حالیہ برفانی آفت اورسیاسی دعوؤں کے تناظر میں چند گذارشات

حالیہ برفانی آفت اورسیاسی دعوؤں کے تناظر میں چند گذارشات

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عباد اللہ، جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی چترال

 

حالیہ بھاری برفباری اور برفانی تودوں کیوجہ سے بہت سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک افسوسناک سانحہ ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی قائدین اور ضلعی کارکنان اس سانحے میں وفات شدگان کی مغفرت ، زخمیوں کی شفایابی اور بے گھر خاندانوں کی بحالی کے لئے دعاگو ہیں۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ اس سانحے میں وفات شدگان کے لواحقین کو معقول معاوضہ کے علاوہ زخمیوں کے علاج و معالجے اور بے گھر خاندانوں کی مناسب اور فوری بحالی کاضروری بندوبست کیا جائے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان ، متاثرین کے غم اور دُکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔

اس مشکل وقت اور مشکل حالات میں پاک فوج نے فوری امدادی سرگرمیوں میں جو بھر پور کردار ادا کیا وہ انتہائی قابل تحسین ہے ۔ پوری قوم پاک فوج کے آفسروں اور جوانوں کو سلام و عقیدت پیش کرتی ہے ۔ پاک فوج ہرمشکل کڑی میں بروقت اور گراں قدر خدمات کی بدولت متاثرین کو مشکلات سے نکالنے کا اہم فریضہ انجام دیتے آئے ہیں۔

دوسری طرف سیاسی منظر نامے میں ہماری 6 سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی سطح پر حکمرانی میں شامل نظر آتی ہیں مگر وہ اپنی جھوٹ پر مبنی بیانات ، من گھڑت دعوؤں اور کھوکلے اعلانات سے اپنی سیاسی دُکانداری چمکانے میں مصروف ہیں۔ دُور آفتادہ علاقوں کی زمینی روابط کی بحالی دور کی بات ہفتہ بھر گزرنے کے باؤجود چترال شہر کے اندر سڑکیں پوری طرح بحال نہ کرسکے ۔ یہ بھی عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی صاحب کی مہربانی کہ اس کے عطیہ کئے ہوئے بھاری ٹریکٹرز کام آئے۔ اگروہ بھی نہ ہوتے تو ہمارے سیاسی راہنما اپنی بچی کچھی ساکھ بھی بچانے کے قابل نہ ہوتے ۔ جناب امیر حیدر خان ہوتی صاحب کے اور بھی بڑے احسانات ہیں جن کو چترال کے احسان شناس لوگ دل سے مان چکے ہیں اور برملا اظہار بھی کرتے ہیں مگر ہمارے محترم ایم پی اے صاحب ماننے کو تیار نہیں اور حالیہ دور میں اپنی ناکامی چھپانے کیلئے جناب ہوتی صاحب کی مہربانیوں کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اپنا قد اُونچا کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ ایک ریڈیو بیان میں وہ بڑی ڈھٹائی سے اُن ٹریکٹروں کوبھی اپنے کھاتہ میں ڈالا جوکہ سراسر احسان فراموشی ہے ۔ موصوف کی خدمت میں مشورہ ہے کہ اپنے حالیہ تقریباً چار سالہ دور میں جو قابل ذکر کارنانے انجام دیا ہو وہ قوم کو بتائیں ۔ FM ریڈیو پر آپ کے دعوؤں پر یقین کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔ FM 97 کی مد ح خوانی کاسہ لیسی شاید ہی آپ کی مقبولیت میں کوئی اضافہ کرسکیں ۔ FM-97 ریڈیو کے ذمہ داران سے یہ درخواست ہے کہ اگر آپ کو عوامی ذرائع ابلاغ ہونے کا دعویٰ ہے تو اپنے آپ کو صرف بااختیار طبقوں کی مدح خوانی اور کاسہ لیسی سے نکال کر دوسروں کو بھی اپنی باتیں کہنے کا موقع دیں۔
یہ عجب زبان بندی ہے تیرے محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زبان میری

ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ جناب ہوتی صاحب کے عطیہ کردہ ٹریکٹرز جو ابھی تک غائب تھے بتایا جائےکہ ان سے کونسا فلاحی کام لیا گیا ۔ اگر دیگر نجی کاموں کے لئے ان کو استعمال کیا گیا تو کن مقاصد کے لئے اور کتنا آمدن پیدا ہوا۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ سرکاری اثاثوں کو نجی اور غیر فلاحی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ منتخب نمائندگان کو یہ مشورہ ہے کہ اس قسم کی قدرتی آفات سے پیدا شدہ حالات کامقابلہ کرنے کے لئے پیشگی انتظام کا بندوبست ہو ۔ مشکل صورتحال درپیش ہونے کے بعد واویلا مچانا بالائی حکومتوں سے مطالبات کی بھرمار کرنا اور عوام کو طفلی تسلیاں دینا دانشمندی نہیں اور ان ہتھکنڈوں سے سیاسی ساکھ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔