رونقی

رونقی

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سبطِ حسن

ایک گاؤں میں ایک موچی رہتاتھا۔ وہ بازار سے چمڑا لاتا اور گاؤں میں رہنے والوں کے لیے جوتے بناتا رہتا۔ ان جوتوں کے عوض اسے سارے سال کے لیے اناج وغیرہ مل جاتا تھا۔ چھوٹے موٹے خرچے، وہ جوتوں کی مرمت سے کمائے پیسوں سے کرتا تھا۔موچی خوش رہنے والا آدمی تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ کام کرتے ہوئے گنگناتا رہتا تھا۔ اس کی آواز اچھی تھی۔ جو کوئی بھی اس کا گیت سنتا، خوش ہو جاتا۔ بچوں کے ساتھ تو اس کی دوستی تھی۔ اس نے بچوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی گیت بنا رکھے تھے۔ بچے سکول آتے جاتے یا شام کو ویسے ہی موچی کی دکان پر چلے آتے اور اس سے گیت سنانے کی فرمائش کرتے۔ موچی کو تو بس بہانہ چاہیے، وہ شروع ہو جاتا۔ سب بچے بھی گیت گانے میں اس کا ساتھ دیتے۔ اک ہنگامہ برپا ہو جاتا۔ کوئی بچہ ٹین بجا رہا ہوتا توکوئی موچی کے اوزاروں کو ہی بجانے لگتا۔ بڑے کیا، اور کیا چھوٹے سب نے اس کا نام ’’رونقی‘‘ رکھ دیا تھا۔

رونقی کی دکان کے سامنے، گاؤں کے زمیندار کا گھر تھا۔ زمیندار کے پاس زندگی گزارنے کے لیے سب کچھ تھا۔ ایک بڑا گھر، پہننے کے لیے اچھے کپڑے، کھانے کے لیے طرح طرح کی غذائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے پاس بہت سی دولت تھی۔ دولت سے وہ کچھ بھی خرید سکتا تھا۔ وہ چھوٹے دل والا آدمی تھا۔ اتنا کچھ ہوتے ہوئے بھی اس نے کبھی ایک کھوٹا پیسہ بھی کسی ضرورت مند کو نہ دیا تھا۔زمیندار کے پاس ایک چیز کی کمی تھی۔ اسے نیند نہیں آتی تھی۔ وہ رات کو لیٹتا اور صبح تک کروٹیں بدلتا رہتا۔ نیند اس کے پاس بھی نہ پھٹکتی۔ وہ ساری رات تجارت بڑھانے اور دولت اکٹھی کرنے کے منصوبے بناتا رہتا تھا۔ دن کو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ پھر سونے کی کوشش کرتا۔ کبھی کبھار اس کی آنکھ لگ جاتی مگر رونقی کے گیتوں سے اس کی نیند اُچاٹ ہو جاتی۔ اس نے کئی بار رونقی کو گیت گانے سے منع کیا ۔رونقی اس کی بات مان لیتااور وہ گیت نہ گاتا ،مگر آتے جاتے لوگ خاص طور پر بچے ، اس کی دکان میں داخل ہوتے ہی گیت گانا شروع کر دیتے۔ وہ انہیں لاکھ سمجھاتا، مگر کوئی بھی اس کی پرواہ نہ کرتا۔

ایک دن زمیندار نے موچی کو بلوا بھیجا۔ موچی آیا تو زمیندار اس سے پوچھنے لگا:

’’سناؤ رونقی کیا حال ہے؟ گزارہ کیسا چل رہا ہے؟‘‘

’’بالکل ٹھیک ہوں، زندگی بہت اچھی چل رہی ہے۔۔۔ ساری ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔۔۔کچھ جلد اور کچھ ذرا دیر کے بعد‘‘ رونقی نے جواب دیا۔

’’پھر بھی روپوں کی ضرورت تو رہتی ہے۔۔۔بھلا ایک ماہ میں کتنے کما لیتے ہو۔۔۔؟‘‘ زمیندار نے پوچھا۔

’’سچی بات کہوں، میں نے کبھی روپوں کو گنا ہی نہیں۔ روپے آجائیں توضرورتیں پہلے ہی تاک رہی ہوتی ہیں۔۔۔ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔۔۔ حساب رکھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔‘‘ رونقی نے جواب دیا۔

’’اسی لیے تم خوش رہتے ہو۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اور بھی خوش کر دوں۔۔۔‘‘

زمیندار نے ایک ہزار روپے موچی کو دیے اور کہنے لگا۔ ’’جاؤ، ان سے اپنی رکی ہوئی ضرورتیں پوری کرو۔۔۔ مگر احتیاط سے خرچ کرنا۔۔۔‘‘

رونقی، اتنی بڑی رقم دیکھ کر پریشان رہ گیا۔ اس نے تو کبھی اتنی رقم اکٹھی دیکھی ہی نہ تھی۔ اس نے رقم جیب میں ڈالی اور گھر لے آیا۔ گھر میں اسے کسی جگہ چھپا دیا۔ واپس دکان پر آیا اور دوبارہ کام کرنے لگا ۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے محسوس کیا کہ وہ گنگنانہیں رہا بلکہ چپ چاپ بیٹھا سوچ رہا ہے کہ کہیں کوئی چور، اس کے روپے نہ چرا لے۔ تھوڑی دیر کے بعد کچھ بچے، اس کی دکان میں گھس آئے۔ سب گیت گارہے تھے مگر رونقی کا دھیان اس وقت بھی پیسوں کی طرف تھا۔ اس سے گیت گانا مشکل ہو رہا تھا۔

کچھ دن گزر گئے۔ رونقی کے سر میں درد رہنے لگا۔ بچوں نے اس کی دکان میں آنا چھوڑ دیا۔ لوگ اس کی دکان کے سامنے سے گزرتے اور اسے اس طرح دیکھتے جیسے وہ بیمار ہو یا یہ کہ پہلے وہ ایک انسان تھا اور اب گدھا ہو گیا ہو۔

ایک دن رونقی نے زمیندار کے دیے ہوئے ہزار روپے لیے اور سیدھا زمیندار کے پاس چلا آیا۔ اس نے زمیندار سے کہا:

’’مجھے اپنے گیتوں کے بدلے، ہزار روپے لینا قبول نہیں۔۔۔‘‘ اس نے روپے زمیندار کے حوالے کئے اور سیٹی بجاتا ہوا، واپس دکان پر آکر بیٹھا۔ رونقی کی رونقیں پھر سے آباد ہوگئیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔