خودکشی:مذہبی اور سماجی تناظر میں

خودکشی:مذہبی اور سماجی تناظر میں

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ازقلم: ابی عاصم، غذر گلگت

بحیثیت مسلمان یہ ہمارا ایمان قوی ہےکہ ہماری اس دنیا کی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جنکو کرنے کا اختیار ہمارے ہاتھ میں ہے۔  جنکے نہ کرنے پرہمیں گناہ اور ثواب کا تصور دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ہی سزا اور جزا کا تصور بھی ہے۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا اختیار اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جو کوئی اللہ کے کاموں میں اپنے آپ کو شریک کرے گا تو وہ مشرک ہو جاتا ہے۔ مثال کے طورپرموت اور زندگی  عطا کرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے  جیساکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید برھان حکیم کی سورۃ الملک کی دوسری آیت میں فرماتے ہیں کہ:

 الَّذِیۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْغَفُورُۙ

  وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے  اور وہی عزّت والا بخشش والا ہے

اس کا مطلب  یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالی ٰ کی مرضی ہے کہ کب ایک فرد  کا رزق اس دنیا میں ختم کرتاہے ۔ اللہ نے ہی اس جان کو عطا کیا ہے۔ اور اللہ  ہی کے حکم سے اس جان کو لیا جائے گا۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی جان کو خو قتل کریں ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ۔ اور یہ ایک ایسا گناہ کبیرا  ہے جو کہ ناقابل معافی ہے۔

 جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ قرآن کی سورۃ النسامیں فرماتے ہیں کہ :

وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیۡمًا (۲۹)

اوراپنی جانیں قتل نہ کرو  بے شک اللّٰہ تم پر مہربان ہے

مندرجہ بالا آیات قرآنی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خود کشی کسی بھی صورت میں جائز فعل نہیں ہے ۔ اسلام کے ہر ایک مکتب ِفکر سے تعلق رکھنے والوں نے   اس  مشرکانہ اور بزدلانہ فعل کی مذمت کی ہے۔

جس طرح سے اللہ تعالی ٰ قرآن  مجید میں اپنے آپ کو قتل کرنے کو جائز فعل قرار نہیں دیا ۔ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس بزدلانہ فعل کو حرام قرار دیا ہے۔جیسا کہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری ، دونو ں احادیث کی کتابوں میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے۔کہ

اللہ کے رسول نے فرمایا: جس  نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ پڑا رہے گا۔ اور جس نے زہر پی کر خود کشی کر لی تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا۔ اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اس طرح ہمیشہ ہمیشہ پیتا رہے گا۔ اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خود کشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لئے اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔

 عموماً  لوگ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر اس طرح کےا قدام اُٹھاتے ہیں۔ حالانکہ دین اسلام میں تو مایوسی  گناہ  ہے ۔جیسے سورۃ الزمر میں  اللہ فرماتے ہیں کہ:

 قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾

تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللّٰہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللّٰہ سب گناہ بخش دیتا ہے  بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

     انسانی معاشرے میں دیکھا جائے تو کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے  جس پر کوئی تکلیف یا امتحان نہ آیا ہو مگر ہر ایک شخص دوسرے شخص کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہےکہ وہ شخص کتنا سُکھی ہے ؟،کتنا مالدار ہے ؟اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے  لیکن اُس آدمی کے پاس جا کر تھوڈی دیر کے لئے بیٹھ کر گفت وشنید کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کی تکالیف تو میری تکالیف سے بھی  بڑھ کر ہیں ۔دنیا میں کوئی بھی انسان بغیر تکلیف کے نہیں ہے، ہر کسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور ہے  اور اسی کا نام ہی زندگی ہے۔ اگر زندگی میں تکلیف اور امتحان نہ ہو تو زندگی  کی گاڑی رک جاتی ہے ۔ مسائل ہمیشہ زندگی میں اُمید لے آتے ہیں ہمیں زندگی میں آنے والی مصیبتوں کاحوصلے کے ساتھ  سامنا کرنا چاہئیےورنہ ایک چھوٹا مسئلہ بھی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے ۔ اس ضمن میں مجھے ہز ہائنس پرنس کریم آغاخان کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے ۱۱ نومبر 1986کو نیو یارک امریکہ میں فرمایا تھا ۔ کہ:  ’’ہمارا خیال ہے کہ یہ سمجھنا  بےوقوفی ہوگی کہ (زندگی میں) کوئی مسائل نہیں ہوں گے ۔زندگی مسائل سے ہی بنی ہوئی ہے یہ مسائل ہر روز  ہرکسی کے ساتھ وقوع پذیر ہوسکتے ہیں اور ہمارے خیال میں ہمیں سادگی سے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہی زندگی  ہے اور ہمیں اسے بھرپور اور جراتمندانہ  انداز میں گزارنا چاہیے۔  ‘‘

اب سوال یہ ہے کہ آخر کوئی انسان اپنی زندگی سے تنگ کیو ں ہے ؟  آج کے اس  سہولتوں سے بھری دنیا میں کیوں کوئی   شخص زندگی میں تناو محسوس کرتا ہے؟ اگر تناو محسوس کرتے تو ہمارے آبا واجداد کرتے جن کے پا س نہ تو پہننے کے لئے   اور نہ ہی کھانے کے لئے کچھ تھا۔ علاقے  کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیدل سفر کیاکرتے تھے مگر اپنی زندگیوں سے خوش تھے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہے لیکن میرے خیال میں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے من کی دنیا آباد تھی، ان کے دل ایمان کی نعمت سے سرشار تھے۔ بظاہر وہ غریب ضرور تھے لیکن اپنی روحانی دنیا میں بادشاہ تھے ۔ کیونکہ ان کی زندگیوں میں مذہب کی تعلیمات  پر عمل کرنے کے لئے بہت زیادہ جگہ موجود تھی ۔ اور مذہب کا کام ہی یہ ہے کہ مذہب انسان کو پرسکون رکھتا ہے  ۔ اور مذہبی پر عمل سے انسانی روح کو سکون و اطمنان  حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس  آج کا انسان بظاہر بہت خوشحال نظر آتا ہے   دنیاوی لحاظ سے بہت زیادہ ترقی ، وہ کام جو والدین کے دور میں معجزہ سمجھا جاتا تھا آ ج وہ روزانہ کا مشغلہ بن گیا ہے، روٹی ،کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی سہولیات ،نیز سب سے بڑھ کر یہ کہ آج ہم دنیا کے مہذب قوموں کے ساتھ مقابلے میں کھڑے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے ہر  چوتھا  آدمی ٹنشن ،ڈیپریشن اور  طرح طرح کی نفسیاتی بیماریوں کا شکا ر ہے ۔ جس کا ثبو ت شہر کے میڈیکل سٹورز میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی سکون کے  اور نشے آور  دوائیاں ہیں۔  نوجوان نسل ذہنی سکو ن کو گاڑی، بنک بیلنس ، بنگلہ،مرتبہ اور دنیاوی ترقی میں ڈھونڈ رہی ہے لیکن عملی طور پر یہی چیزیں بے سکونی کے باعث ہیں ۔ ہاں یہ جسمانی آرام کے لئے ٹھیک ہے مگر روحانی سکون کے لئے دین اور دنیا دونوں میں توازن قائم رکھنا ضروری ہےاور جس کے بارے میں دین اسلام ہر وقت زور دیتا رہا ہے۔ ہم بہت زیادہ مادیت پرست ہوئے ہیں۔ جائز ناجائز طریقوں کو استعمال کرکے اپنی معیار زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش  میں مصروف عمل ہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے بھی واقف ہونا لازم ہے کہ جو حقیقی سکون ہے وہ  ذکر اللہ ہی سے ملتا ہے ۔ جیساکہ فرمان الٰہی ہے کہ :

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکْرِ اللہِ ؕ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ۱۳:۲۸

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے

اگر کسی کو حقیقی خوشی حاصل کرنا ہے تو اس دنیاوی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی زندگی پر بھی توجہ دینا چاہیے ۔ ایمان کی طاقت اگرکسی کے پاس ہو تو اس کو زمانے کا ڈر نہیں ہو سکتا کیونکہ ساری دنیا ایک طرف ہو اور ایمان ایک طرف ہو پھر بھی ایمانی طاقت  پوری دنیا پر بھاری ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے سے دل اور روح کی دنیا آباد ہوتی ہے ۔جو کہ حقیقی خوشی کا ضامن ہے۔

ہماری بہت بڑی غلطی ہوگی کہ ہم نوجوان نسل کو صرف مادیت پرستی کی ہی تعلیم  مہیا کریں۔ ہمیں تعلیم یہ دینی چاہیے کہ   انسان کس طرح سے خوش رہ سکتاہے؟ ہماری روزمرہ کی تمام مشغلوں میں انسان دشمنی نظر آتی ہے ۔ بچہ کوا سکول اس نصیحت کے ساتھ داخل کرواتے ہیں کہ بیٹا : ہر کسی کو پیچھے چھوڑنا، زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ  پہلے نمبر پر آنا ۔ جب شروع سے ہی ہم بچوں کی زہن  سازی اس طرح کریں تو بچے کی سوچ کس طرح سے مثبت ہوگی ،وہ تو کسی بھی طریقے سے پہلے نمبر پر آناچاہے گا اور  اس کے لئے خواہ اس کو اپنے بہت سارے دوستوں کا دل دُکھانا ہی کیوں نہ پڑے۔ کیونکہ اس کے والدین کی ترجیح یہ ہے کہ اسکا بیٹا فرسٹ آئے ۔ اس کے بجائے بچپن سے ہی یہ تعلیم دی جائے کہ بیٹا آپ کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے کسی کوکبھی بھی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔ تو بچہ بھی یہ ضرور سوچے گا کہ میرے والدین کی ترجیح اچھا کام ہے تو وہ اسی سمت میں اپنےٓ اپ کو ڈال دے گا۔ کاش ایسا معاشرہ ہوتا  جہاں محبت کا درس ہو ، امن وآشتی کی تعلیم ہو، مدد کا تصور ہو، مسکینوں اور غریبوں کی خیال داری ہو،انصاف اور سچ کا بول بالا ہو۔ یہ وہ اسلام کے بنیادی اقدار ہیں جن کے ہوتے ہوئے کوئی بھی انسانی معاشرے میں دکھی نہیں ہوگا ، کوئی اپنی زندگی  سے تنگ نہیں آئے گا ۔  شراب ، چرس ، ہیروئن   اور طرح طرح کی نفسیاتی دوائیوں کا سہارا لینے کی ضرور ت کسی کو پیش نہیں آئے گا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اسلامی اقدار کی قدر نہیں کی جس کی وجہ سے آج ہمیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنی تحر یر کے اختتام سے پہلے میں درخواست کروں گا کہ  گلگت بلتستان اور چترال  کے تمام لوگ جس  میں حکام بالا سے لیکر ایک عام آدمی تک، مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے لیکر این جی اوز تک کہ  ہمیں ا پنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھنی چاہیے کہ کہیں بھی کوئی اپنی زندگی سے تنگ آکر خود کشی کرتا ہے تو اس جرم میں ہمارا حصہ کتنا ہے ؟ والدین ، بہن بھائی، اساتذہ، ہمسایہ،علاقے  کے باسی، سیاسی لیڈرز، مذہبی لیڈرز، گورنمنٹ کے عہدداران اور دوست احباب وغیرہ  کوئی بھی خود کشی کے عمل کے دوران یاد نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی زندگی سے نہیں بلکہ معاشرے کے لوگوں سے تنگ آکر خود کشی کی ہے۔ اس لیے  ایک باضمیر انسان ہونے کی حیثیت سے ہم جب بھی کھانا کھانے لگے تو ہر نوالے کے ساتھ یہ سوچنا چاہیے کہ اس نوالے میں کسی دوسرے  کا حق تو شامل نہیں ہے۔ اور ہمارے کسی بھی فعل سے بلواسط یا بلا واسط کسی کی دل آزاری تو نہیں ہورہی ہے ۔ تاکہ معاشرےمیں انصاف ہو  اور اس طرح کی مشرکانہ اور بزدلانہ خبر  دوبارہ سے سننا نہ پڑے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔