کوہستان ویڈیو سکینڈل کا شاخسانہ، مکانات کو مبینہ طور پر آگ لگانے سے تین معصوم بچے جان بحق

42 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان ( شمس الرحمن شمسؔ ) کوہستان کے دور افتادہ گاؤں گدار بانڈلُو میں کوہستان ویڈیو سکنڈل کی کڑی نے ایک اور انسانیت سوز واقعے کو جنم دیاہے۔ مکانات کو مبینہ طور پر آگ لگانے سے تین معصوم بچے جان بحق ہوگئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق تھانہ پالس سے تیس کلومیٹر فاصلے پر گدار بانڈلو نامی گاوں میں یہ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے آٹھ سالہ بچی حسینہ کی لاش برآمد کی ہے جس کو پوسٹ مارٹم کیلئے قریبی ہسپتال لے جایا گیاہے جبکہ دو بچوں (عارف، عاظمہ بی بی دختر سلام الدین) کی لاشیں تاحال نہیں مل سکی ہیں۔

پولیس کے مطابق تھانہ پالس میں علت نمبر 73دفعات 302,436,427,429,349اور 148کے تحت آٹھ سالہ حسینہ کے والد محمد شریف کی درخواست پرپولیس نے کوہستان ویڈیو سکنڈل کے مرکزی کردار افضل کوہستانی اور ان کے دو دو بھائیوں(ضیا الحق و گل شہزادہ پسران نارنگ جو ویڈیو میں ڈانس کرتے نظر آرہے ہیں) کے خلاف قتل اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیاہے ۔جبکہ افضل کوہستانی اور اُس کے بھائیوں نے پولیس پر اُن کے مخالفین( ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کے ورثاء) کی طرفداری کا الزام لگاتے ہوئے مقدمات کو بے بنیادقراردیاہے ۔افضل کوہستانی کے مطابق وہ چھ سالوں سے ضلع بدرہیں اور اُن کے بھائیوں کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہےکہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرے۔

واضح رہے کہ 2012میں قریباً دو سال پرانی موبائل فون فوٹیج، جس میں آزاد خیل قوم کی پانچ لڑکیاں اور صالح خیل قوم کے دو لڑکے، مقامی گیت پر ایک کمرے میں تالیاں اور ڈانس کررہے تھے، منظر عام پر آئی تھی۔ جس کے بعد آزاد خیل قوم کے گرینڈ جرگے نے علاقائی رسم و رواج کے مطابق مبینہ طور ویڈیو میں نظر آنے والے تمام لڑکیوں اور لڑکوں کے قتل کافیصلہ کیا ،جس کی خبر میڈیا پر نشر ہوگئی بعدازاں یہ فوٹیج کوہستان ویڈیو سکینڈل کے نام سے مشہورہوئی اور یہ کیس دنیا بھر میں پاکستان کیلئے ہائی پروفائل ٹسٹ کیس بن گیا۔اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے انسانی حقوق ، منتخب نمائندوں اور جوڈیشل افسران پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جس نے اُس وقت کے وزیراطلاعات خیبر پختونخواہ میاں افتخار حسین کے ہمراہ اسی گاؤں گدار کا دورہ کیااورجہاں ان کے سامنے لڑکیاں پیش کی گئی ۔ کمیشن کے ایک ممبر فرزانہ باری نے ایک لڑکی کے زندہ نہ ہونے پر اختلافی نوٹ لکھا۔ افضل کوہستانی جو اس کیس کو میڈیا پر لانے والا اور ویڈیو میں ناچتے دکھاتے دینے والے ضیا الحق اور گل شہزادہ کا بڑا بھائی ہے نے سپریم کورٹ میں الگ سے کیس داخل کیا کہ تمام لڑکیاں گاؤں گدار میں ذبح کی جاچکی ہیں اور اب اُن کے خاندان کی زندگیوں کو خطرہ ہے اور وہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں ۔سپریم کورٹ نے کمیشن کی اکثریتی رپورٹ پر کیس تو نمٹایا مگر آزاد خیل قوم نے افضل کوہستانی کے تین سگے بڑے بھائیوں کو پالس میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُس وقت کی پولیس اور جرگے نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمے میں مطلوب آزاد خیل قوم کے تمام پانچ افراد کو حوالہ پولیس کیا جن کو بعدازاں سزا ئیں بھی ہوئیں اور اب وہ رہا بھی ہوگئے ہیں ۔

اس کیس میں مزید جان ڈالنے کیلئے افضل کوہستانی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے نمائندوں کی مدد سے سپریم کورٹ میں ریوویوپٹیشن دائر کی جس کی سماعت جاری ہے ۔ مبینہ طوپر گزشتہ واقعے سمیت اس کیس سے جڑے گیارہ انسان موت کی منہ میں چلے گئے ہیں ۔ اس کیس کوعالمی پزائی بھی حاصل ہے اور اس پر بین الاقوامی سطح پر ڈاکومنٹریز بھی بن رہی ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔