قصہ حاکم وقت  قاضی وقت اور مظلوم عورت کا

قصہ حاکم وقت قاضی وقت اور مظلوم عورت کا

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بنام حاکم وقت گلگت بلتستان اور قاضی وقت گلگت بلتستان

تحریر علی شیر

سلطان غیاث الدین کا دور حکمرانی (1366ء تا1377ء) بنگال کی مسلم سلطنت کا سنہری دور تھا۔ سلطنت میں ہر طرح امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ سلطان غیاث الدین اعلیٰ پایہ کا منتظم ، عالم با عمل تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ سلطان دفاع سلطنت سے ہرگز غافل نہ تھا۔ موقع بہ موقعہ جنگی مشقوں کا انعقاد بھی سلطان کے طریق جہانبانی میں شامل تھا۔ ایک دن تیز اندازی کی مشق ہو رہی تھی۔ سلطان نے بھی نشانہ باندھ کر کئی تیر چھوڑے ، ناگاہ ایک تیر کا نشانہ خطا ہو گیا اور یہ تربیتی احاطے سے باہر جا گرا۔ اتفاق سے یہ تیر ایک غریب عورت کے بچے کو لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔سلطان کو اس حادثے کی خبر نہ ہوئی اور مشق مکمل ہونے کے بعد تھکا ماندہ اپنے عملے کے ساتھ قصر شاہی کی طرف کوچ کر گیا۔ قاضی شہر (City Judge) قاضی سراج الدین دن بھر کی عدالتی کام کاج کو سمیٹ کر اُٹھنے ہی والے تھے کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک کمزور خاتون حاضر ہو گئی اور قاضی صاحب سے فریاد کی کہ ’’قاضی صاحب ، میں ایک بیوہ ہوں بادشاہ کے تیر سے میرا لخت جگر ابدی نیند سوگیا، ازروئے قانونِ شریعت میری داد رسی کیجئے ‘‘۔ قاضی صاحب کچھ دیر کسی سوچ میں پڑ گئے اور پھر ایک درہ مسند قضا کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔ جوابِ دعویٰ کے ساتھ حاضر ہونے کے لئے سلطان کے نام سمن جاری کر دیا۔ عدالت کے حکم کی تعمیل کرانے کے لئے ایک پیادے کو روانہ کر دیا۔ پیادہ قصر شاہی کے حدود میں داخل ہوا تو اس کو اندازہ ہوا کہ بے پناہ مصروفیت کے باعث اس وقت بادشاہ تک رسائی آسان نہیں ہے ۔پیادے نے بلند آواز سے اذان دینی شروع کر دی۔ بے وقت اذان سن کر بادشاہ نے موذن کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ موذن کو حاضر کیا گیا تو بادشاہ نے بے وقت اذان کی وجہ دریافت کی۔ پیادے نے عدالت کا پروانہ پیش کر دیا اور کہا ’’مجھے سلطان کو محکمہ عدلیہ میں حاضر کرنے کا حکم ملا ہے ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ قصر شاہی کا عملہ اس وقت سلطان تک رسائی نہ دے گا ، اس لئے یہ حیلہ اختیار کیا۔ سلطان فوراً اٹھا ایک چھوٹی سی تلوار بغل میں چھپا کر عدالت کی طرف چل پڑا۔ قاضی سراج الدین کے سامنے پیش ہوا، قاضی صاحب نے تعظیم تو کجا سلطان کی طرف التفات تک نہ کیا۔جیسے کہ اس کو جانتے ہی نہ تھے ۔فریقین کے بیان لئے اور فیصلہ صادر کیا۔ سلطان غیاث الدین پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا ،از روئے قانون شریعت سلطان کو قصاص میں قتل کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ البتہ سلطان کو موت وزیست کا فیصلہ مشتغثہ کی مرضی پر منحصر ہے ۔ سلطان غیاث الدین نے ملزموں کے کٹہرے میں اپنے خلاف سنائی گئی سزائے موت کو سر جھکائے تسلیم کیا۔ یہ منظر دیدنی تھا، سلطان ایک لاچار ملزم کی حیثیت سے محکمہ عدلیہ میں اس پرندے کی طرح بے یار و مددگار تھا جسے ذبح کرنے کی غرض سے کسی پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ مستغثہ ممتا کی ٹیس کی وجہ سے سلطان پر خشمگیں نظریں گاڑی ہوئی تھی۔ سب کو لگا کہ سلطان اب تھوڑی دیر کا مہمان ہے اور جر م کی پاداش میں اس پر حد شرعی لاگو ہونے والی ہے ۔ اِدھر قاضی صاحب فیصلہ سنانے کے بعد اس انتظار میں تھے کہ اگر فریقین کے بیچ شریعت میں دی گئی رعایت کے پیش نظر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو ٹھیک نہیں تو سورج ڈوبنے سے پہلے سلطان کو جلاد کے حوالے کر دیا جائے ۔ سلطان کی لاچاری اور کسمپرسی کو دیکھ کر یکایک خاتون کا دل بھر آیا اور اس نے خون بہا کے عوض سلطان کو موت کے بے رحم شکنجے سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ قاضی صاحب کو اطلاع دی گئی کہ مستغثہ سلطان کی جان بخشی کے لئے تیار ہو گئی ہے ۔ قاضی صاحب نے مستغثہ سے پوچھا ’’ کیا تو راضی ہو گئی ؟‘‘ جواب ملا ’’ سلطان کی لاچاری دیکھ کر میں نے اس کی جان بخشی کا فیصلہ کر لیا ‘‘۔ پھر دریافت کیا ’’کیا اس عدالت سے تو نے داد پائی ‘‘۔ مستغثہ نے جواب دیا ’’ قاضی صاحب میں آپ کی عدالت سے بھر پور داد پائی ‘‘۔ مقدمے سے فراغت کے بعد قاضی سراج الدین نے خندہ پیشانی سے سلطان کی تعظیم کی اور اس کو مسند پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل میں چھپائی ہوئ تلوار نکالی اور بولا ’’قاضی صاحب میں شریعت کی پابندی کی خاطر آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اگر آپ قانونِ شریعت کی سرمو خلاف ورزی کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن اُڑا دیتا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ نے منصب قضاء کا پورا حق ادا کر دیا‘‘۔ قاضی شہر قاضی سراج الدین نے مسند کے نیچے چھپایا ہوا دُرہ نکالا اور فرمایا’’ اے سلطان! اگر آ ج آپ شریعت کی حد سے ذرا بھی تجاوز کرتے تو اس دُرے سے آپ کی کھال اُتار دیتا آج ہم دونوں کے امتحان کا دن تھا‘‘۔
یہ تھے ہمارے اصلاف اور آج ہماری طرز حکمرانی بھی ملاحظہ کیجئے

افسوس کے حاکم وقت گلگت بلتستان کے عظیم در و دیوار کے باہر ان کی حکمرانیت تلے مظلومیت بے کسی کی یہ داستان کسی کو بھی نظر نہ آئی

بہترین کمرہ کی آرام دہ کرسی میں براجمان خادم اعلی کے  درباری – سیکرٹریز . مشیران و انکے وزرا  اندھے یے یا پھر ان کی ریاست میں بسنے والے یہ شہری  اداکار ہے

حاکم وقت ان کے رفقاہ اور گلگت بلتستان کے معتبر اقدار کے حامل معاشرے کے صاحب استطاعت حضرات سے فقط اتنا کہونگا کہ
‏ہمارا تمہارا خدا بادشاہ – اورجب اسکی پکڑ ہوتی ہے توشہنشاہوں کودفن ہونے کی جگہ بھی نہیں ملتی –
شاہ ایران کو بھول گئے کیا ؟
کورٹ میں برا جمان معتبر ججز کو منصف کہا جاتا ہیں اور “منصف” خالق کائنات کی ایک صفت ہیں اس صفت کو پامال نہ کیا جائے آپ کیون بھول جاتے ہوں

اس حکم کو کہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہوں چاہیے اس فیصلے سے اسمان ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے کیا آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں یا جس آئین کے آپ محافظ ہیں کیا وہ آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ شہریوں کے حقوق کے حوالے سے شہریوں سے براہ راست پوچھ سکے؟

بے کسی کی یہ تصویر جس میں ایک ماں دیکھائی دیتی ہے وہ ماں جسکی فضیلت یہ ہیں کہ رب کائنات نے جنت اس کے قدموں تلے رکھی اس عظیم ہستی کے ساتھ آنے والا گلگت بلتستان کے کل کے معمار خادم اعلی کے عارضی عالیشان گھر کے دروازے پہ منتظر کہ کب بلاوا آئے گا کب سنا جائے گا کب دادرسی ہوگی

گلگت بلتستان کے معاشرتی و سماجی روایات و اقدار بہت معتبر ہیں ایسے معاشرے میں اسطرح کے واقعات بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں

انسانوں سے معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ انسان بنیادی اس کی اکائی ہے۔ انسان کو معاشرے کی ضرورت ہے اور معاشروں کو انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ آزادانہ ارتقا پاتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔آزاد معاشروں کی بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان دوست ہوتے ہیں۔
آزاد معاشرے متعصب نہیں ہوتے بلکہ ان کا حسن تنوع پسندی میں ہوتا ہے۔ معاشرے متوازن رہیں تو ان سے ان گنت امکانات پھوٹتے ہیں جن سے ترقی و خوشحالی کا سفر روشن رہتا ہے۔ توازن کھو جائے تو معاشرے ویران ہونے لگتے ہیں۔ جس طرح فرد کا حسن اس کی آزادی و خوشحالی میں ہے بالکل اسی طرح انسانوں سے وجود میں آنے والے معاشروں کا حسن بھی آزادی و خوشحالی میں ہی ہیں

سیاست میں توازن کے لئے انسانی سماجی ارتقا نے اب تک ہمیں جو بہترین متبادل دیے ہیں ان میں ایک جمہوریت ہے یعنی شہریوں کا حقِ انتخاب۔
اسی جمہوریت میں تمام شناختوں کا معاشرے میں احترام مقدم ہے اور ریاست تمام شناختوں کی نمائندہ ہے۔ کامیاب سیاست کو متحرک اور ہوشیار سول سوسائٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو شخصی آزادیوں، مساوات اور انصاف کے مقدمہ میں حساس اور ذہین ہو۔ جب سیاست عدلیہ و معیشت اپنے اپنے دائرۂ کار میں مؤثر انداز سے کام کرتی ہیں تو معاشرے انسان دوستی، ترقی، خوشحالی اور تہذیب و تمدن کی طرف بڑھتے  شہریوں کے حق انتخاب کی اساس پر قائم پارلیمان، ریاست میں عوام کے اقتدار اعلیٰ کی نمائندہ ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق اور انصاف کی ضامن ہے۔ تمام ادارے آئینی طور پر اپنے اپنے دائرۂ کار کے پابند ہیں۔
ہمارے ہاں کے حکمرانوں کے پاس جو مراعات ہے کیا یہ مراعات جمہوری ملکوں میں آئین دیتا ہے ؟ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک ادارے کا نہیں ہے۔ جب آپ پورے ملک کا نظام کرپشن پہ قائم کردیں گے تو کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کا محاسبہ نہیں کرسکتا۔ پارلیمنٹرین آئے روز اپنی تنخواہیں بڑھاتے ہیں مگر انہیں غریب کے وسائل میں اضافہ کرنے کی دلچسپی نہیں ہے۔ آئین کے 40 آرٹیکل نمبر 1 سے لیکر 40 تک وہ بھی ہیں جو عوام کو انصاف دیتے ہیں، جو غریب کو طاقتور بناتے ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی کو ختم کرتے ہیں، جو روٹی کپڑا اور مکان دلاتے ہیں، ہر غریب کے بچے کو تعلیم مہیا کرتے ہیں، علاج کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ بھی آئین ہے۔ آئین کی یہ مراعات جو سوسائٹی کو دی گئی ہیں  neglected segment of the Society کو ملتی ہیں وہ آئین کہاں ہے ؟ ہر ادارے کو آئین کا وہ حصہ یاد آتا ہے جس سے اسکے مفاد کی حفاظت ہو۔ آئین صرف محکموں کی گرفت کرنے کیلۓ رہ گیا ہے۔ یہی سوال جب آپ حکمرانوں سے کرتے ہیں تو وہ بھی آئین اور قانون بتاتے ہیں کہ ہمارا استحقاق ہے۔ یہ سارے استحقاق طاقتوروں کیلۓ ہیں کیا کوئی استحقاق اس ملک میں کسی غریب کا بھی ہے ؟ کسی مظلوم اور کمزور کا بھی ہے ؟ ان والدین کا بھی ہے کہ جنکے پاس علاج کا پیسہ نہیں اور انکا بچہ ایڑیاں رگڑ کر مر جاتا ہے ؟ ان والدین کا بھی استحقاق ہے جنکی بچی کی شادی کیلۓ انکے پیسہ نہیں ؟ اسے جمہوریت آئین اور قانون نہیں کہتے۔
میں جانتا ہوں لاکھ کوشیش کے باوجود بھی وزیراعلی صاحب سائلین سے براہ راست انکی فریاد سن نہیں پاتے مگر انکے درباریوں کو یہ حق نہیں کہ وہ انکی حاکمیت تلے بسنے والی رعایا کی تزلیل کرے
میری وزیر اعلی گلگت بلتستان سے گزارش ہے کہ آپ ایک ایسے مانیٹرینگ سیل یا ادارہ ہر اضلاع میں نوخوانوں پر مشتمل قیام کریں  جو ہنگامی بنیادوں پر چوبیس گھنٹے صرف عوامی فریاد اور انکی فورا دادرسی کے لئیے کام کرے اور وہ صرف ایک ایماندار بیورکریٹ کی سربراہی میں کام کریں اور اس بیورو کریٹ کی یہ زمہ داری ہوں کہ وہ ہفتہ وار عوامی مسائل اور انکی دادرسی کی رپورٹ براہ راست وزیر اعلی صاحب کو پیش کر سکے نہ کہ صرف عوامی فریاد بلکہ ہر اضلاع میں چلنے والے ترقیاتی کاموں کو بھی وہ مانیٹر کرے اور اس حوالے سے بھی اپنی رپورٹ پیش کرتے رہیں

خدارا مظلوموں  کی فریاد پر کان دھرے جائے اس سے پہلے کہ وہ رب کائنات سے رجوع کر لے

عرش اور فرش بھی صرف مظلوم کی آہ سے کانپتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔