چلاس: جمیعت علمائے اسلام دیامر نےسی پیک کے فوائد سے مستفید ہونے اور دیامر بھاشہ ڈیم متاثرین کے حقوق کے لئے نو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی

چلاس: جمیعت علمائے اسلام دیامر نےسی پیک کے فوائد سے مستفید ہونے اور دیامر بھاشہ ڈیم متاثرین کے حقوق کے لئے نو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان) جمیعت علمائے اسلام دیامر کا اہم اجلاس ضلعی امیر مولانا عبدالحنان کی زیر صدارت تھور ویلی میں منعقد ہوا۔جس میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری جے یو آئی جی بی و جنرل سیکرٹری جے یو آئی دیامر بشیر احمد قریشی،مولانا عبدالہادی،مولانا حاجت خان،امیر جے یو آئی تحصیل چلاس مولانا محمد شریف،جنرل سیکرٹری جے یوآئی تحصیل چلاس لعل مست خان قریشی،مولانا محمد لطیف،مولانا عزیز الرحمان اراکین شوریٰ قاری محمد قاسم،مولانا مقصود،مولانا عبید اللہ ،مولانا محمد انس،مولانا عبدالوکیل،مولانا عبداللہ اورنگزیب،امداد اللہ و دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ طور پر سی پیک کے فوائد سے مستفید ہونے اور دیامر بھاشہ ڈیم متاثرین کے حقوق کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کے لئے نو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ نو رکنی کمیٹی انتظامیہ سے ملکر سی پیک سے علاقے کی بہتری اور متاثرین کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر مولانا عبدالحنان نے کہا کہ جے یو آئی کا صد سالہ اجتماع ایک چیلنج ہے۔تمام اراکین عالمی اجتماع کی کامیابی کے لئے اپنی جدوجہد تیز کردیں۔سابق وائس چئیرمین ضلع کونسل راہنماء جے یو آئی الحاج لعل مست خان قریشی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عوام کی امیدیں اب جے یو آئی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم جمیعت کے کاز کو عروج بخشنے کے لئے عوامی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مولانا محمد شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتظامیہ متاثرین ڈیم کے بیرون لائن اراضی کے معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔اور ادائیگی یقینی بنائے۔جمیعت علمائے اسلام متاثرین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔

اجلاس سے جنرل سیکرٹری جے یو آئی دیامر بشیر احمد قریشی نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے جمیعت علماء اسلام کو تحفظات ہیں۔انتظامیہ تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔سی پیک اکنامک زون دیامر کے عوام کی ڈیمانڈ ہے۔فوری طور پر اکنامک زون کے قیام کا اعلان کر کے تحفظات دور کئے جائیں۔دیامر کے عوام سمجھتے ہیں کہ ترقی اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ تعلیم سے ہی ممکن ہے۔اور دیامر کو سوچی سمجھی سازش کے تحت ہی پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔دیامر کی تعلیمی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیامر میں یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے۔یونیورسٹی کے قیام کو بھی سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔سی پیک ملکی خوشحالی اور استحکام کا ضامن ہے۔دیامر ہی اس اہم منصوبے کی کامیابی کا مرکز ہے۔دیامر کو نظر انداز نہ کیا جائے اور عوامی خواہشات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام دیامر کے اگلے اجلاس کو داریل تانگیر میں چار اور پانچ مارچ کو منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔