ہارٹ اٹیک

ہارٹ اٹیک

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :- نور الھدیٰ یفتا ئی

آج کل دل کے امرا ض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جس کے با عث ایک اندازے کے مطا بق ہر سال دنیا بھر میں ایک کڑور افراد موت کے منہ میں چلے جا تے ہیں۔ دل کے امراض کو کچھ عر صہ پہلے تک امیروں اور عمر رسیدہ افراد تک ہی محدود سمجھا جا تا ہے۔ لیکن اب اس سے معا شرے کے ہر طبقے اور عمر کے افراد متا ثر ہو رہے ہیں۔ پا کستان سمیت جنو بی ائشیاء کے ممالک میں بھی دل کے امرا ض کی شر ح میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ آغا خان یو نیو رسٹی کرا چی کی ایک تحقیق کے مطا بق پا کستان میں در میانی عمر کے افراد دل کی بیما ری کا شکا ر ہے۔ جو کہ ایک بہت بڑی تشویشنا ک صورتحال ہے۔

ہارٹ اٹیک کیا ہے۔؟ ہا رٹ اٹیک کا مطلب دل کے عفلات کو نقصان پہنچنا ہے یہ نقصان معمولی ، جزوی یا مکمل بھی ہو سکتا ہے۔ بعض صورتون میں یہ نقصان کی سو فی صد تلا فی اور اذالہ ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار ہارٹ اٹیک کی شدت پر ہو تا ہے۔

ہارٹ اٹیک کیوں ہو تا ہے۔؟ جسم کو زندہ رہنے کیلئے آاکسیجن اور غذا کی ضرورت ہو تی ہے۔ آکسیجن پھیپڑ وں میں جذب ہو کر غذا معدے میں ہضم ہو کر خون میں شامل ہو تی ہے ۔ ان دونوں اجزاء کو جسم کے ہر حصے تک پہنچا نے کا کا م دل ، خون کی شر یا نوں کے ذر یعے کر تا ہے۔ جب شر یانوں میں کسی قسم کی رکا وٹ پیدا ہو جا ئے تو اس سے دل کو خون کی فر اہمی کم یا ختم ہو جا تی ہے۔ جس سے دل کی عضلات کو نقصان پہنچتا ہے۔ جس کی وا ضح علا مت سینے سے اٹھنے والی درد کی شدت پر اور دبا ؤ ہو تا ہے ۔ ہارٹ اٹیک کی عمو ماً دو بڑی وجو ہات ہو تی ہیں۔ پہلی قسم میں ایک بتدریچ عمل کے ذریعے جو کئی بر سوں پر محیظ ہو سکتا ہے۔ دل کے عضلات کو خون فراہم کر نے والی شر یانیں ، چکنا ئی اور کو لسٹر ول جمع ہو نے سے تنگ ہو کر ہا رٹ اٹیک کی وجہ بنتی ہیں۔ جبکہ دوسری قسم میں خون کی شر یانوں میں خون کا لو تھٹر ا بن جا تا ہے جس سے دل کو خون کی فر اہمی بند ہو نے سے ہا رٹ اٹیک ہو تا ہے۔

ہارٹ اٹیک کی علا مات:-ہارٹ اٹیک کی ایک وا ضح علا مت سینے کی عین در میاں میں یا با ئین جا نب اٹھنے والا اچا نک اور شدید درد ہو تا ہے۔ یہ درد سینے سے شروع ہو کر با ئیں یا دونوں با زوُں ، کمر ، گر دن یا نچلے جبڑے کی طر ف پھیل جا تی ہے۔ درد کے ساتھ ساتھ انسان کو ٹھنڈے پسینے آتے ہیں۔ اور ساتھ انسان کا رنگ پیلا پڑ جا تا ہے متلی اورقے ہو تی ہے ۔ آکسیجن کی کمی کے با عث کئی علا مات ظا ہر ہو سکتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ علا مات درد کی ہی صورت میں محسوس ہوں۔ انسانی جسم کے مثلاً سینے کے در میانی حصے پر اچا نک دبا ؤ ، بو جھل پن ، کھچا ؤ ، بے چینی اور ساتھ شدید کمزوری محسوس کر نا اور اِس کے ساتھ ساتھ درد کی بجا ئے اچا نک سا نس پھول جا نا بھی ہارٹ اٹیک کی پہلی علا مت ہو سکتی ہے۔ یہ تمام علا مات الگ الگ یا اکھٹی ہو سکتی ہیں جبکہ دس فیصد کیسز میں ایسی کو ئی علا مت ظا ہر نہیں بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے خا موش ہا رٹ اٹیک کہا جا تا ہے جبکہ سینے میں درد کی اور بھی کئی وجو ہا ت ہو سکتی ہیں اور صرف ہا رٹ اٹیک سے ہی سینے میں درد محسوس نہیں ہو تا ۔

علا ج :ہارٹ اٹیک کے ابتدائی چند گھنٹے بہت اہم ہو تے ہیں۔ اگر اِس دوران مناسب طبی امداد اور ادویہ مل جا ئیں تو مریض کی کا فی حد تک جان بچا ئی جا سکتی ہے۔ کئی کیسز میں ایسا بھی ہو تا ہے کہ ہا رٹ اٹیک کے وقت مریض کے اَس پا س بھی کو ئی مو جود نہیں ہو تا ، طبی امداد کے مر اکز بھی دور ہو تے ہیں۔ ایسے حا لات میں متا ثرہ فر د خود بھی اپنی مدد کر سکتا ہے۔ تا ہم اس عمل کے لئے ضروری ہے جس قدر ممکن ہو اپنے ہو ش و حواس بر قرار رکھنے چا ہئے۔ جب دل کا دورہ پڑ جا ئے تو فو ری طور پر بار بار اور زور زور سے کھا نسنا چا ہئے، ہر کھا نسی سے پہلے گہری سانس لی جائے ۔ جبکہ کھا نسی اتنی زور سے ہو نی چا ہئے جیسے سینے سے بلغم خارج کر نے ہو تی ہے۔ کھا نسی اور گہرا سانس لینے کا عمل پر دو سیکنڈ بعد بار بار اُس وقت تک دوہرانا چا ہئے جب تک کو ئی مدد کے لئے پہنچ نہ جا ئے یا پھر دل اپنے معمول کے مطا بق دھڑ کنا شروع نہ کر دے ۔ جب انسان گہرا سانس لیتا ہے تو پھپھڑوں میں آکسیجن بھر جا تی ہے کھا نسنے سے دل سکڑ جا تا ہے اور خون کی گر دش ممکن ہو جا تی ہے سکڑ نے کے عمل کے دوران پیدا ہو نے والی دبا ؤ سے دل دوبارہ کا م شروع کر سکتا ہے۔

بچاؤ اور احتیاطی تدابیر:- تمبا کو نو شی ، چکنا ئی والی غذاء سے اجتنا ب کر کے دل کے امرا ض میں مبتلا ہو نے سے کا فی حد تک بچاجا سکتا ہے۔اکثر تمبا کو نو ش حضرات جب زندگی کے 30سے40سال کے عمر میں داخل ہو تے ہیں تو اُن میں دل کے دورے کے خطرات عام لوگوں کی نسبت پا نچ گنا زیادہ ہو جا تے ہیں سگریٹ نو شی کے بعد بلند فشار خون اور زیابیطس دل کے امراض کی بڑی وجو ہات ہیں دل کے امراض سے بچنے کے لئے صحت مند طرز زندگی اپنا نے کی اشد ضرورت ہے جس میں بڑ ھتے ہو ئے وزن پر قابو کر نا ، چکنا ئی اور کو لسٹر ول بڑ ھا نے والی کھا نے پینے کی اشیاء کا استعمال کم کر نا ، چینی اور نمک ضرورت سے زیادہ استعمال پر قا بو پا نا ، اور روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کر نا اور اس کے ساتھ جس قدر ممکن ہو ذہنی د با ؤ اور تنا ؤ سے دور رہنے کی کو شش کریں۔ کیو نکہ ہمارا دل ایک حد تک ذہنی دباؤ اور تنا ؤ بر داشت کر سکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔