بگروٹ میں فیملی ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب

بگروٹ میں فیملی ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( رپورٹر ) صوبائی وزیر تعمیرات و قانون ڈاکٹر محمد اقبال نے بگروٹ میں فیملی ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عمل اقدامات اٹھا ئے جار ہے ہیں۔ دور افتادہ ایسے علاقے جہاں پر سہولیات کا فقدان ہو وہاں پر عوام کو بنیادی ضروریات کے تحت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر سیاست میں حصہ لیا اور مصمم ارادے کے تحت عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے اقدامات اٹھارہا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق امیداوارں نے بگروٹ کو نظر انداز کیا ہے۔ اُن کو جہاں زیادہ ووٹ ملا ہے وہاں توجہ دیا ہے۔ میری اولین ترجیح بگروٹ میں گرلز کالج ہے ۔ خواتین اگر تعلیم یافتہ ہو ں گے تو معاشرہ ترقی کر ئیگااور والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کرے۔

انہوں نے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی بگروٹ میں لڑکیوں کا کالج نہیں ہے جس کی وجہ سے میٹرک کے بعد لڑکیاں مزید تعلیم حاصل نہیں کرتے ہیں یا صاحب حیثیت افراد اپنے بچیوں کو اعلی تعلیم کے لئے دنیور یا گلگت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرد کی تعلیم اس تک محدود ہوتی ہے جبکہ ایک خاتون کی تعلیم سے پورا کنبہ مستفید ہوتا ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ ہنزہ میں ترقی اس وجہ سے ہو ئی ہے کہ وہاں کے لوگ این جی اوز سے تعاون کررہے ہیں۔ آج گلگت میں سیوریج کا نظام موجود نہیں ہے جبکہ ہنزہ میں سیوریج کا نظام ہے وہاں کے عوام نے این جی اوز سے تعاون کر کے ہنزہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ میری اولین ترجیح بگروٹ روڈ کو پختہ کرنا ہے۔اور یہاں کے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے بگروٹ میں فیملی ہیلتھ کلینک کے قیام پر ادار ے کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بگروٹ میں جہاں تعلیم سمیت دیگر مسائل ہیں وہاں صحت کے شعبے میں بھی مسائل در پیش ہیں ایسے میں فیملی ہیلتھ کلینک کا قیام کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔ اب عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کریں اور فیملی ہیلتھ کلینک کو کامیاب کریں تاکہ مستقبل میں یہ ادارہ مذید پراجیکٹس یہاں پر شروع کر سکے۔

اس موقع پر گلگت بلتستان کونسل کے ممبر ارمان شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بگروٹ اپنی ثقافت و روایات میں انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے یہاں کے عوام کا اتحاد و اتفاق بے مثال ہے اور اسی وجہ سے مختلف غیر سرکاری ادارے یہاں پر اپنے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ ایف پی اے پی کی جانب سے یہاں پر ہیلتھ کلینک کا قیام نیک شگون ہے جس سے خواتین کو علاج معالجے کی بنیادی پر جدید سہولیات دستیاب ہو ں گی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا وژن سیاست کی بجائے عوام کی خدمت ہے۔ رنگ و نسل کی بجائے عوامی خدمت کا سوچ رکھتے ہیں۔ جو اے ڈی پی ملتی ہے اس کو علاقوں میں ضرورت کے مطابق خرچ کرتے ہیں تاکہ عوام کو سہولیات مل سکیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کھیل و ثقافت کے اشتراک سے بگروٹ میں کھیلوں کا گراؤنڈ بنا یا جا ئے گا تاکہ صحت مندانہ سر گر میاں فروغ پا سکیں۔ کونسل کے ممبر نے بگروٹ میں خواتین کے لئے 10 سلائی مشینیں بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔

تقریب کے موقع پر ایف پی اے پی کے ریجنل نائب صدر ہدایت شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بگروٹ میں عوام کو صحت کے شعبے میں در پیش مسائل کو دیکھتے ہوئے ایف پی اے پی نے ہیلتھ کلینک قائم کیا ہے تاکہ یہاں کی خواتین کو صحت کی سہولیات مل سکیں۔ اس سنٹر کی کامیابی کے بعد صحت کے شعبے میں مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہدایت شاہ نے اعلان کیا کہ بگروٹ ویلی میں وقتا فوقتا فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں ماہر ڈاکٹر ز مریضوں کا مفت معائنہ کر کے مفت ادویات فراہم کریں گے ۔

فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان گلگت بلتستان کی پروگرام آفیسر ریجانہ بشیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی بگروٹ میں خواتین کو علاج معالجے میں بہت زیادہ مسائل تھے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے یہ علاقہ مسائل و مشکلات میں گراہوا تھا ۔مختلف زرائع سے معلوم ہوا کہ صحت کے سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا تھا۔ ایف پی اے پی نے یہاں پر سروے کیا اور دوبانی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور عوام کے تعاون سے یہاں پر فیملی ہیلتھ کلینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جہاں پر زچہ بچہ کے علاج معالجے کے لئے ماہر عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ ہیلتھ کلینک میں نارمل زچگی ‘ حمل کے دوران چیک اپ سمیت ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور فیس بھی انتہائی مناسب رکھی گئی ہے تاکہ اس علاقے میں عوام کو گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ عوام ایف پی اے پی کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ مستقبل میں اس فیملی ہیلتھ کلینک کو اپ گریڈ کر کے بڑا سیٹ اپ لگانے میں مدد مل سکے ۔

دوبانی ڈویلپمنٹ آر گنائزیشن کے چیئر مین شہادت نور نے خطاب کرتے ہوئے فیملی ہیلتھ کلینک کے قیام پر فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا شکریہ ادا کیاانہوں نے کہا کہ بگروٹ میں 7 بڑے گاؤں ہیں مگر یہاں پر فسٹ ایڈ پوسٹ تک نہیں ہے۔ مریضوں کو علاج معالجے کے لئے میلوں سفر طے کر کے دنیور یا گلگت لے جانا پڑتا ہے۔ خواتین مریضوں کو بہت زیادہ مشکلات ہیں۔ سڑک کی ابتر حالت کی وجہ سے عوام کی پریشانی دوگنی ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہاں پر فیملی ہیلتھ کلینک کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔

تقریب کے دوران فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سید نذیر شاہ اور محمدحسین نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر رکن کونسل ارمان شاہ نے بگروٹ میں 10سلائی مشین دینے کا بھی اعلان کیا جبکہ صوبائی وزیر تعمیرات وقانون نے مستحق افراد میں صحت کارڈ تقسیم کئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔