چلاس: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف مظاہرہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال، مطالبات کی منظوری کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیدی گئی

چلاس: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف مظاہرہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال، مطالبات کی منظوری کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیدی گئی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان) بجلی کی ظالمانہ طویل لوڈشیڈنگ اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ، ٹارگٹڈ سبسڈی کے فیصلے کے خلاف عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ،زبردست احتجاجی مظاہرے ،ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی گئی، بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال صوبائی حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیدی گئی۔ دیامر یوتھ موومنٹ کی کال پر چلاس شہر میں پورا دن مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جبکہ سڑکیں بند ہونے سے پہیہ بھی جام ہو گیا۔ صدیق اکبر چوک چلاس میں احتجاجی جلسے سے دیامر یوتھ موومنٹ کے راہنماؤں شبیر احمد قریشی، حاجی مبین شاہ،سید امان بوٹو، حبیب الرحمان،نذراللہ ،شریف شاہ،طاہر ایڈوکیٹ،قاسم شاہ،احمد شاہ،انضمام الحق و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔گورنمنٹ کی رٹ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں صحیح انداز میں سر انجام نہیں دے پا رہے ہیں۔ اور نہ ہی آفیسران اپنی ڈیوٹی عوامی خدمت کے مطابق سر انجام دے رہے ہیں۔ہر جگہ کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے اکتا چکے ہیں بجلی کی عدم فراہمی سے تمام معاملات متاثر ہیں۔بجلی نہ ہونے سے بیروزگاری میں اضافہ اور گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔مزید اندھیرے میں نہیں رہیں گے۔حکومت کی ذمہ داری ہے وہ عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائے۔عوام پر بے جا ٹیکسز عائد کر کے ان کی ہی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے مگر اس کا عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔صحت کی سہولیات سمیت پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور اوپر سے اب گندم کی نرخوں میں اضافہ کر کے عوام کے منہ کا نوالہ چھیننے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور دیامر کو تمام تر ترقیاتی منصوبوں میں بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

احتجاجی مظاہرین نے اتفاق رائے سے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ دیامر سے بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے جمود کا شکار اور زیر التوا منصوبوں کو فوری مکمل کروایا جائے جن میں آٹھ سالوں سے بٹو گاہ،کھنر،کھنبری،رائیکوٹ،گیس پائین اورتھک پاور ہاؤس التوا کا شکار ہیں۔ان منصوبوں کے کام کی رفتار مزید تیز کر دی جائے اور جو ٹھیکیدار ایڈوانس رقم لے کر محکمہ کی ملی بھگت سے کام نہیں کر رہا ہے محکمہ کے آفیسران سمیت ٹھیکیداروں کے خلاف بھر پور کاروائی عمل میں لائی جائے۔مزید پاور ہاؤسز کے قیام کے لئے فی الفور منصوبہ بندی کی جائے۔صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ اربوں روپے کے منصوبوں میں دیامر کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔دیامر کے ساتھ مزید ظلم و نا انصافی بند کر دی جائے اور دیامر کو میگا منصوبوں میں اسکا حق دیا جائے۔گلگت شہر کے سیوریج سسٹم پر اربوں روپے PSDPفنڈز کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب دیامر میں انسانی بنیادی ضروریات بجلی پانی صحت اور تعلیم جیسے منصوبوں سے دیامر کو محروم رکھنا صوبائی حکومت کی محب وطن شہریوں کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کو دشمنی سمجھتے ہیں۔صوبائی حکومت ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں میں منصفانہ تقسیم کے عمل کو یقینی بنائے۔صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور ٹارگٹڈ سبسڈی کے اعلان کو مستردکرتے ہیں اور ان اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔صوبائی حکومت کا یہ اقدام غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔گندم کی سبسڈی بحال رکھی جائے اور گندم کی ترسیل اور تقسیم میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور گھپلوں سے محفوظ رکھا جائے۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ ایک ہفتے تک مطالبات پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا تو اہالیان دیامر بھر پور احتجاجی تحریک چلائینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔