کوہستان: شاہراہ قراقرم سترہ گھنٹے بلاک رہنے کے بعد ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا

کوہستان: شاہراہ قراقرم سترہ گھنٹے بلاک رہنے کے بعد ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان(شمس الرحمن شمسؔ ) کوہستان میں داسوسے چند کلومیٹر شمال کی جانب شال کے مقام پرپہاڑ سرکنے سے شاہراہ قراقرم سترہ گھنٹے بلاک رہی ، طویل جدوجہد کے بعدضلعی انتظامیہ اور چائنہ کنسٹرکشن کمپنی نے سڑک عام ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ اس دوران گلگت بلتستان سے پاکستان کے دیگر صوبوں میں سفر کرنے والے مسافر شدید تکلیف کا شکاررہے ۔ شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطار لگی رہی اور بیشتر گاڑیوں کا ایندھن بھی ختم ہوا۔ چائنا سول انجینئرنگ ایند کنسٹرکشن کمپنی (CCECC)کے ڈپٹی پروجیکٹ منیجر Li xiangعرف علی شاہ کے مطابق پہاڑ میں قدرتی طورپر سوراخ ہوا اور سرکنے لگا جس کی وجہ سے بھاری ملبہ شاہراہ قراقرم پر آگرا ، قریبی آبادی کی وجہ سے بلاسٹنگ نہ کرسکے،مشین کے ذریعے کچا ملبہ ہٹانے میں دیر لگی ، اس دوران اُن کا ایک لیبر بھی زخمی ہوا۔ شاہراہ پیر کی رات گیارہ بجے بند ہوئی اور پیر کے دن چار بجے چھوٹی گاڑیوں کیلئے کھول دی گئی جبکہ شام سات بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بحال ہوئی۔ اس دوران کمپنی کی جانب سے تین بڑے بلڈوزر لگائے گئے اور بڑی تعداد میں لیبر بھی موقع پر کام کررہی تھی ۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کوہستان محمد آصف کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کے عہدیداران بھی موقع پر موجود تھے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے ایمبولینس بھی موقع پر سٹینڈ بائے رکھا گیا تھا۔ داسو ہائیڈروکنسلٹنٹ کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے ۔شاہراہ قراقرم کی بندش سے مسافروں کا رش بڑھا اور داسو کے مقامی ہوٹلون میں کھانا بھی ناپید ہوکر رہ گیاتھا۔واضح رہے کہ شاہراہ قراقرم دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہونے کے ساتھ چائنا و گلگت بلستان صوبے کو پاکستان سے ملانے کا واحد رذریعہ ہے جس پر روزانہ ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں جس کی بندش سے لاکھوں خاندان پریشان رہتے ہیں ، انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی صورت شاہراہ قراقرم کو بحال رکھا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔