یہ مولوی کب سدھرے گا؟ 

یہ مولوی کب سدھرے گا؟ 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 محمد نذیر خان

یار لوگ عموما یہ شکوہ کرتے ہیں ، کہ یہ مولوی کب سدھرے گا ؟ جمعہ میں کب اچھےاور علمی موضوع پہ گفتگو سننے کو ملے گی ؟ یہ صرف بیت الخلاء کی دعاء اور اللھم جنبنی الشیطان ۔۔۔کے سوا کب کوئی اور بات کرے گا ؟ یہ کب تک ایران تران کی دیومالائی کہانیاں سناتا رہے گا ؟

جناب بالکل صحیح کہا آپ نے ، مولوی سدھرے گا ، جب آپ سدھر جائیں گے ، میرا مطلب یہ ہے کہ جب آپ دین کو priority دیں گے ، جب آپ جیسے لوگ اپنے بچوں کو مدرسہ میں پڑھائیں گے ، جب صدر ، وزیر اعظم ، آرمی چیف ، چیف جسٹس کا بچہ بھی صبح کے وقت beacon house miN awr شام کے وقت محمدیہ مدرسہ میں جاکے قرآن مجید حفیط کرے ، صرف نحو ، فقہ حدیث پڑھے ، اور والدین علم دین کو بھی O level and A level جتنی اہمیت دیں ، اور آپ مدرسہ کے طالب علم پر بھی کالجز یونیورسٹیز کے دروازے کھولیں گے ، مسجد کے مولوی اور مدرسہ کے مدرس کو اتنی تنخواہ دیں گے کہ اس سے وہ اپنے بچوں کو قدیم وجدید دونوں طرح کی تعلیم دلا سکے ، جب آپ مسجد کا خطیب مقرر کرنے سے قبل مولنا صاحب کی صرف خوش الحانی پر اکتفا نہیں کریں گے ، بلکہ Educational qualification کے بارے بھی پوچھیں گے ، اور اچھی تعلیم والے خظیب کو کم از کم ایک کالج لیکچرر کے برابر تنخواہ دینے پر راضی ہون گے ، اور جب آپ سیریس ہو کر پنجگانہ وجمعہ کی نماز میں شرکت اور خطیب صاحب کے موضوع پہ غور وفکر کریں ، اس لئے پہلے قربانی دیجئے ، اچھی تعلیم دلوایئے ، مولوی کو اپنی سوسائٹی کا حصہ مانیئے ، اس کیلئے معقول تنخواہ اور عزت سے جینے کا بندوبست کیجئے ، پھر اس سے علمی موضوعات پہ گفتگو کا مطالبہ کیجئے ، معاشرہ سدھرے گا ، آپ بھی اور خود مولوی صاحب بھی ، لیکن بجائے اس کے جب آپ 3000 ہزار پہ بیروزگار مولناصاحب کو رکھیں گے ، یا مولنا صاحب خود ہی ” کسی سرکاری یا نجی پلاٹ پہ للہ فی اللہ قبضہ کرکے پائی پائی مانگ مانگ کر مسجد بنائیں ، ظہر عصر میں آپ ڈیوٹی پہ ، مغرب میں گھرپہ اور عشاء میں فیس بک پہ ، دانشواری بھگار رہے ہوں ، فجر کی نماز میں بیک وقت مولوی بیچارہ کو موذن ، مقتدی اور امام تینوں کردار ادا کرنے پڑیں گے ،جمعہ میں آپ اس وقت تشریف لائیں گے، جب وہ ” صفین سیدھی کریں ” کا آوازہ لگارہاہو، جب آپ معاشرہ میں مولوی کی عزت کا یہ عالم ہو D-7 بس کراچی 1نمبر ٹیوٹا ( اسلام آباد) کاکنڈیکٹر بھی حقارت سے چیخے “اوئے مولوی پیچھے ہو کھڑے ہو ” پولیس والے کو ملزم نہ مل سکے تو مولوی سے ری پلیس کرے ، تو بتائیے انصاف سے بتائیے مولوی صاحب آپ کیلئے اچھے موضاعات تلاش کرے یا گھر گھر جاکر اپنے بچوں کیلئے روزی ؟ ( ایک تو ہم غریب لوگوں کے بچے بھی ماشاء اللہ زیادہ ہوتے ہیں ، ہرنو ماہ بعد کوئی نہ کوئی ” سانحہ ولادت ظہور پذیر ہورہاہوتاہے ) وہ مولوی تمہارے قتل کے فتوے جاری نہ کرے تو کیا کرے ؟ تمہیں ” ہاتھ سینے پر یا ناف پر باندھنے ، درود زور سے یا آہستہ پڑھنے پر نہ لڑایے تو کیا کرے ؟ تمہارے گھر کا دروازہ شادیوں میں اداکاروں کیلئے ، بچوں کی پیدائش پہ کھسروں کیلئے کھلے، مولوی کو تمہارا گھر نظر ہی اس دن آیئے جس دن تمہارا کوئی مر جائے ، تو بتایئے کہ پھر وہ کس کی دعا زیادہ مانگے گا ، تمہارے مرنے یا جینے کی ؟

میرا مقصد یہ نہیں کہ تمام مولوی صاحبان کوثر وتسنیم سے دھلے ہیں ، ہم میں بھی ہزاروں خامیاں اور سینکڑوں ناکامیاں ہیں ، لیکن بری ان سے آپ بھی نہیں ہیں جناب ، ہم سب کو سدھرنا ہوگا ، بھلا گندم کے کھیت میں مکئی کیسے اگے گی ؟ یا سیب کے درخت پہ آم کیسے لگیں گے ؟ مولوی اسی معاشرہ کا ایک فرد ہے جہاں کے آپ ، میں ہوں سب ہیں ،

فقیہ النفس حضرت رشید گنگوہی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ ایک بار گاؤں والوں ان سے شکایت کی کہ حضرت حافظ صاحب ہمیں بغیر وضو ء نمازیں پڑھاتے رہیں ، حضرت نے بلا کر پوچھا تو کہنے لگے : جی حضرت یہ لوگ مجھے ایک روپیہ تو دیتے ہیں مہینہ کا ، اب ظاہر ہے ایک روپیہ میں ان کیلئے میں اتنی ہی خدمت انجام دے سکتا ہوں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔