ایس آرایس پی اپنے وعدے کے مطابق واپڈا کے ساتھ ملکر رمضان المبارک کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔پاؤر کمیٹی اجلاس

ایس آرایس پی اپنے وعدے کے مطابق واپڈا کے ساتھ ملکر رمضان المبارک کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔پاؤر کمیٹی اجلاس

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)جمعہ 26مئی کو جامع مسجد بازار میں پاؤر کمیٹی چترال کا اجلاس زیر صدارت خان حیات اللہ خان صدر پاؤر کمیٹی چترال منعقد ہوا۔اجلاس میں چترال ٹاون میں بجلی کی شدید بحران اور ایس آر ایس پی کے تعمیر کردہ دومیگاواٹ بجلی گھر سے ٹاون کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایس آرایس پی واپڈا کے ساتھ ملکر رمضان المبارک کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔19مئی کے اجلاس جو اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم کے دفتر میں ایس آرایس پی نے جو وعدہ کیا تھا کہ’’ 26مئی سے بلاتعطل چترال ٹاون کو بجلی فراہم کی جائے گی‘‘اپنا وعدہ پورا کریں۔اجلاس خان حیات اللہ خان،حسین احمد،وی سی ناظم جغور سجاد احمد،محی الدین اور محمد کوثر ایڈوکیٹ نے خطاب کیا۔
اجلاس میں متفقہ طورپر قرارداد منظور کرکے مطالبہ کیا گیا کہ1.کہ ایس آر ایس پی اور واپڈا چترال ٹاون کو حسب وعدہ دو میگاواٹ بجلی کی سپلائی آج سے یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں کوتاہی سے اجتناب کریں۔خاص طورپر رمضان المبارک کے دوران بازار،ہسپتال اور گھریلو ں صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی ہونا چاہیئے۔بصورت دیگر کسی بھی قسم کی حالت کی کشیدگی کی ذمہ داری ان اداروں پر ہوگی۔
2۔قرارداد میں ضلعی انتظامیہ اور ضلعی حکومت سے بھرپور مطالبہ کیا گیا کہ نیشنل گرڈ سے چترال کو بجلی کی فراہمی کو بغیر تعطل اور آنکھ مچولی کو بند کرنے کے لئے متعلقہ حکام سے بات کریں اور اس آنک مچولی کو بند کرانے ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامہ اپنا کردار اداکریں۔اور چترال میں فورس لوڈشیڈنگ بند کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کیونکہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے احکامات کے مطابق فی الوقت پاکستان میں اور خاص طورپر صوبے کے اندر کسی ضلع میں اس قسم کے ظالمانہ لوڈشیڈنگ نہیں ہے جو چترال میں ہے۔لہذا وزیراعظم کے ہدایات کے مطابق چترال کو فورس لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں۔
3۔گذشتہ 40سال سے چترال میں ایک ہی فیڈر سے بجلی کی سپلائی ہورہی ہے جو واپڈا کی سنگین کوتاہی اور غفلت ہے۔لہذا چترال کے جوٹی لشٹ کے مقام میں بلاتاخیر مزید دو فیڈر چلانے کے لئے انتظامیہ اور ضلعی حکومت واپڈا کو مجبور کریں تاکہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ہمیشہ کے لئے اگر ختم نہ ہوسکے تو کم از کم انتہائی مختصر کیا جاسکے۔اجلاس خطیب جامع مسجد مولانا اسرار الدین الہلال کی دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔