غذرکی معاشی وسیاحتی تنزلی کے اسباب

غذرکی معاشی وسیاحتی تنزلی کے اسباب

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 گلگت بلتستان کے اجتماعی ایشوز پر جب بھی قلم اٹھانے کی کوشش کی تو سوشل میڈیا کے دوستوں کی شکایات موصول ہوتی رہی کہ بھائی زرااپنے آبائی علاقے کی حالت زار پر بھی کچھ تو لکھ دیا کریں۔ بعض دوست نے توایک ایک کرکے عوامی مسائل کی نشاندہی بھی کی کہ اس گاؤں میں یہ مسئلہ ہے اس گاؤں میں وہ، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں نے ہربار انہیں یہ کہتے ہوئے ٹالنے کی کوشش کی کہ اگلے کالم کا انتظار کیجئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک کالم نگار دوسروں کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر لکھنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ دوسروں کی مدعا کو حکام بالا تک پہنچانا عام طورپر رپورٹرکاہی کام ہوتا ہے۔

اسی موقف پرقائم رہتے ہوئے میں نے جب بھی کسی علاقے کا دورہ کیا تو واپسی پروہاں کے مسائل کوسفرکی رودادکی شکل میں اجاگرکرنے کی ہرممکن کوشش کی اور آئندہ بھی یہ کوشش جاری رہے گی۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے کسی ذاتی کام سے آبائی گاؤں یاسین جانے کا اتفاق ہوا۔ راستے میں ایک جگہ چائے کے لئے رکے تو فیروزماموں نے سوال کیا کہ یہ غذر اس قدر خوبصورت علاقہ ہونے کے باوجود اس طرف سیاحوں کا رجحان کیونکر نہ ہونے کے برابر ہے؟

میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے عرض کیا کہ سیاحت کے لئے صرف خوبصورت علاقے کا ہونا ضروری نہیں۔ یہ خوبصورتی تو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، جس کا انسان جیتنا بھی شکراداکرے تو پھر بھی کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان یعنی ہمارا اپنے علاقے کے اس قدرتی حسن میں نکھارلانے کے لئے کیا کردار رہا ہے؟ ہم سے مراد ہم عوام، ہم سب جو اس حسین وجمیل علاقے کے وارث ہیں۔ میں نے بات کو مذید آگے بڑھاتے ہوئے ماموں سے کہا آپ کو گلگت سے درکوت اور گوپس سے شندورتک دس کلومیٹر کا راستہ ایسا نظر آتا ہے جس پر ڈرائیو نگ کرتے ہوئے بندہ سکون محسوس کرے، یا کوئی ایسا ہوٹل دیکھائی دیتا ہے جہاں پر ایک بندہ اپنی فیملی کے ساتھ خوشی اور اطمینان کے چند لمحات گزارے؟

ایک زمانہ تھا جب گلگت کے حالات خراب ہوکر کرفیولگ جاتا تھا تو ہم جیسے ہزاروں لوگ فوراً بھاگ کر غذر کارخ کیا کرتے تھے کہ یہ سب سے پر امن اور پرسکون جگہ ہے۔ اب آئے روزمیڈیا کے تواسط سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ غذر دہشتگردوں، تخریب کاروں، شرپسندوں، منافقوں اور منشیات فروشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ ایسی صورتحال میں جہاں غذر کے عبادت خانے اورفلاحی ادا رے کسی بھی ممکنہ خطرات سے محفوظ نہیں توہم جیسے عام لوگوں یا ملکی وغیرملکی سیاحوں کوتحفظ فراہم کرنے کی ضمانت کون دے سکتا ہے۔ اس سب سے بڑھ کر جس علاقے کے پشتنی باشندوں پر ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بن کر سی پیک جیسے عالمی اہمت کے حامل منصوبے کے خلاف سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہوتووہاں پر محب وطن سیاحوں کے قدم کیسے پڑسکتے ہے؟ یہ سب وہ عوامل ہیں جو غذرکی معاشی، سماجی، اقتصادی اور سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

چائے کے وقفے کے بعد ہم لوگ یاسین کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں چلتے چلتے جن مسائل کا جائزہ لیا ان میں گلگت غذر روڈ کی خستہ حالی، دیہاتی علاقوں میں واقع سڑکوں کی ناپختگی، کھنڈر نما رابطہ پلوں کے اثار، قدرتی آفات کی تباہ کاری، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، سکولوں، کالجوں اور دیگر سرکاری دفاتر کی خستہ حال عمارتیں، بجلی اورپانی کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرے ، جگہ جگہ قائم چیک پوسٹس پر جامع تلاشی، دکانوں میں خودساختہ مہنگائی اور دونمبراشیاء کی فروخت وغیرہ شامل تھے۔

ہم نے اوملست گاؤں جانا تھا، جو تحصیل یاسین کا آخری گاؤں درکوت سے متصل ہے ۔ درکوت کی طرح اوملست کے عوام بھی زندگی کی تمام تربنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہندورسے آگے پہلے سے خستہ حال سڑک پر اوپرسے برفباری کے باعث گاڑیوں کا چلنا محال تھا ۔ اس کے باوجود خدا خدا کرکے شام کو منزل مقصودتک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ اوملست میں رات گئے تک برفباری کا سلسلہ جاری رہا اور صبح تک تقریباً چھ سے آٹھ انچ برف زمین پر موجود تھی۔ اسی اثناء درکوت سے آئے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ وہاں پر تو برفباری دوفٹ سے بھی تجاوزکرگئی ہے ۔ شدید برفباری کے باعث درکوت کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے اور لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے ہیں۔

درکوت گاؤں کے بارے میں تو پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اس کا شمارگلگت بلتستان کے دورآفتادہ مگر انتہائی خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے۔ جس کی سرحدیں بروغل کے راستے چترال اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ درکوت گاؤں اپنے قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں کی سرسبزوشاداب وادیاں، گھنگناتی ندیاں، برف پوش پہاڑ ، رنگ برنگ کے گلیشئرز، سادہ لوح مگر جفاکش لوگ اس علاقے کی خوبصورتی کے عکاس ہیں۔

درکوت کی آخری سرحدپرواقع گرم چشمہ کی جسمانی تھکاوٹ اور جوڑوں کے دردکے علاج کے حوالے سے مقبولیت تو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے علاوہ درکوت گاؤں 1870کی دہائی میں رائل جیوگرافکل سوسائٹی آف لندن کے رکن ومعروف ریسرچر جارج ہیورڈ کا قتل گاہ ہونے کے سبب بھی عالمی سیاحوں اور ریسرچرزکی توجہ کا مرکز ہے۔ لیکن دشوارگزار راستہ اور قیام وطعام کے حوالے سے نامناسب انتظامات کے باعث یہ علاقہ سیاحوں کی نظروں سے اوجل ہے۔

اوملست میں دودن قیام کے بعد واپسی پر ایک رات سندھی میں اپنے والدین کے ساتھ بھی گزارنے کا اتفاق ہوا، جو کہ یاسین کے تاریخی مقام موڈوری قلعہ کے عقب میں واقع ہے۔ موڈوری جنگ میں ڈوگرہ فوج کی جانب سے مقامی لوگوں پر لشکرکشی اور بے شمار افرادکو بے دردی سے قتل کرنے کی داستان تو خود ایک بدترین تاریخ ہے ۔ مگربدقسمتی سے حکومت اور اثارقدیمہ کے اداروں کی عدم توجہی کے سبب ایک طرف موڈوری قلعہ کے اثار کھنڈرات کا منظرپیش کررہے ہیں تو دوسری طرف تحقیقی مواد کی عدم دستیابی کے باعث علاقے کی نئی نسل اس انسانیت سوز سانحہ سے ناآشنا ہوتی جارہی ہے۔

تاہم گرمیوں کے موسم میں ملکی وغیرملکی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد اب بھی اس المناک جنگ کے اثار کا جائزہ لینے موڈوری قلعہ کا چکرلگاتی ہے۔ موڈوری کا تاریخی قلعہ دیکھنے سیاح دور سے بخوشی اس علاقے کا رخ کرلیتے ہیں مگر واپسی پرموڈوری کی جانب واقع لنک روڈ کی حالت زار اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی پر حکومتی بے حسی کا رونا روکر چلے جاتے ہیں۔

بلاشبہ ضلع غذر اپنے قدرتی حسن کے اعتبارسے کسی جنت سے کم نہیں لیکن اس جنت کو اپنے ہی حکمرانوں نے جہنم بنا ڈالا ہے، چاہے وہ صوبائی حکومت ہو یا علاقے سے منتخب عوامی نمائندے یا پھر محکمہ سیاحت ہو یا نجی ادارے۔ المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی منتخب

نمائندے سوائے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اپنے حلقے کے لئے من پسند سکیمیں رکھوانے کی بھاگ دوڑ کے اور کچھ کرنے کا زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ اس میں بھی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی عزیز یا ووٹر کے گھرکی دہلیز تک رابطہ سڑک تعمیر کیا جائے یا پی ڈبلیو ڈی کی منت سماجت سے حلقے کے لئے دوچار سکیمیں رکھواکر اپنا کام تمام کرے۔ حالانکہ حکومت یا عوامی نمائندے کو علاقے کی مجموعی ترقی کی خاطر ہرطرح کے موقعوں کی تلاش ہونی چاہیے ۔ کاش ایسا ہوتا تو گلگت بلتستان بھر میں صدیوں پہلے تعمیر شدہ سرکاری ریسٹ ہاؤسز آج بھوت بنگالوں میں تبدیل نہ ہوتے!

سوال یہ ہے کہ جب ایک جنت نظیر علاقے کی سیاحتی ترقی کے لئے ذمہ دار حلقوں کی جانب کوئی اقدام اٹھاتا ہوا نظر نہ آتا ہو اور نوجوانوں کو سرکاری ملازمت کے متبادل روزگار کے مواقعے میسر نہ ہوں تو پھر اس علاقے کی معاشی ترقی کیسے ممکن ہوپائے گی؟ نتیجاً غربت کے ہاتھوں مجبور نوجوان کوئی منشیات فروشی کا دھندہ کرینگے توکوئی اسلحہ اوربارودی مواد اٹھاکر نقص امن میں خلل ڈالنے کا سبب اور کسی کو را کے ایجنٹ ہونے کا خطاب ملے گا۔ اوپر سے انتظامیہ کے افسران کی جانب سے ان ایشوز پر پریس کانفرنسز کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں تو کون پاگل کا بچہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سیاحت کسی غرض سے کسی غیرمحفوظ اور تمام تر سہولیات سے محروم علاقے کا رخ کریگا؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔