بلا عنوان

بلا عنوان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :۔ محبت علی قیصر ؔ

ابو جی آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ رمضان کے شروع میں بالائی اور جام لاؤ گے ۔ دیکھو نا آج رمضان کی پہلی سحری بھی ہے اور میرا پہلا روزہ بھی ۔ یہ الفاظ دین محمد کی چھوٹی بیٹی نے اپنے ابو کے سامنے ادا کئے۔ دین محمد ابھی مسجد سے نماز مغربین پڑھ کر گھر لوٹا تھا تو بیٹی نے نیچے بیٹھنے سے پہلے ہی سوال کیا تھا۔ چونکہ اس سے پہلے نور نے کوئی روزہ نہیں رکھا تھا دین محمد کہتا تھا کہ تم روزہ رکھو گی تو تجھے بھی تیری سہیلی کی طرح ہر چیز لاؤ نگا۔ جو تم فرمائش کرو گی تم ہمسایوں کی چیزیں دیکھ کر دل خراب نہ کر بیٹا جو ملا ہے اس پر قناعت اور رب کا شکر کرنا سیکھو۔ اس کی دی ہوئی نعمتوں پر راضی ہو تو خدا بھی راضی ہوتا ہے ۔

دین محمد کی بیوی ذرا زبان کی تیز اور طنزیہ باتوں میں مشہور تھی ۔ دین محمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ اپنی عادت سے باز نہیں آئی تھی۔ اور ہر وقت لڑائی جھگڑے میں ہی وقت گزارتی تھی ۔ اوپر سے دین محمد سے گلہ کرتی تھی کہ میرے ساتھ اچھی طرح پیش نہیں آتے ، وہ لاکھ سمجھاتا کہ اس طرح بے جا لڑائی جھگڑوں سے خدا ناراض ہوتا ہے اور گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے ۔ تم مجھ سے صرف ایک دفعہ محبت سے پیش آکر بھی دیکھو ہر وقت لڑائی جھگڑے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ خیر دین محمد اپنی بیٹی سے محو گفتگو تھے ۔ درمیان میں بیوی بولی یہ تو صرف دلاسے دینے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ بچی ہے ہمسایوں کے ہاں گئی تو کیا کیا نہیں دکھایا جاتا ۔ ان کی چیزیں دیکھ کر یہاں آکر مجھے تنگ کرتی ہے ۔ ایک جو تیرے ابو ہیں جو مسجد سے نماز پڑھ کر آتے ہیں اور بس قناعت سے اپنی تقریر شروع اور ختم بھی کرتے ہیں۔جب کہ سر چھپانے کے لئے چھت مئیسر نہیں ۔ اور نہ ہی کسی بینک میں اضافی کوئی رقم موجود ہے جو کسی بھی ضرورت کے وقت خرچ کی جاسکے ۔

دین محمد نے اپنے بازو کے پاس پہنے ہوئے سفید کرتے کے پھٹے ہوئے ٹکڑے کو سیدھا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہاں میں مانتا ہوں کہ میں نے تجھے چھت مئیسر نہیں کی یہ سوچ مجھے قبر میں بھی چین سے بیٹھنے نہیں دے گی ۔ باقی میں نے تجھے کیا نہیں دیا ہے ۔ اگر معاشرے میں تم زیادہ منفرد نظر نہیں آرہی تو پھر اتنی کمزور بھی تو دکھائی نہیں دیتی۔اگر تم میرے دکھ درد میں شریک ہو کر صبر اور شکر سے کام لیتی تو اس وقت تک ہمارا مکان بھی ہوتا اورباقی بہت کچھ بھی۔بس یہی تیری روز روز کی تقریر مجھے امارت سے غربت کی طرف لائی ہے ۔

دین محمد کسی پرانے محلے میں ایک دبے ہوئے مکان میں ماہانہ کرایہ پر رہایش پذیر تھا ۔ اس کے مکان کے ساتھ ارد گرد لوگوں کی اونچی کوٹھیاں سر نکال کر اس کے اس پرانے مکان کو مذید دبا دیتی تھی ۔ دین محمد کے نہ چاہتے ہوئے بھی6بچے ہوئے تھے جن میں 4 ماشااللہ بڑے تھے اور گھر کی غربت کے باوجود ایک اچھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔جب کہ چھوٹے دو بچے قریبی سکول جاتے تھے جن میں ایک دعا تھی۔جس نے گھر میں داخل ہونے والے دین محمد سے سوال کرکے مذید پریشان کرکے رکھ دیا تھا۔

دین محمد ایک معمولی سرکاری نوکری کرتے تھے ۔جو تنخواہ آتی تھی اس سے گھر کا خرچہ مشکل سے نکلتا تھا۔ اوپر سے زائد اخراجات کے لئے قرضوں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔اب رمضان کی پہلی تھی گھر میں بہت سی اشیاء خورد نوش کے علاوہ زائدکوئی چیز موجود نہیں تھی۔ اب عید بھی آنے والی تھی دعانے ہمسائے کے ہاں سے کپڑے کا ایک ٹکڑا پہلے ہی سنبھال رکھا تھا۔ اور کہہ رہی تھی کہ میں عید کو ابو سے پیسے لاکر ایسے کپڑے خریدوں گی چاہے کچھ بھی ہو۔ ادھر دوسری بڑی بیٹی جو یونیورسٹی میں نئے سمسٹر میں داخلے کے لئے فیس کی فرمائش بھی کر بیٹھی تھی اس سے بھی ایک اور بیٹی جو ان تھی اور تعلیم سے فارغ تھی اس کے ہاتھ بھی پیلے کرنے تھے دین محمد بیوی کی طنزیہ باتوں کونظر انداز کرتے ہوئے د وسرے کمرے میں جاتا ہے ۔ اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یا اللہ

جب بھی رمضان آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ صرف دن بھر بھوکے پیاسے رہنے سے روزہ نہیں ہوتا ہے روزہ کے لئے اپنی آنکھ کان زبان سب کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اپنوں کے دکھ درد میں شریک ہونا ہوتا ہے غریبوں کی مدد کرنا ہوتا ہے اپنی عیال کو اچھی خوراک مہیا کرنے کی سعی کی جاتی ہے ۔

مگر ائے اللہ یہ کیسا روزہ جب بھی رمضان قریب آنے پر سوچتا ہوں کہ یہ سب کروں مگر میں نہ اپنی بیوی کی زبان درازی کو در گزر کر سکتا ہوں اور نہ ہی کسی غریب کی مدد کر سکتا ہوں اس سے بھی بڑھ کر میں اپنے اہل و عیال کی فرمائش بھی پوری نہیں کر سکتا ہوں کہتے ہیں کہ خدا کے نام پر دیا جائے تو خدا اس سے دگنا مہیا کرتا ہے ۔ مگر دین محمد کے پاس کچھ ہے نہیں تو کہاں سے دے گا ۔ سوائے پریشانی اور بیوی کے تانے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ کئی دفعہ دین محمد نے سوچا کہ خود کشی کرے مگر بچوں کے چہرے آڑے آتے ہیں اور دل پسج جاتا ہے ۔ دین محمدیہ سوچ سوچ کر اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے اور خدا سے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے بیوی کی عادت اور زبان درازی برداشت کرنے کے ساتھ اپنی غربت پر شکر ادا کرنے کی توفیق دے ۔

دین محمد سوچتا ہے کہ یہ معاشرہ کیسا ہے کہ روزے کا نام لیکر پیسے والے لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں سرِ شام مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں اور بازار میں موجود ہر میٹھی چیز اٹھا لیتے ہیں اور پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں ۔ پوچھنے پر کہتے ہیں کہ بھئی دن بھر روزہ رکھ کر شام کو اتنا بھی نہ کریں تو روزے کا کیا مزہ، وہ ادھر اودھر دیکھے بغیر اپنی چم چم کرتی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوتے ہیں۔ اور ارد گرد دین محمد جیسے غریب اور بے سہارا لوگ ترستی ہوئی آنکھوں سے ایسے مناظر دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا خدا کا مہینہ ایسا ہے کہ جس میں کسی غریب کی مدد کی بجائے خود کے لئے ہر جائز ناجائز چیز اٹھائی جائے ۔ دین محمد جیسے غریب کے تن پر پھٹا ہوا ایک جوڑا پرانا کپڑا ہے ۔ جب کہ معاشرے کے ان لوگوں کے تن پر موجود کپڑا ابھی ایک دفعہ بھی نہیں دھلا ہے ، وہ پھر سے مارکیٹ سے کئی جوڑہ نئے کپڑے عید کے نام پر خرید کر لے آتے ہیں ۔

دین محمد کے دماغ میں وہ واقعہ تازہ ہو جاتا ہے کہ کچھ دن پہلے دین محمد کے سامنے ایک غریب بچے نے ایک بڑی گاڑی والے کی گاڑی روکنے پر صرف دس روپے اللہ کے نام پر مانگا تھا تو اس گاڑی والے نے اس بچے کی گال پر تھپڑ مار کر کہا تھا ۔ بھیک مانگتے ہوئے شرم ہو جانا چاہئے ۔ ہم سے مانگنے کی بجائے اپنے باپ سے مانگ لو ۔ بچہ روتا ہوا روانہ ہوا اب اس بچے کا باپ ہوتا تو اپنے باپ سے مانگ لیتا ۔ اس کا باپ ہی کہاں تھا ۔ وہ بچہ تھپڑ کھانے کی بجائے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا حق دار تھا یہ سوچتے ہوئے دین محمدنے اپانا ہاتھ اپنی گال پر پھیرا اور اپنی جگہ سے اٹھا ۔

دین محمد اپنی بیٹی کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ بیٹا یہ معاشرہ بڑا ظالم ہے یہاں کسی سے کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے ابھی تمہارا باپ زندہ ہے تم یتیم نہیں ہوئی ہو ، تجھے ہر وہ چیز ملے گی جس کی تم فرمائش کرو گی ۔مگر میری لائی ہوئی چیزیں کھاکر تم روزے سے نہیں البتہ دن بھر ان لوگوں کی طرح بھوکی رہ سکتی ہو۔ اب میں بھی اس طرف قدم بڑھاؤنگا جہاں جہاں ان پیسے والوں کے قدم جاتے ہیں اور وہ خود کے لئے کر کے دوسروں کے لئے احسان جتاتے ہیں ۔ بس دین محمد اٹھااس انسانی جنگل میں گھسنے کے لئے جہاں ہر چیز جائز تصور کی جاتی ہے سوائے خدا کی نیک نیتی سے عبادت کی اور غریبوں کی مدد کے ۔ اللہ ہم سب کو توفیق خیر دے آمین ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔