ڈاکٹر کفایت اللہ خان کی زندگی پر ایک نظر

ڈاکٹر کفایت اللہ خان کی زندگی پر ایک نظر

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحر یر: محمد حسین بلتی

دُنیا میں ایسی بھی شخصیات ہیں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر نام کماتے ہیں لیکن ایسی شخصیات اور افراد کی تعداد بہت محدود ہوتی ہے ایسی شخصیات میں ضلع گلگت کی تحصیل جگلوٹ کے موضع ڈموٹ سئی کے ڈاکٹر کفایت اللہ خان بھی ہیں جو ڈرگ ایڈ منسٹریشن گلگت بلتستان کے چیف انسپکٹر آف ڈرگ / سیکریٹری کوالٹی کنٹرول ڈرگ ) BS-19)ہیں جو کہ حا ل ہی میں BS-20میں تر قی دے کر چیف ڈرگ کنٹرو ل کی پوسٹ پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے یکم جنوری 1960ء کو ڈموٹ سئی جگلوٹ میں گلاب خان کے گھر آنکھ کھولی اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کیں۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے ہزارہ یونیورسٹی سے Ethonobotanicalمیں پی ایچ ڈی جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم فل کیا ہے ۔اُنہوں یونیورسٹی آف پنجاب لاہور سے ہی فرسٹ ڈویژن میں بی فارمیسی بھی کیا ہوا ہے۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان 1986ء میں ڈائیریکٹوریٹ ہیلتھ سروسز میں بطور ڈرگ انسپکٹر تعینات ہوئے اور دن رات کی انتھک محنت سے خود کو منوا لیا۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے 7 مارچ9 199ء میں تیسری دُنیا کے تربیتی پروگرام Quality Assurance of live attenuated Polio and measles baccines”” انڈونشیا سے کیااِ س کے علاوہ بے شمار تربیتی پروگرامز ملک و بیرون ملک میں شامل ہوچکے ہیں۔ڈاکٹر کفایت اللہ کمپیوٹر میں MS Wordاور MS Power Point پر بھی خاصا مہارت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے “All Pakistan Pharmacceutical Paper Reading Contest” میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کی بُنیاد پر ایوارڈ حاصل کیا۔ ۔آپ پیشہ وارانہ شعبے میں مہارتوں کے ساتھ ساتھ غیر پیشہ وارانہ شعبوں پر خاصا تجربہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے پنجاب یونیورستی لاہور سے “800 Meter Race (Athletics)” میں ایورڈ لیا اسی طرح ایم اے او کالج لاہور سے “1600 Meter Race (Athletics)” میں بھی ایوارڈ حاصل کیا ہے ۔ڈاکٹر کفایت اللہ خاں پالیسی بورڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستانDRAP) )کے ممبر کے علاوہ ڈرگ کورٹ گلگت بلتستان کے بھی ممبر ہیں۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے جاپان میں “Control of Drug Offences” کے موضوع پر JICA Training & Dialogue Programmeجاپان میں منعقدہ سیمنار میں بھی شرکت کی جبکہ قراقرم ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹوٹ ناردرن ایرایاز میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی طرف سے “Sustainable production of medicinal herbs and promotion of Olive cultivation in the cold and dry mountains of Pakistan کے موضوع پر 2007ء میں دورزہ سیمینار میں بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ پانچ مختلف اعلیٰ سطحی ورکشاپس میں بھی نہ صرف شرکت کی بلکہ بھر حصہ بھی لیا ۔ڈاکٹر صاحب نے An athno-pharmacobotancila Surbey of Medicinal Plants in Nothern Areas”کے موضوع پر ایک جامع تحقیقی مقالہ بھی شائع کیا جبکہAKRSPاور WHOاشتراک سے Role of pharmacsist in Drug delivery in Northern Areasکے موضع پر مُنعقدہ سیمینار اور Medicinal Balue and Potential of Barbaris Species in Northern Areas کے موضوع پر مُنعقدہ سیمنار میں بھی بہت جامع تحقیقی مقالہ جات پیش کیا۔اُنہوں نے 1986ء میں پانچ افراد کی ٹیم کو لے کر کام کا آغاز کیا اور آغاز میں ہی ہیروئین میں استعمال ہونے والا کرو ڑو ں روپے لاگت کی کیمیکل ایسٹک اینا ھائیڈریٹ جو یقیناًاس صدی کا سب سے بڑا کھیب تھا جسے سوست بارڈر سے پکڑ کر انسانی جانوں سے کھیلنے والے مجرموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے مُتعلقہ اداروں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور کولٹی کنٹرول بورڈ تک معاملے کو پہنچایا جس پر ڈاکٹر کفایت اللہ کی کاوشوں کو اعلیٰ سطحی بُنیادوں پر سراہا گیا۔1996ء میں اُنہی کی کاشوں سے ناردرن ایریا ڈرگ رول عمل میں آیا جو اب نظر ثانی ہو کر ڈرگ رولز گلگت بلتستان 2015ء کی شکل میں ڈرگ ایکٹ 1976ء کا باقاعدہ حصہ بن کر نافذالعمل ہوچکا ہے۔دوسری طرف ڈرگ رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انجام تک پہنچانے کے لئے گلگت میں ڈرگ کورٹ کا قیام بھی عمل میں لایاگیا ہے اور گلگت بلتستان میں ادویات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں اوراس سے متعلقہ جرائم کی چھان بین کے لئیدرکار کوالٹی کنٹرول بورڈکا قیام بھی عمل میں آچکا ہے اس کا سہرا بھی ڈاکٹر کفایت اللہ خان کے سر جاتا ہے۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان کی تعیناتی تک محکمہ صحت گلگت بلتستان میں فارمیسی کی تعلیم کا تصور نہیں تھا اُن کی کوششوں سے فارمیسی کونسل گلگت بلتستان کٹیگری بی اور سی کا قیام عمل میں لاکر مقامی ادویات فروشوں اور دیگر اُمیدواروں کی صلاحیتوں کو فارمیسی قوانین کے دھارے میں شامل کیا گیا جس کے بعد گلگت بلتستان کے سینکڑوں فارمیسی اسسٹنٹ ملک اور بیرون ملک (دُبئی) میں روز گار حاصل کررہے ہیں۔ڈاکٹر کفایت اللہ خان کی کوششوں سے1986ء کی پانچ افراد پر مشتمل ٹیم اب 35 افراد میں بدل چکی ہے ۔مو صف آفیسر ادارہ کی ضر و ر یا ت پور ے کرنے اور اس کی استحدار کار بڑھانے کیلئے ہمہ وقت کام میں مصرو ف ہے ڈر گ ٹیسٹنگ لبا ر ٹر ی گلگت بلتستان کاقیام اسی آفیسر کی کو ششو ں کا مظہر ہے جو نہ صر ف ادو ایا ت کی تجزیہ میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ خو راک و پانی کی معیار جانچنے میں بھی معا ؤن ثا بت ہو سکتا ہے ۔

ڈاکٹر کفا یت اللہ نے پاکستان بلخصوص گلگت بلتستان کیلئے کئی ملوں میں نمائند گی کر کے ایواڈ اور گو لڈ مڈلسٹ حاصل کر کے ملک و قوم کا نام رو شن کیا گیا ہے ۔گلگت بلتستان میں غیر ملکی انڈیا اور چائینہ سے آ نے والی غیر معیاری ادویات ،ممنوع ادویات اور زائدالمیعاد ادویات کی مکمل رو ک تھام کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس بدو لت آ ج گلگت بلتستان میں اسطر ح کی ادویات کی مکمل خاتمہ کر کے لاکھوں قیمتی انسانوں کی جان بچاکر اپنا فر یضہ ادا ء کیاہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اسطر ح کی قیمتی اور ایماندار آفیسرگلگت بلتستان بلکہ ملک میں نہیں ہوگی کیو نکہ میں اس آفیسرسے اخبار کیلئے انٹر یو لیا تھا اس میں پتہ چلا کہ جب سے سرکاری عہد ہ سنبھالا ہے تب سے ایک دن کی چھٹی بھی نہیں کیا ہے اس بڑ ھ کر عزاز کیا ہو سکتا ہے ۔آ خر میں دعا کرتے ہے کہ ہم سب ڈاکٹر کفایت اللہ جیسے ایماندارآفیسر کی طر ح چلنے اور لاکھوں عو ام کے خدمت کر نے کی تو فیق عطا فر ما ئیں ۔آ مین ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔