عوامی رائے لئے بغیر سگسل داس پر سیکشن چار لاگو کرنا ظلم کی انتہا ہے، عمائدین

عوامی رائے لئے بغیر سگسل داس پر سیکشن چار لاگو کرنا ظلم کی انتہا ہے، عمائدین

48 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(رپورٹر) چلاس گونر فارم میں گوہر آباد کے عوام کا ضلعی انتظامیہ اور واپڈا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ۔مظاہرے میں گوہرآباد ،گونرفارم،گیس بالا ،گیس پائن،کھتلوٹ،رائیکوٹ،دڑن اور دیگر علاقوں سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین ڈیم گوہر آباد کے سرکردہ رہنماوں مولانا عبدالروف،نمبردار گل میر،نوشاد عالم،طارق ابرار،نمبردار شکور رحمت،ڈاکٹر بختاور،حاجی ریحان ودیگرنے کہا کہ دیامر کے ضلعی انتظامیہ نے گوہرآباد کے عوام سے پوچھے بغیر سکسل داس میں سیکشن ۴ لگا کر عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی مائی کا لعل عوام سے پوچھے بغیر ہماری ملکیتی ارضیات کا سودا نہیں کر سکتا ہے ،بغیر اجازت ضلعی انتظامیہ اور واپڈا کا کوئی اہلکار یا ملازم گوہر آباد کے داس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا ۔ ضلعی انتظامیہ اور واپڈا نے ہمیں مزاق سمجھا ہے ،اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ،انتظامیہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنا قبلہ درست کرے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ اور واپڈا حکام متاثرین ڈیم کے ساتھ مخلص ہیں تو متاثرین کو پاکستان کے کسی شہر میں ماڈل ویلیج بناکر بسائے۔ضلعی انتظامیہ اور حکومت متاثرئن مزید مسائل پیدا کررہے ہیں اور لوگوں کے مابین انتشار پھیلا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گوہر آباد کے زمینوں کو مفت میں لیا گیا ہے اور بیرون لائن زمینوں کی پے منٹ تک نہیں کی گئی ہے ،یہ کہاں کا انصاف ہے ڈیم کیلئے قربانی ہم دے رہے ہیں اور حکومت ہمیں نظر انداز کررہی ہے ۔اگر آج ہم اپنے حقوق کے حصول کیلئے نہیں لڑیں گے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ضلعی انتظامیہ ہمیں امتحان میں نہ ڈالیں اور فوری سگسل داس سے سیکشن فور کو ہٹا دیں ۔انہوں نے کہا کہ 15مارچ تک اگر انتظامیہ اور واپڈا حکام نے گوہر آباد کے عوامی مسائل اور سگسل داس سے سیکشن فور نہیں ہٹایا تو عوام شاہراہ قراقرم بلاک کریں گے ،جس کی تمام تر زمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔