غذر کے ساتھ ناانصافیاں، بس اب بہت برداشت کر لیا

غذر کے ساتھ ناانصافیاں، بس اب بہت برداشت کر لیا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

معراج علی عباسی

ضلع غذر میں سیاسی و فکری قیادت کے افلاس کے باعث غذر کے عوام کے ساتھ ناقابل برداشت حد تک ناانصافیوں کا سلسلہ

معراج علی عباسی

جاری ہے۔ سیاسی قیادت کے فقدان نے یہاں کے عوام کو گلگت بلتستان کے اندر لاچارلوگوں کا ایک ٹولہ بناکررکھا ہے۔ حکومتی سطح پر غذر کے عوام کواس حد تک دبایاگیا ہے جس کی مثال دنیامیں کسی غلام قوم کی بھی نہیں ہے ۔ ۔ضلع غذر کے عوام کو حکومتی معاملات اور دیگراصلاحات کے معاملے میں ہر لحاظ سے یکسرنظرانداز کیاجارہا ہے ۔آبادی کی بنیاد پر غذر کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی نہیں دیاجارہاہے ۔ گلگت بلتستان کے اندر نئے اضلاع کے قیام کے سلسلے میں غذر کے عوام کو یکسرنظرانداز کرکے دیوار کے ساتھ لگایاگیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے چھوٹے چھوٹے سب ڈویثرنوں کوضلع بنایا گیاغذر کے سیاسی قیادت اور عوام کی جانب سے غذرمیں ایک اور ضلع بنانے اور قانون ساز اسمبلی میں آبادی کی تناسب سے نمائندگی کے لیے حکومت سے بارہا قانونی و جمہوری انداز میں درخواست کیا گیامگر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق بی این ایف کے سپریم لیڈرنواز خان ناجی نے غذر کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹرگاہگوچ کے سرکاری ریسٹ ہاوس میں آل پارٹیزکانفرنس کا اہتمام کیا۔غذر میں منعقدکردہ کل جماعتی کانفرس کے نکات اور مطالبات پر بات کرنے سے قبل 1998 کے مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان میں موجودہ اضلاع کی تناسب کی اگربات کرے تو ہنزہ نگرکی مشترکہ آبادی 98ہزار،گانچھے 88ہزار ،استور70ہزار،دیامیرایک لاکھ 30ہزار،سکردو،شگراور کھرمنگ کو ملاکر2لاکھ14ہزارہے جبکہ غذرکی آبادی ایک لاکھ 21ہزارہے ۔ آبادی کے اعتبارسے گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی میں نمائندگی کی تناسب 88ہزاروالی آبادی گانچھے اور 98ہزارکی آبادی پر مشتمل ہنزاہ نگرکے لیے 3نشتیں جبکہ ایک لاکھ 21ہزارکی آبادی پر مشتمل غذر کے لیے بھی تین نشتیں مختص ہے۔ نو ہزار کے فرق کے ساتھ ایک لاکھ 30ہزار کے آبادی پر مشتمل دیامیرکے لیے 4نشتیں ہے ۔اپ گلگت بلتستان میں بننے والے نئے اضلاع میں آبادی کی تناسب کی طرف آتے ہے ۔40ہزارکھرمنگ ،45ہزارشگر،50ہزارہنزہ ،50ہزار آبادی پرمشتمل نگرکو ضلعے بنائے گئے ۔ایک لاکھ بیس ہزار کی غذر کو نظرانداز کیا گیا۔حکومتی سطح پر غذر کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں اور عوام غذر میں پائے جانے والی محرومیوں کے پیش نظربی این ایف (ناجی ) گروپ کے سپریم لیڈر نواز خان ناجی جوکہ ایک کتاب نماانسان ہے جس کے ہمالیاوں پر کھڑاہوکرآدمی اپنے ماضی اور حال کا نظارہ کرسکتاہے نے ایک نکاتی ایجنڈا پر غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹرگاہکوچ کے سرکاری ریسٹ ہاوس میں آل پارٹیزکانفرس کا اہتما م کیا۔ بی این ایف کی جانب سے طے کردہ کل جماعتی اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن ،پی پی پی ،تحریک انصاف کے علاوہ غذر کے سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے تمام سیٹک ہولڈرز نے شرکت کیا ۔اے پی سی میں شامل تما م سیاسی و دیگرنمائندگان نے غذر کے حقوق کے لیے تمام ترسیاسی ،مذہبی ،لسانی مفادات سے بالاترہوکربھرپوراندازمیں جدوجہد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔اے پی سی کے شرکانے انگریزوں کے زمانے کے چارتاریخی اضلاع (1) ڈسٹرکٹ پونیال (۲)ا ( ڈسٹرکٹ ہنسارا) موجودہ اشکومن (۳) )ڈسٹرکٹ کوہ غذر) موجودہ گوپس (۴) (ڈسٹرکٹ ورشگوم) موجودہ یاسین کوبحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اے پی سی کے شرکانے غذر ڈویژن کے قیام، آبادی کے تناسب سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی اور غذر کے عوام کے جائز حقوق کے لیے باقاعدہ عوامی تحریک چلانے کا باضابط فیصلہ کیا۔ اے پی سی میں شامل جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سیٹک ہولڈرز نے اپنے جائز حقوق کے وصول تک قانونی اورجمہوری طریقے سے جدوجہدکرنے کا اعلان کیاہے۔ اس ضمن میں غذرسطح پر کورکمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ ہوا ہے ۔کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں سے تین،تین اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف فورم سے دو ،دواور علاقائی سطح پر ہرگاوں سے دو،دو نمائندوں کو شامل کرنے کا فیصلہ ہوا ۔غذر میں منعقدہونے والی کل جماعتی کانفرس کی میزبانی بی این ایف کے سپریم لیڈر نواز خان ناجی نے کیا ۔اے پی سی میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے نمائندگی سلطان مدد ،پی پی پی سے محمد ایوب شاہ ،نزیرایڈوکیٹ ،تحریک انصاف سے ایڈوکیٹ عطاء الرحمن ،غذر امن کمیٹی سے چیرمین محمدابراھم ، صحافتی تنظیم غذر یونین آف جرنلسٹس کے صدر راجہ عادل غیاث نے کیا ۔غذر کے ساتھ ہونے والے حکومتی زیادتیوں کے خلاف آل پارٹیزکانفرس کے انعقاد اور ترجیہات طے ہونے کے بعد اگلا مرحلہ زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے ۔اگلے مرحلے کے لیے غذر کے سیاسی و فکری قیادت کو اب پہلے سے زیادہ عوام کو متحرک کرنا پڑئے گا۔اور مزاحمتی تحریک کو لمبے عرصے تک جاری رکھنا پڑے گا۔غذر کے موجودہ مسائل کاحل حکومت کے لیے اتنا بڑامسلہ تونہیں مگرحکومت آسانی سے یہ سب کرنے کے لیے تیار بھی نہیں ہوگا۔تحریک کے اگلے مرحلے کے لیے زیادہ تیاری کی ضرورت ہوگی اور تحریک میں سیاسی،مذہبی اورعلاقائی نمائندگان کے علاوہ نوجوانوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ تحریک کو ضلع ،تحصیل ،یونین کونسل اور گاوں سطح تک پھیلانا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔