انسان اپنا ہی قاتل کیوں بنتا ہے ؟

انسان اپنا ہی قاتل کیوں بنتا ہے ؟

58 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جان بو جھ کر اپنی جان لینے کا نام خود کشی ہے ۔خود کشی کسی ایک ضلع ، علاقہ یا ملک کا مسلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی مسلہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں ہر چالیس سیکنڈ میں ایک خود کشی کا واقع رونما ہوتا ہے جبکہ دنیا میں ہر سیکنڈ میں خود کشی کی کوئی نہ کوئی کوشش ہوتی رہتی ہے ۔اس حساب سے دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ سے زائد لوگ خود کشی کے ذریعے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں ۔ دنیا بھر میں ہرسال ایک لاکھ میں سے سولہ لوگ خود کشی کرتے ہیں۔ گذشتہ پنتالیس سالوں میں دنیا میں خود کشی کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔ ۲۰۲۰ ؁ء تک یہ رجحان مزید بڑھے گا اور ہر بیس سکینڈ میں ایک خود کشی کا واقع رونما ہوگا۔ دنیا بھر میں زیادہ تر نوجوان خود کشی کرتے ہیں ۔ اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں پندرہ سے انتیس سال کی عمر کے افراد کی ا موات کی دوسری اہم وجہ خود کشی ہے۔دنیا میں اٹھتر فیصد خودکشیاں متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔جبکہ امیر طبقے میں بھی خود کشی کے واقعات ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی اموات کی سترویں بڑی وجہ خودکشی بتائی جاتی ہے۔پاکستان میں کل پانچ سے سات ہزار افراد سالانہ خود کشی کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں جبکہ سالانہ پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ لوگ خود کشی کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔

گلگت بلتستان میں سالانہ اوسطا بیس سے پچیس خود کشی کے واقعات ریکارڈ میں آتے ہیں ۔ خیال یہ ہے کہ یہاں خود کشی کے بہت سارے واقعات کو طبعی موت قرار دیکر چھپایا جاتا ہے اور بعض دفعہ غیر ت کے نام پر قتل کے واقعات کو بھی خود کشی کا رنگ دیا جاتا ہے ۔اس حساب سے خالصتا خودکشی کا باضابطہ ریکارڈ میسر نہیں آتا۔ گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ واقعات غذر سے ریکارڈ میں آتے ہیں جس میں مقامی صحا فیوں کا اہم کردار ہے ورنہ آج یہ اہم معاملہ دب جاتا اور اس کے حل کے لئے کوئی فکر مند نہیں ہوتا۔کیونکہ کوئی بھی مسلہ جب تک اجاگر نہیں ہوتا ہے تب تک اس کے حل کی کوششیں بھی نہیں ہوتی ہیں۔ یہ بات دیکھنے کی ہے کہ غذر میں ہونے والی خودکشیاں باقی دنیا میں ہونے والی خودکشیوں سے زیادہ ہیں یا ہم بلا وجہ پریشان ہوتے ہیں۔ اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں خود کشیوں کی شرح ہر ایک لاکھ میں سولہ ہے جبکہ غذر میں بھی اوسطا سالانہ سولہ سے زیادہ خودکشیاں نہیں ہوتی ہیں حالانکہ غذر کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ آبادی کے حساب سے یہ شرح باقی دنیا سے مختلف نہیں ہے ۔

ضلع غذر میں خودکشیوں کا سلسلہ 2000ء سے شروع ہوا تھا۔ مقامی لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس سے قبل علاقے میں خودکشیوں کا رجحان بالکل بھی نہیں تھا یا نہ ہونے کے برابر تھا۔ 2000ء کے بعد اس ضلع کے سماجی ڈھانچے میں وہ کونسی تبدیلیا ں رونما ء ہوئیں جس کی وجہ سے یہاں خود کشیوں کا رجحان بڑھ گیا اس کا کھوج لگانا کسی باضابطہ تحقیق کے علاوہ ممکن نہیں ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق غذر میں 2000 ء سے 2004ء تک کل ساٹھ خود کشیا ں ہوئی تھیں اس حساب سے ان سالوں میں سالانہ اوسطا بیس خودکشیاں ہوتی تھیں۔ تاہم 2003ء میں خودکشیوں کی شرح باقی سالوں کی نسبت زیادہ تھی اور خیرت انگیز طور پر اُس سال دنیا بھر میں خودکشیوں کی شرح اگلے اور پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ تھی۔ ان چار سالوں کے بعد پورے گلگت بلتستان میں سالانہ پندرہ سے بیس خود کشیاں ہوتی رہی ہیں جن میں سے دس سے پندرہ غذر کی تھیں۔ محکمہ پولیس اور دیگر اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پورے گلگت بلتستان میں2011 ء میں بائیس ، 2012 میں 16، 2013ء میں 18، 2014ء میں 15، 2015ء میں13اور 2016ء میں 13 خود کشیوں کے واقعات ریکارڈ میں آئے ہیں یعنی 2011ء سے 2016ء تک گلگت بلتستان میں کل 96 خودکشیاں ہوئی ہیں ۔ جن میں گوجال کی بارہ ، گلگت کی بارہ سے زائد اور دیگر اضلاع میں ریکارڈ میں آنے والی خودکشیاں بھی شامل ہیں۔اس حساب سے گذشتہ چھ سالوں میں گلگت بلتستان میں اوسطا سالانہ سولہ خودکشیاں ہوتی رہی ہیں آبادی کے حساب سے اس کا تناسب باقی دنیا سے مختلف نہیں ہے۔ تاہم مئی 2017ء کے ایک ہی مہنے میں ضلع غذر میں تواتر کے ساتھ ہونے والی دس سے زائدخودکشیاں تشویش کا باعث اس لئے ہیں کیونکہ ایک ماہ کے اندر گلگت بلتستان میں ہونے والی مجموعی اموات میں خودکشیوں کے نتیجے میں ہونے والی یہ اموات سب سے زیادہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سماجی حلقوں کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کرنا فطری بات ہے۔

خودکشیوں کے جن بڑے بڑے وجوہات کی دنیا بھر کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے وہ کم و بیش ایک جیسے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دنیا بھر میں ہونے والی خود کشیوں کی وجوہات ایک جیسی ہوتی ہیں کیونکہ ہر خودکشی کے واقعے کی اپنی ایک کہانی اور ایک وجہ ہوتی ہے۔ تاہم ماہرین کی رائے سے خودکشی کے واقعات میں کمی لانے کے لئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔گذشتی دنوں ماہر نفسیات ڈاکٹرخصرو کلیم رضا نے کے آئی یو میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں “یونیو رسٹی میں سوشل سائنس کے طلبہ میں تعلیمی بے چینی ” کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ پڑھا تھا اس دوران ان کا کہنا تھا کہ بے چینی( انگزائٹی) اور دباؤ (ڈپریشن) میں فرق یہ ہے کہ بے چینی کا تعلق کسی ایسے کام یا واقع سے ہوتا ہے جو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کا خدیشہ ہو جبکہ ڈپریشن یا دباؤ کا تعلق ماضی کی کسی یاد سے ہوتا ہے ۔چنانچہ خودکشی کا تعلق ہمیشہ ماضی سے یعنی ڈپریشن سے ہوتا ہے ۔ اگر مریض کی بروقت نشاندہی کی جائے تو علاج کے ذریعے ان کو خودکشی سے بچایا جاسکتا ہے ۔

ایک اور ماہر نفسیاتی امراض ڈاکٹر دریا خان لغاری کا کہنا ہے کہ خودکشی میں مختلف اقسام کی ذہنی خرابیوں ( ملٹی ڈائمینشنل ڈس آرڈرز ) کا بیک وقت عمل دخل ہوتا ہے جن میں حیاتیاتی، جینیاتی ، نفسیاتی اور ماحولیاتی خرابیاں شامل ہیں۔ بر وقت تشخیص سے ان سب کا علاج ممکن ہے۔

یہ بات طے ہے کہ خودکشی کا تعلق انسان کی سوچ اور ذہنی حالت سے ہوتا ہے جس کے لئے باہر کے محرکات جلتی پر تیل کا کام دیتے ہیں۔ پاکستان میں کل پانچ کروڑ لوگ مختلف نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض کا شکار ہیں۔جبکہ ان کے علاج کے لئے ملک میں صرف 320 نفسیاتی امراض کے ماہرین اور صرف پانچ نفسیاتی امراض کے ہسپتال ہیں۔ خود کشی کی جو وجوہات بتائی ہیں ان میں ذہنی ونفسیاتی بیماریاں یعنی ڈپریشن، انگزائٹی، پرسنالٹی ڈس آرڈر، شیزو فرینیا، بائی پولرڈس آرڈر وغیرہ شامل ہیں ان ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کو فروغ دینے میں جو بیرونی عوامل کار فرما ہوتے ہیں ان میں کوئی تکلیف دہ تجربہ جن میں جسمانی تشدد، جنسی تشدد، جنگ کا ماحول، کسی عزیز کی موت ،مسلسل غنڈہ گردی کا شکار ہونا، منشیات کا ا ستعمال،خوراک میں عدم توازن،بے روزگاری ، تنہا پسندی، غربت ،رشتوں میں عدم توازن ،جینیاتی مسلے ،وجود کا بحران یعنی اپنی زندگی کو بے معنی سمجھنا،مہلک یا ناقابل علاج یا دائمی بیماری، دائمی درد، ادوئیات کا بے دریغ استعمال وغیرہ شامل ہیں جبکہ مذکرہ وجوہات کے علاوہ ضلع غذر میں مختلف اوقات میں کی گئی سٹیڈیز میں جن وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں گھریلو جھگڑے یا تشدد،کردار پر تہمت لگانا، زبردستی یا کم عمری کی شادی، غیرت کے نام پر قتل، خوف،مایوسی ، احساس عدم تحفظ، امتحانا ت میں ناکامی سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں ۔

خودکشی میں کمی لانے کے لئے جو کوششیں کی جاسکتی ہیں ان میں ایک تو انفرادی طور پر ان افراد کی نشاندہی کرنا اور ان کا علاج کرنا ہے جو خودکشی کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ مختلف اوقات میں کرتے رہتے ہیں۔جبکہ دوسرا پورے معاشرے کو مجموعی طور پر اس لعنت سے چھٹکارا پانے کی تر غیب دینا ہے۔ انفرادی طور پر بھی مریض کی نشاندہی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک معاشرے کے ذمہ داران کو اس بات کی سمجھ نہ ہو کہ ان کے آس پاس بسنے والے انسانوں کو کن تکلیفات کا سامنا ہے جیسے خودکشی کی نیت رکھنے والے کی نشاندہی مریض کا کوئی رشتہ دار، والدین ، بہن بھائی ، پولیس، ڈاکٹر، مذہبی راہنماء، دوست ، کلاس فیلوز،ہمسایہ ،استاد، آن لائن مدد کے ادارے وغیرہ کر سکتے ہیں۔ جب ایسے فرد کی نشاندہی ہوگی تو ان کو اس حالت سے نکالنے کے لئے کو ئی بھی پڑھا لکھا شخص یا اس مقصد کے لئے بنایا گیا ادارہ مد د کر سکتا ہے۔ ان کو بتایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے نفسیاتی مسائل پر قابو بانے کے لئے باقاعدہ ورزش کرے، عبادت کرے ،کتابیں یا میگزین پڑھے، ٹی وی یا فلم دیکھے، سیریاگیم کرے، خوارک میں تبدیلی لائے،اگر شادی شدہ ہے تو جنسی تعلق میں بہتری لائے،کمرے کی صفائی کرے، تخلیقی کام کرے نیز اس کو اگر زیادہ مسلہ ہے توپیشہ ورانہ مدد کے لئے نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے ۔بعض اوقات صرف اتنا سمجھانے سے کام حل ہوجاتا ہے کہ ز ندگی اور اس کے تمام دکھ وقتی ہیں ان سے گھبرانا نہیں چاہئے یعنی ان کو ایک امید دلائی جاسکتی ہے ۔راقم نے خود اس نسخے کا استعمال کرکے کئی لوگوں کو پریشانی سے نجات دلایا ہے۔

دنیا بھر میں جہاں جہاں خودکشیوں کے واقعات ہوتے ہیں وہاں ان کے روک تھام کے لئے کوششیں بھی کی جاتی ہیں ۔ یہ کوششیں کئی سطحوں پر کی جاتی ہیں کیونکہ کوئی ایک ادارہ یا فرد اس مسلے کو اکیلا حل نہیں کر سکتا ۔ مختلف ادارے اور افراد جب تک حکومت کے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے تب تک اس رجحان پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔یہ جو ہر واقع کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اتنی خودکشیاں ہوتی ہیں حکومت اور غیر سرکاری ادارے کہاں ہیں یہ بات دراصل وہ لوگ کرتے ہیں جو اس مسلے کے بارے میں بنیادی علم نہیں رکھتے۔ یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی سوچ پر سیکورٹی گارڈ نہیں بٹھا سکتا اور نہ ہی خود کشی کوئی چوری جیساجرم ہے جو کہ کسی کو ڈیوٹی پر بٹھا کر روکا جا سکے اور نہ ہی خودکشی کا رجحان کسی کی چٹکی بجاتے ہی ایک دن میں ختم ہو سکتا ہے ۔اس کا تعلق انسان کی سوچ سے ہوتا ہے اور کوئی بھی انسان کسی کی سوچ اس وقت تک تبدیل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس کا اظہار نہ کرے۔ یہ ذمہ داری ابتدائی طور پر ان لوگوں پر آن پڑتی ہے جو خودکشی کرنے والے فرد کے آ پاس رہتے ہیں جن میں والدین ، اساتذہ، علماء، طلباء ، سماجی ورکراور علاقے کے معزیزین شامل ہیں۔

حکومتی یا اداراتی سطح پر یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اور این جی اوز کا ایک نیٹ ورک یا ضلعی سطح پر کمیٹی بنائی جائے جو صرف اسی مسلے کے حوالے سے کام کرے۔ سٹڈیز سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خود کشی کا رنگ دیا جانے والا ہر کیس خود کشی کا نہیں ہوتا۔ ان میں اکثریت یعنی ساٹھ فیصد غیرت کے نام پر قتل یا تشدد کے واقعات ہوتے ہیں اس لئے یہ بات لازمی قرار دی جائے کہ جن واقعات کو خود کشی کہا جاتا ہے ان کی صرف پوسٹمارٹم رپورٹ پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ پولیس اور ماہرین کی نگرانی میں باضابطہ تحقیقات ہوں جس کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے تاکہ اس ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ہی اس کو خود کشی یا قتل قرار دیا جاسکے ۔

جو لوگ خود کشی کی کوشش کر کے بچ جاتے ہیں ان کے ساتھ رحم دلی سے پیش آکر ان کا علاج کرایا جائے ۔ ہمارے قانون کے مطابق ایسے لوگوں خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے جو خودکشی کی کوشش کر کے بچ جاتے ہیں۔ایسے افراد پر ایف آئی آر درج کرنا سراسر غلط ہے کیونکہ خود کشی کرنے والا ذہنی یا نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اس کے ساتھ مجرموں والا نہیں بلکہ مریضوں والا سلوک کرنا ضروری ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی شخص ایک دفعہ خود کشی کرنے کی کوشش کرکے بچ جاتا ہے تو وہ دوسری یا تیسری دفعہ کی کوشش میں کامیاب ہوجاتا ہے۔لہذا ایسے لوگ خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں جو خودکشی کی کوشش کرکے بچ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ضلع غذر میں نفسیاتی امراض کا ہسپتال قائم کیا جا سکتا ہے اگر وہ ممکن نہ ہو تو چند ایک بڑے ہسپتالوں میں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر تعینات کئے جاسکتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کی مدد سے تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرامز رکھے جاسکتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی نشاندہی کی جاسکے جو خود کشی کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خود کشی اچانک نہیں کی جاتی اس کے لئے کئی عرصے پر محیط تیاری کی جاتی ہے۔ جس طرح ایک مجرم کسی شخص کے قتل کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح خودکشی کرنے والا شخص اپنے قتل کا منصوبہ بناتا ہے جس کا اظہار ان کی حرکات و سکنات سے ہو جاتا ہے اگر اس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ملنے والے لوگ سمجھدار ہوں تو وہ اس کی بروقت نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ضلع غذر میں ایسی ہلپ لائن بنائی جاسکتی ہے جہاں ایسے لوگ رابطہ کر سکیں جو کسی نفسیاتی مسلے کا شکار ہیں یا ان کے دل میں بار بار خود کشی کا خیال آتا ہے یا وہ لوگ رابطہ کر سکیں جو کسی ایسے فرد کو جانتے ہوں جو خود کشی کا ارادہ رکھتا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی شخص اگر باربار یہ کہتا ہے کہ میں خود کشی کرتا ہوں تو اس کو نظر انداز نہیں کرنا چائیے کیونکہ ایسے لوگ آخر کار خودکشی کرتے ہیں۔خودکشی کے مسلے کا زیادہ تر د ارومدار محکمہ صحت سے ہے مگر واقع ہونے کے بعد اس پر تحقیقات پویس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے تاہم دیگر ادارارے آگاہی مہم میں یا نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کی نشاندہی کرکے اس رجحان پر قابو پا نے میں مدد کر سکتے ہیں جبکہ بعض غیر سرکاری یا سرکاری ادارے ضروری معلومات، ڈیٹا ، کیس سٹیڈیز یا اپنی مدد آپ کے تحت ہلپ لائن بنا کر اس کام میں مدد کر سکتے ہیں۔اس لئے ضلعی سطح پر بننے والی کمیٹی میں تمام اداروں کی نمائندگی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ غذر میں خود کشی کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کر کے حکومتی سطح پر اس کے تدارک کے لئے باقاعدہ فنڈ مختص کرے۔ گذشتہ روز اس ضمن میں پارلیمانی کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے مگر ضلعی سطح پر ڈ پٹی کمشنر کی سرپراہی میں ایک ایکشن کمیٹی بنانا لازمی ہے جو پارلیمانی کمیٹی کی مدد کر سکے۔لوگوں کی آگاہی کے لئے جگہ جگہ یہ لکھ کر بینرز آویزاں کئے جاسکتے ہیں کہ خود کو قتل مت کرو آپ کے ہر مسلے کا حل ہمارے پاس موجود ہے ہلپ لائن کا نمبر لکھ کر بتا جائے کہ ہم سے اس نمبرپر ر ابطہ کرو ۔ ہلپ لائن چوبیس گھنٹے کی سروس کے لئے تیار ہو جہاں پڑھے لکھے نوجوان خواتین اور مرد تعینات ہوں تاکہ خاتون اپنا مسلہ خاتون کو اور مرد اپنا مسلہ مرد کو بتا سکے۔ ہلپ لائن میں بیٹھے لوگ ایسے افراد کی رازداری کا خیال رکھتے ہوئے ان کی خفیہ طور پر مدد کریں تاکہ معاشرے میں ان کو طعنہ نہ ملے۔اس مقصد کے لئے ہلپ لائن میں تعینات لوگوں کی خصوصی تربیت کی جائے۔

مذکورہ اقدامات کے علاوہ اس مسلے کے دیر پا حل کے لئے ماہرین کی مدد سے گہری تحقیق کرائی جائے تا کہ اس کے اصل محرکات تک پہنچا جا سکے اور اسی تحقیق کی مدد سے اس کے تدارک کے لئے پالیسی اور قانون سازی بھی کی جائے۔ایک مو ثر آگاہی چلانے کے لئے اساتذہ ، علماء، سیاستدان ، صحافی ، ڈاکٹر، ماہرین نفسیات ،وکلا ، شعراء سمیت دیگر شعبوں کے لوگوں کی مدد لی جائے اور ان کو ہدایت کی جائے کہ وہ لوگوں میں مایوسی کی جگہ امید پیدا کرنے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments