چترال: شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج

چترال: شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) چترال میں دودنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور پورے ضلع میں شدید برف پڑنے سے زندگی مفلوج ہو گئی ہے،آمدورفت مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے، بجلی کٹ گئی ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ بالائی چترال کے یارخون لشٹ ، بروغل اور گرم چشمہ بگوشٹ میں 40انچ ،لا سپور ، تور کہو ، موڑکہو میں 30انچ، چترال شہر میں 20انچ، کالاش ویلی بمبوریت میں 36انچ برف پڑی ہے۔ موڑکہو کے مقام گہت میں 10خاندان نے برف کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے ۔ ہفتہ کے روز شدید برفباری سے آمدورفت معطل رہنے کے سبب دفاتر میں حاضری انتہائی کم رہی اور لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ برفباری سے چترال شہر کے کئی مقامات پر گرے ہوئے درخت اور بجلی کی گری ہوئی تاریں رکاوٹ بنی رہیں اور لوگ پیدل چلنے میں خطرہ محسوس کرتے رہے ۔

لواری ٹنل ایریا میں بھی کافی برف پڑی ہے تاہم گذشتہ جمعہ کے شیڈول کے روز مسافر رات 2بجے چترال پہنچ گئے ۔ بالائی چترال کے علاقہ بروغل میں حالیہ برفباری سے پہلے ہی لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے اب وہاں حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں ۔ یارخون کے سابق ناظم اور چیرمین سی سی ڈی این محمد وزیر خان اور ویلج ناظم بروغل نے وفاقی ، صوبائی حکومت چیر مین این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سے فوری طور پر امداد کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نےکہا ہے کہ چترال شہر میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا تو ایسے میں چترال شہر سے 250کلومیٹر دور بروغل وادی میں لوگوں کی حالت کیا ہوگی۔

برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کو جلانے کی لکڑی کی اضافی ضرورت پڑ گئی ہے۔ جلانے کی لکڑی سمیت اشیاء خوردونوش منہ مانگی قیمت پر فروخت کئے جا رہے ہیں ۔ حالیہ برفباری کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے حوالے سے پہلے ہی خبردار کیا تھا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔