاں کے اکثر بچے مڈل پاس کرنے کے بعد آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔8سال پہلے یہاں ایک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کے نام سے ایک سکول منظور ہوئی تھی مگر8سال گزرنے کے باؤجود بھی مکمل نہ ہوسکی۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ ترقی کرو تو میں وزیر تعلیم صاحب اور ذمہ داران افسروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کیسے کریں ترقی، ترقی کیلئے تعلیم بنیادی اکائی ہے۔مگر ہم اس زیور تعلیم سے محروم رہے ہیں۔لوگ اسی تعلیم کی بدولت ملک کے کناروں تک پہنچ گئے ہیں۔
میں نے اس چیز کو بہت پہلے محسوس کیا تھا مگر آج مجھے موقع ملا کیوں کہ میں اس وقت پری میڈیکل کا طالب علم ہوں۔ میں نے اپنا وقت نکال کر اپنے ان مسائل سے وزیر تعلیم صاحب اور تمام قابل احترام ذمہ داران کی یاد دہانی کیا تاکہ جلد از جلد ٹھوس اقدامات اُٹھاکر ان بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں۔اور دوسرا بڑا مسلہ یہ ہے کہ یہاں لڑکیوں کیلئے کوئی گورنمنٹ سکول یا کوئی نجی ادارہ موجود نہیں جس کی وجہ سے لڑکیاں ان پڑھ اور جاہل رہ جاتی ہیں۔ اس بات سے ہم انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ بچے کی ابتدائی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔کیونکہ باپ دن بھر گھر سے باہر ہوتا ہے۔اس صحیح تربیت میں صرف اور صرف ماں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اسلئے اگر ماں ان پڑھ اور جاہل ہو تو بچے بھی جاہل اور بد تمیز ہی بن جائینگے۔ ان ہی لڑکیوں نے ماں کا کردار ادا کرنی ہے۔اگر ان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جائے تو یہ جاہل اور ان پڑھ رہیں گیں اور صحیح تربیت نہیں دے سکیں گی۔

اس دور میں ایک بڑی آبادی کا تناسب تعلیم سے محروم رہنا وزیر تعلیم صاحب اور ذمہ داران پر سوالیہ نشان ہے؟
میں آپ جناب سے عرض کرتا ہوں کہ جلد از جلد لڑکیوں کیلئے ایک مڈل سکول کی منظوری دے کر اپنے روزی کو حلال اور عبادت کو قبول قرار دیں۔ہم قیامت کے اس مشکل گھڑی میں اپنا بنیادی حق طلب کرینگے۔یہ دنیا عارضی ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اللہ تعلیٰ غفور الرحیم ہیں وہ اپنے حقوق طوبہ معافی مانگنے سے بخش دینگے مگر بندوں کے حقوق کبھی معاف نہیں کرتے، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔مجھے امید ہے کہ اس پسماندہ گاؤں کا وزیر تعلیم خود دورہ کرینگے اور ان مسائل کا حل نکالینگے۔امیر لوگوں کے بچے شہروں میں جاکر تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر غریب والدین مشکل سے اپنا گزارہ کر رہے ہیں۔ تعلیم کی تڑپ سے ان کے دل لبریز ہیں مگر غربت سے چھٹکارا نہیں ملتا۔یہ بے بس ہیں۔اگر یہاں لڑکوں کیلئے ہائی سکول جلد از جلد تیار ہوجائے گی تو اس سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ گاؤں ترقی کریگا کیوں کہ دوسرے شہروں میں جاکر بسنے کی بجائے اپنے گاؤں میں ہی بچے تعلیم حاصل کرسکیں گے اور یہ پیسے گاؤں کے اندر ہی رہیں گے اور ترقی ہماری نصیب ہوگی۔اس وقت میں پری میڈیکل کا طالب علم ہوں میرے والد کا نام محمد نسیم ہے ۔میں وزیر تعلیم سے گزارش کرتا ہوں کہ اس وادی کا دورہ کریں تاکہ آپ خود محسوس کریں گے۔اور آپ خود رونے پر مجبور ہونگے۔ہمارا معاشرہ جہالت سے ڈوبا ہوا ہے۔علم روشنی ہے۔اس جہالت کو ختم کرنے کیلئے علم کی ضرورت ہے۔علم جہالت کا دشمن ہے۔ جیسی آگ پانی کا ۔سیکریٹری تعلیم ثناء اللہ صاحب نے ماشاء اللہ کافی اچھی کوشش کی ہے تعلیم میں بہتری لانے کیلئے۔زندگی میں پہلی مرتبہ ہمارے گاؤں ہڈر میں میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیاں ہوئے۔یہ ہمیں قابل فخر بات ہے کہ گلگت بلتستان میں سب سے کم عمروالا بالا افسر سیکریٹری تعلیم ثناء اللہ کا تعلق ہمارے گاؤں ہڈر سے ہے۔ سیکریٹری تعلیم صاحب ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تعلیم میں بہتری لانے کیلئے۔ہم جناب سیکریٹری صاحب کے بے حد مشکور ہیں۔ جناب سیکریٹری صاحب ملک پاکستان، گلگت بلتستان اور اپنے گاؤں ہڈر سے بہت پیار کرتے ہیں.

جب سے جناب سیکریٹری ثناء اللہ صاحب سیکریٹری تعلیم مقرر ہوئے ہیں۔تعلیمی نظام بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔جناب سیکریٹری صاحب ہر سکول کا دورہ کررہے ہیں۔اوردرپیش مسائل کو پورا کردیتے ہیں۔ہم جناب سیکریٹری صاحب کے لئے دعا گو ہیں کہ خدا انہیں عمر دراز عطا کرے۔ہڈر دیامر کے ہیرو جناب سیکریٹری صاحب کو ہر خطرے سے محفوظ رکھے۔آمین!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔