مقام عورت قبل نو اسلام/مابعد

مقام عورت قبل نو اسلام/مابعد

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:ادیب افضل گوری/بونجوی
کلیم ارحمن بونجوی کی رہنمائی میں

اسلام کی آمد سے پہلے انسانیت کی زندگی ظلم و جبر اور جہالت کے شکنجے میں بری طرح دھنسی ہوئی تھی۔لوگ ایک دوسرے کے قدر و منزلت نہیں جانتے تھے۔معمولی باتوں میں قتل و غارت ہوتا تھا اور دولت مند طبقہ دولت کے نشے میں آکر غریبوں اور مسکینوں پر ظلم کے پہاڑ پھوٹ ڈالتے ۔اس وقت خاندانی رنگ و نسل نے بڑی ذور پکڑی ہوئی تھی۔مختلف قبائیلوں کے درمیان معمولی باتوں پر لمبے عرصے تک دشمنی ہوتی تھی اس زمانے میں غرور کھمنڈ کا انتہا تھا۔طاقت ور لوگ مظلوم لوگوں کو زبردستی غلام بنالیتے اور ساتھ ہی غلاموں ہی سے برا سلوک کرتے تھے۔ بدسلوکی اور بدکرداری اس زمانے میں بڑی وسعت اختیار کی ہوئی تھی۔اس سے بڑھ کر یہ عورت کہ عزت اس زمانے میں کوئی نام کی چیز نہیں تھی۔عورت ایک لونڈھی کی طرح زندگی بسر کررہی تھی۔ان کو اصل طریقے سے جینے کا حق حاصل نہیں تھا۔اس وقت کے لوگوں میں غیرت اس حد تک گر چکی تھی کہ کوئی اپنی ماں کو ماں نہیں کہتے نہ بیٹی کو بیٹی اور نہ بہن کو بہن۔مگر ان بدبخت کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس کو بھی کسی نہ کسی عورت نے جنم دیا ہے۔تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمانہ جہالت میں لوگ اپنے بیٹیوں کو زندہ درگزر کرتے تھے اور اس دور میں عورت مرد کی خواہشات نفسانی کی علامت بن کر رہ رہی تھی دوسری طرف بازاروں اور مارکیٹوں میں حسن و جمیل عورتوں کو کھڑا کرکے برے خواہشات کا نشانہ بنیایا جاتا تھا۔اس طرح عورت مرد کی محض حوس کی علامت بن کر جی رہی تھی۔اس زمانہ جہالت میں اللہ تعلیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کو بھیجا تاکہ وہ لوھوں کی رہنمائی کریں آپﷺ کی آمد کے بعد لوگوں کو خد عملی نمونہ بن کر دائرہ اسلام کی طرح بلایا۔اور لوگوں کے برے ازیان کی صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اللہ تعلی کی ہبت اور قیامت کے دن میں ہونے والی جزا اور سزا سے ڈراتے تھے۔ آپﷺ ساری جہانوں اور اس میں بسنے والے تمام جانداروں کیلئے رحمت بن کر بھیجا گیا آپﷺ نے عورتوں کی خراب حال زندگی کو دیکھا اور لوگوں کو باور کرایا کہ عورت کو کم تر سمجھنے والو! عورت وہ ذات ہے جس کو آپ کی بہن کہا جاتاہے عورت وہ جس کو آپ کی بیٹی کہا جاتا ہے اور عورت وہ ذات ہے جس کو آپ کی ماں کہا جاتا ہے۔یہ سن کر لوگوں کی غیرت تھوڑی جھاگ گئی لوگ عورت کی عزت کو جانچ پڑتال کرنے لگے۔آپﷺ نے اس سے بڑھ کر فرمایا”ماں کے قدموں تلے جنت ہے”آج اس جنت کی طلب میں پوری دنیا ہاتھ پاؤں مار رہی مگر میرے آقا نے چودہ سو سال پہلے اسی جنت کو ‘ماں’کے قدموں تلے ہونے کی نویدسنادیا تھا۔آج ایک اللہ کے ولی پوری زندگی عبادت اور اچھے اعمال میں صرف کردیتا ہے اسی جنت کیلئے آج کا زمانہ اس حدیث کو بھول چکا ہے یا وہ جان بوجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہیں مگر یاد رکھنا کہ جس نے اس حدیث کو پڑھا اور اس پر عمل کیا تو یقیناََدونوں جہانوں کی کامیابی ان کی قدم چومے گی۔میں کارئین کو ایسے واقعے کی فرف متوجہ کرانا چاہتا ہوں جس میں ایک شخص نے ابوجہل کے دور میں اپنی بیٹی کو دفنا دیا تھا جب اس کی بیٹی لگاتار اسکو 40دن خواب میں آگئی اور ان کو پریشان کرنے لگی تو وہ شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔یا رسولﷺ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے ایسا گناہ جو آسمان، زمین اور پوری کائینات سے بڑا ہے۔رسولﷺپوچھتے ہیں کہ تم نے چوری کی ہے اس نے نہیں میں جواب دیا پھر عرض فرمایا کہ تم نے ذِنا کی ہے اس نے نہیں میں جواب دیا۔پھر آپﷺ عرض فرماتے ہیں کہ کونسا ایسا کناہ جو آسمان سے بھی بڑا ہو؟ زمین سے بھی بڑا ہو اور پوری کائنات سے بھی بڑا ہو۔اس شخص نے ٹھنڈی سانس بھر کر سارا واقع سنادیا۔یا رسولﷺ میں ابوجہل کا پیروکار تھا کہ ایک دن میرے گھر میں بچی پیدا ہوئی۔ابوجہل کا حکم تھا کہ کوئی لڑکی پیدا ہوئی تو اسے زندہ درگزر کیا جائے۔بچی ہمیں بہت اچھی لگتی تھی۔جب بچی بڑی ہوئی اور چلنے پھرنے لگی ہم میاں بیوی نے فیصلہ کردیا کہ بچی کو نہیں دفنائیں گے۔جب میں گھر سے باہر ہوکر اند آتا تو بچی میرے سینے سے لگ جاتی تو میری ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی تھی۔ایک دن ابوجہل میرے گریباں پکڑا اور کہنے لگا کہ تمہارے گھر میں لڑکی ہے تو اسے نہیں دفنایا آج ہی میری پولیس آئیں گی اور اس کو خد اپنے ہاتھوں سے دفنائیں گے۔تو اچھا ہوگا تم خد اس کو دفنا دو۔میں نے وعدہ کرلیا اور گھر میں آکر اپنی بیوی یعنی بچی کی ماں کو کہنے لگا کہ آج بچی کو تیار کرو ادے اسے میں تمہارے بھائی یعنی بچی کے ماموں کے ہاں رکھ دیتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابوجہل کی فوج اس کو ذبح نہ کرڈالیں۔بچی کی ماں اس کو نہلا کر اس کے کپڑے بدل دی اس کے آنکھوں میں سرمہ لگادی اور بچی کو سینے سے لگا کر چومتی ہوئی اس کو رخصت کردی۔بیوی ابھی تک اسی گمان میں تھی کہ بچی کو میرے بھائی کے گھر لے جایا جارہا ہے۔میں نے گھنٹی جو دروازے کے پیچھے تھی۔بچی کو اٹھا کر پہاڑوں کی طرف لے گیا ایک جگہ میں آکر بچی کہنے لگی۔ابّا جان مجھے کہاں لے جارہے ہومیں نے کہا کہ آپ کے ماموں کے پاس۔بچّی نے کہا کہ اس پہاڑ میں تو میرے ماموں کا گھر نہیں تو میں نے اس کے منہ پر تماشہ مار کر خاموش کرایا۔جب بچی کو دور پہاڑ کے پیچھے لے جاکر قبر کھودنا شروع کردیا۔بچی پوچھنے لگی کہ ابّا جان کیا کررہے ہو؟میں نے جھوٹ موٹ کا سہارا لے کر بچی کوخاموش کرالیا جب میں قبر کھود رہا تھا تو بچی شانہ بشانہ میرے ساتھ قبر کھودنے لگی۔اس معصوم جان کو ابھی تک یہ پتا نہیں تھا کہ یہ ان کے لئے کھودا جا رہا ہے۔ جب قبر تیار ہو گئی ۔ بچی کو میں نے قبر کے اندر رکھ دیا۔بچی چیخنے لگی اور کہنے لگی کہ اے ابا مجھے چھوڑ دے میں آپ کے گھر کبھی نہیں آؤنگی۔ آپ ہی بتا دے کہ میراقصور کیا تھا۔مجھے بتا دے کہ میں نے آپ کے حق میں کیا گُستاخی کی۔آپ مجھے چھوڑ دے، میں کبھی تیرے گھر نہیں آؤنگی اور ساری عمر اس پہاڑ میں رہ کر گزار دونگی۔بچی قبر میں ایسی تڑپ رہی تھی کہ جیسے مچھلی بغیر پانی کے تڑپتی ہے۔کیونکہ میرے دل میں ابوجہل کا ڈر تھا۔بچی تڑپ رہی تھی، میں نے اس کے سینے میں ایک بڑا پتھر رکھ دیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی صدا بند ہو گئی۔یہاں تک سُن کر آپؐ کے آنکھوں مبارک سے آنسوں بہنے لگے۔آپؐنے رو کر اُس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اے نوجوان تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔تم نے زمین ہلا دی۔تم نے پوری کائنات کو ہلا دیا۔جب وہ بچی رو رہی تھی تمھیں ترس نہیں آیا۔جب وہ تڑپ رہی تھی تم نے ہاتھ کیوں نہیں روکا۔پھر وہ شخص اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ جب سے میں نے بچی کو دفنا دی، اُس روز سے لیکر آج تک مجھے نیند نہیں آرہی ہے۔آج چالیس دن ہوئے ہیں کہ وہ بچی بار بار خواب میں ملتی ہے اور کہتی ہے کہ اے ابا قیامت کا دن ہوگا رسول اللہ کی عدالت ہوگی میرا ہاتھ اور تیرا گریباں ہوگا۔یا رسول اللہ آج میں تیرے در پر آیاہوں۔مجھے اس بڑے گناہ کی معافی مل سکتی رسولﷺ رورو کرکہ رہے ہیں اے نوجوان مجھے رحمت اللعمین بنا کر بھیجا گیا ہے۔میں اس گناہ سے بھی بڑھ کر رحمت لے آیا ہوں ۔آج تو سچے دل سے میرا کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلے گا تو قیامت کے دن میں آپ کیلئے معافی کی چادر بچھادونگا۔ان نوجوان نے سچے دل سے اسلام قبول کرلیا اور پھر دوسرے دن آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے وہ خواب آنا بند ہوگئے ہیں۔

آج کے زمانے میں عورت مکمل آزاد ہے خاص کر ایک مسلمان عورت اپنے پردے میں رہ کر دنیا کے ہر جائز کام سرانجام دے سکتی ہے۔اسلام نے عورت کیلئے ٹھوس ٹھوس حقوق رکھی ہوئی ہے۔جن کو ادا نہ کرنا اصول اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ ایک بڑا حق عورت کو ان کی شوہر کے نکاح میں آنے کے بعد اس کو حق مہر ملتا اسلام نے ماں کے دودھ کی طرح حلال قرار دیا ہے۔آج غیر مسلم دنیا اس بات کی اعتراف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اسلام نے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ایسا بڑا مقام آج کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ہمیں اللہ تعلی کا شکر ادا کرتے ہوئے حضرت محمدﷺ پر درود و سلام بھیجنا چاہئے کہ اس مبارک ذات نے ہمیں جہالت کے دلدل سے نکال کر انسانیت کی راہ دیکھا دی۔ قرآن مجید میں اللہ تعلی فرماتے ہیں “بے شک نفس عمارہ برائی کی طرف لے جاتی ہے” لیکن اللہ تعلی نے انسان کو عقل و فہم سے نوازا ہے کہ وہ اپنے دماغی صلاحیتوں کو بھول کر شیطانی افعال سے باز آئیں اور ہر عورت کو اپنی ماں، بہن یا بیٹی کی طرح دیکھے تاکہ معاشرے میں برائی جنم نہ لے سکیں۔آخر میں قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ مندرجہ بالا تحریر میں اگر کوئی بات اچھی نہیں لگی یا تحریر میں کوئی غلطی موجود ہو تو بحیثیت طالب علم جماعت (11)کی طرف سے معزرت خواہ ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔