کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شمس الحق قمر ؔ

کتاب بینی کے دوران بعض ایسے جملے درآتے ہیں جن پر پڑھنے والا / والی ہزار بار ہزار بارسوچنے پر مجبور ہوتا /ہوتی ہے ۔ ہندوستان کے مشہور صوفی ،گورو رجنیش کے خطبات پڑھتے ہوئے ایسا ہی جملہ پڑھنے کو ملا خطبات کے مجموعے ’’ مراقبے ‘‘ میں رقم ہے ’’ انسان جب اپنے مرکزے سے باہر نکلے یعنی اپنے آپ سے جدا ہو جائے تو شاعر بن جاتا ہے ۔وہ ایک ایسے مقام کو چھو لیتاہے کہ جہاں سے آنے والے ہر خیال میں ہمیں دیوانگی اور پاگل پن کے سوا اورکچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ لوگ جب اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں تو شاعری وجود میں آتی ہے ۔لیکن وہ پاگل بالکل نہیں بلکہ اپنے مرکزے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہوتے ہیں جب یہ لوگ واپس اپنے مرکزے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ہمارے جیسے ہی سوچتے ، دکھتے ، بولتے اور کرتے ہیں ‘‘ اس جملے سے کئی ایک خیال ذہن میں اُبھرنے لگے ، سوچا کہ قلم کے حوالے کروں ۔ لہذا آج شاعری ، شعر فہمی اور عشق و عاشقی پر نوکا جھوکی کا خیال دامن گیر ہے۔یوں تو شعرا کے بارے میں کئی ایک تحقیق کاروں کا خیال یہ ہے کہ شعرأ قلیل المدتی پاگل ہیں ۔ یعنی یہ لوگ مکمل پاگل نہیں بلکہ کچھ وقت کے لئے پاگل پن کا مظاہر کرتے ہیں اور پھر ہوش میں آنے کے بعد ہم جیسے انسان معلوم ہوتے ہیں ۔ شعرا کو سمجھنے کے صرف دو ہی پیمانے موجود ہیں ایک پیمانہ وہ ہے جو کہ شاعری کو پاگل پن قرار دیتا ہے اور دوسرا پیمانہ وہ ہے جو کہ شاعری کو انسان کا معراج مانتا ہے ۔ میری نظر میں کسی ایک رائے یا نظریئے کو دوسری رائے یا نظریے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں میرا منشا یہ ہے کہ ایسے موضوعات سے بات چیت اور گفت و شنید کا موقعہ ملتا ہے ( مرکزے سے دور ہونے کا دوسرا مطلب روشنی کی رفتار سے چلنے کے ہیں۔جہاں جسم کا تانا بانا ختم ہوتاہے ۔ ایک ایسی رفتار کہ اُسے اپنانے پر کثافت فنا ہوجاتی ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی جسمانی شئے روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کر سکتی ۔)
گرو رجنیش کے اس خیال سے اتفاق کرنا ہمارے لئے ضروری نہیں تاہم بات دل کو لگنے والی معلوم ہوتی ہے ۔ چترال کے ایک شاعر زیرک ؔ ( المعروف سونوغرو گدیری )نے اسی خیال کو شاعری میں پیش کرتے ہوئے اُن تمام لوگوں کو ہدف تنقید بنایا ہے جو شعرا کے عمیق خیالات کو پاگل پن سے منسوب کرتے ہیں، کہتے ہیں ؂ بطانہ کھل روئے تھرار، ای اوا گدیری اسوم ۔سولوکان ہوش نو کونیان ہمورو رویان کیہ جاشوم ۔ یعنی بستی کے تمام باسی اپنے آپ کو ذی عقل و ذی شعور سمجھتے ہیں ان میں سے ایک میں ہوں ( زیرک )جو کہ پاگل ہے لیکن میری نظر میں پاگل وہ ہیں جوکہ عشق کی باتوں کا ادراک نہیں رکھتے ۔گویا شاعر عام لوگوں کی نظر میں پاگل ہے اوروہ لوگ جو اپنے آپ کو ہشیار سمجھتے ہیں وہ شاعرکی نظر میں پاگل ہیں ۔دونوں طر ف کی الزام تراشی سے نتیجے کو جانچنا مشکل نہیں کہ اصلی پاگل کون ہے ۔ غالب ؔ کا ایک شعر ملاحظہ ہو ۔
؂ بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
اس شعر میں زندگی کا بہت بڑا فلسفہ مخفی ہے ۔ غالب کے اس خیال کے ساتھ چلتے ہوئے ذرا سوچیئے کہ ایک معصوم آدمی اپنے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پابند سلاسل ہے ۔ سماج نے اُسے پاگل سمجھ کر اُسے قیدو بند کی صعوبتوں سے گزارا ہے لیکن معصوم قیدی کے قوی ٰ اتنے مظبوط ہیں کہ وہ اگر چاہے تو پوری دنیا کو زیر و زبر اور تاخت و تاراج کر سکتا ہے ۔اندر حرارت اورسوز کی شدت اتنی کہ تن بدن سر اپا بھڑکتی ہوئی آگ کی مانند ہے اور آگ کی تپش اور تمازت اتنی کہ مضبوط سے مظبوط لوہے کو جلا کے راکھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ طاقت کے اس سر چشمے کو لوہے کی بے معنی بیڑیوں اور زنجیروں سے پابند رکھا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ جن زنجیروں میں اُن کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہیں وہ زنجیریں قیدی کی اندرونی آگ کی تپش سے کب کے جل کر خاکستر ہوچکی ہیں ۔ لیکن معصوم آدمی( غالبؔ ) احترامِ قانوں میں اپنی جگہے سے نہیں ہلتا ہے حالانکہ زنجیروں کی حالت جلے ہوئے بال کی مانند ہے ۔ جلے ہوئے بال یوں تو بالوں کی طرح نظر آتے ہیں لیکن اُن میں وہ تناؤ اور سختی نہیں پائی جاتی جو تازہ بالوں میں ہوتی ہے اگر ان جلے ہوئے بالوں کو تھوڑا سا بھی کریدا جائے تو ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے، آخر جلے ہوئے بالوں کے راکھ کی وقعت کیا ہوگی ۔ غالبؔ کے لئے پا بند سلاسل ہونا معنی نہیں رکھتا کیوں کہ اگر وہ چاہے تو ایک جست میں ہی کہیں سے کہیں نکل سکتا ہے جن زنجیروں سے وہ باندھا گیا ہے وہ تو جل کر راکھ میں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن معنی خیز بات یہ ہے کہ اُسے قید میں ڈالا گیا ہے لہذا وہ قید خانے کے اصولوں کی پاسداری کو اپنا فرض سمجھتا ہے لہذا اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے وہ اپنی جگہے سے نہیں ہلتا اور لوگوں کی نظر میں ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں لگی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ غالب ؔ کا یہ شعر کس کسوٹی پر موزوں بیٹھتا ہے۔ پاگل پن ہے یا خیالات کامعراج ۔ کیا ایسا خیال ہم سب کے ذہنوں میں آسکتا ہے ؟ بفرض محال اگر آئے بھی تو کیا ہم چند ایک لفظوں کی لڑی میں اتنی نزاکت سے پرو سکتے ہیں جو غالب ؔ نے کیا ہے؟ ( غالب ؔ سے میری مراد تمام شعرا ہیں، دکھی ؔ ، وقار تاجؔ ، مشتاق راہیؔ ، غلام عباس نسیم ؔ ، خالق تاجؔ ، احسان ؔ پروین شاکرؔ ، فیض احمد فیضؔ ، جون ایلیاؔ ، اسیر ؔ ، ذاکر محمد زخمیؔ ، خالد بن ولیؔ ، افضل اللہ افضلؔ ، فیضیؔ ، حیاتؔ ، فیضانؔ ، شوکت، شاہد ؔ ۔۔۔۔ میں کن کن کے نام لے لوں )
عام خیال یہ ہے کہ ہر وہ فرد شاعر بن جاتا ہے جس کے دل میں عشق ہو ۔ لیکن عشق کیا ہے ؟ عشق اندونی آگ کو بھڑکانے کا تیل ہے ( جوانو ژانی عشق کی نو ہوئے حکم وہابی )عشق کا کتنا زور ہے یہ تو وہی لوگ جانتے ہیں جوعشق کے امتحان سے گزرے ہوں ۔ علامہ اقبال نے اسی پاگل پن ( عام لوگوں کی نظر میں ) کے بارے میں یوں فرماتے ہیں : ؂ عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفی عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام ۔ محبت اگر اپنے منطقی انجام کو پہنچے تو دم جرئیل بن جاتی ہے ۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ حضرت علامہ اقبال کہتا فرماتے ہیں کہ عشق ہی تھا جس نے ایک بشر کو حقیقی معراج سے ہمکنار کرایا۔ دنیا میں ہر بڑا کام چھوٹے معاملات سے شروع ہوتا ہے اور منزل کی طرف جاتے ہوئے کئی ایک مشکل مدارج سے گزر کر ہی اپنے منزلِ مقصود کو پا لیتا ہے ۔ میرزہ علی جان اپنے عشق کی تشریح یوں کرتے ہیں۔ ؂ تہ عشق انگار رے کیہ گمان مہ لوڑی ہردیو کورمان زندگی حیران مہ ۔
عشق ایک طاقت ہے عشق ایک نعمت ہے اور جسے اللہ چاہتا ہے سر افراز فرماتا ہے ۔عشق فعل نہیں امر ہے یہ کوشش سے نہیں ہوتا بلکہ اوپر سے صادر ہوتا ہے غالبؔ ایک جگہے پر کہتے ہیں ؂ عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے ۔ یا بابا ایوب کا یہ شعر دیکھئے : ؂ گدیری بین بوئے عشقہ نسین کی ہوئے ہوش کورا بہچور خوشو پوشین کہ ہوئے ۔ یعنی عشق کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے ۔ لیکن ہم ایسے تمام پاگلوں کو اُن کے پاگل پن پر گلہ اور شکوہ کرنے کے مجاز نہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے محبوب کا درشن کیا ہوا ہوتا ہے اور جو اپنے محبوب کا دیدار کرتا / کرتی ہے اُس کے پاگل پن یا دیوانگی پر سوال اُٹھانا حماقت بلکہ گناہ ہے کیوں کہ یہی دیدار کسی عاشق کی زندگی کا مقصد اور منزل ہوتا ہے ۔ بلبل چترال امیر گل نے اپنے مخصوص انداز میں عشق کی مشکلات کا کچھ یوں نقشہ کھینچا ہے :
؂ ای درویش عشقو راہا کشتی گنی نشی اسور پروشٹہ شیر عشقو داستان ہتیرا نیویشی اسور دنیائی طلسماتان کھیو کہ ہیہ پوشی اسور تن سورا گیرو غمان کندوری کہ خشی اسور
عشق کی راہ کا مسافر ہمیشہ عاجز ہوتا ہے کیوں کہ وہ عاشق ہے ۔ عشق کی دنیا بھی عجیب ہے یہاں عاشق محکوم اور معشوق حاکم ہے ۔ عشق میں تعمیل ارشاد ہی سب کچھ ہے جیسے ؂ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی ۔
عشق میں رکاوٹوں کی اہمیت نہیں بلکہ فرمان برداری سے آگے کا سفر جاری رہتا ہے اور جہاں شک اور حکم عدولی در آئے وہاں عشق حوس بن جاتا ہے ۔ اب آپ خود دیکھے کہ جو لوگ شعر کہتے ہیں کیا وہ منزل عشق کے مسافر نہیں ہیں ؟یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے مرکزے سے کچھ وقت کے لئے نکل جاتے ہیں اور ایک ایسی دنیا کی سیرکرکے واپس آتے ہیں جو ہم نے اپنی ظاہری انکھوں سے کبھی نہیں دیکھی ہوئی ہوتی ہے لہذا ہمیں اُن کی روداد میں پاگل پن نظر آتا ہے ۔ اللہ کی دین ہے ؂ دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
ہم نے اپنے ایک دوست سے سوال کیا کہ کیا واقعی یہ شعرا وہی کچھ دیکھتے ہیں جو کہ عام آنکھوں کو نظر نہیں آیا کرتے؟ ہمارے دوست نے ایک کہانی سے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی جو کہ بڑی دلچسپ ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک غار تھا اُ س غار میں کچھ لوگ رہ رہے تھے ۔ غارکے اندر روشنی کا ایک خفیف قدرے مدہم سا ہالہ تھا اُس ہالے سے باہر اندھیرا ہی اندھیرا تھا یعنی غار کے باسیوں کی کل کائینات غار کے اندر روشنی کا ایک چھوٹا سا دائرہ تھا ۔ اُس ہالے کے اندر لوگوں کی زندگی گزارنے کا اپنا ایک طرز تھا ۔ ایک دن اُن میں سے ایک دوست یکایک گم ہو گیا ۔ ہوتا یہ تھا کہ یہاں سے گم ہونے والے لوگوں کی واپسی کھبی بھی نہیں ہوتی تھی ۔ غار کی روایات کے مطابق غار کے لوگوں نے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اُسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اُس گم شدہ کا کہیں بھی سراغ نہ ملا ( بالکل ایسے جیسے انسان کو موت آتی ہے اور وہ نامعلوم نگر کی طرف چلا جاتا ہے )۔ اچنبھے کی بات یہ ہوئی کہ ایک لمبے عرصے کے بعدگم شدہ آدمی واپس آیا ۔ اور انہوں نے اُوٹ پٹانگ باتیں شروع کیں ۔اُس نے کہا کہ یہاں سے باہر بھی ایک جگہ ہے جسے دنیا کہتے ہیں ۔ جہاں بہت بڑی روشنی ہے جو کہ طلوع اور غروب ہوتا ہے جسے اُس دنیا کے رہنے والے سورج کہتے ہیں ۔ دار و درخت ہیں، وسیع و عریض میدان ، کھیت ، اسمان سے باتیں کرتی ہوئی پہاڑی چوٹیاں ، جانور ، سر سبزو شاداب کھیت ، وہاں دن ہوتا ہے رات ہوتی ہے ، ۔۔۔۔۔۔ غار کے باسیوں کے لئے یہ باتیں عجیب ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی معلوم ہوتی تھی لہذا غار والوں نے اُس آدمی کو پاگل قرار دیا ۔ اُن سے ملنا جلنا اور باتیں کرنے کا سلسلہ ہی ختم ہوا ۔ کیوں کہ غار والوں کی نظر میں وہ انہیں اُلٹی سیدھی باتیں سنا سنا کر گمراہ کرتا تھا ۔ لہذا فیصلہ یہ قرار پایا کہ اُس کی کسی بات پر توجہ نہ دی جائے کیوں کہ وہ پاگل ہے جو کہ ان ہونی کو ہونی بتاتا ہے ۔ لیکن لوگوں کا یہ پاگل اپنی حرکتوں سے مرتے دم تک باز نہیں آیا ۔
اب اصل معاملہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ یہ کہ :کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے شاعر بھی ہماری دنیا سے باہر جاتے ہیں اور تمام پرودوں کو چاک ہوتے ہوئے دیکھ کر جب واپس آتے ہیں تو ہم اُن کی حقیقی سر گزشت کو سن کراُن کی داستان کو اُن کے دماغ کا خلل سمجھ کر گویا اپنی دانشمندی کا لوہا منواتے ہیں ؟
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author