آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان گلگت بلتستان کے چار اضلاع اور چترال میں ماں اور بچے کی صحت کا نیا پروگرام شروع کرنے جارہا ہے

آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان گلگت بلتستان کے چار اضلاع اور چترال میں ماں اور بچے کی صحت کا نیا پروگرام شروع کرنے جارہا ہے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر)آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان گلگت اورچترال کے زیرنگرانی کام کرنے والے پروگرام Access to Quality Care through Extending and Strengthening Health Systems (AQCESS)کاگذشتہ روزچترال میں ایک تعارفی اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں AQCESS کے پروگرام آفیسر یاسین احمد ،ڈسٹرکٹ کواڈینٹرچترال انوربیگ،میرفیاض،آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے نصرت جہان،سجادزرین ،قدرالنساء،ڈسٹرکٹ ای پی آئی کواڈینٹرچترال ڈاکٹرارشداحمد،نیازاے نیازی ایڈوکیٹ،ڈاکٹرریاض حسین ،تحصیل کونسلر چترال کے لیڈی ممبرفریدہ سلطانہ ،اے کے آرایس پی کے نگہت اورخواتین حضرات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔

ا س موقع پرڈسٹرکٹ کواڈینٹرچترال انوربیگ (AQCESS)پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ (AQCESS)اے کے ایچ ایس پی کاایک پراجیکٹ ہے جوکہ اپنی سرگرمیوں کوگلگت بلتستان کے چاراضلاع غذر،ہنزہ ،نگر،استوراورچترال میں متعارف کروانے جارہاہے جس کابنیادی مقصدان پانچ اضلاع میں ماں بچے کی شرح اموات کوکم کرنا،جنسی مساوات کویقینی بناناان تمام مسائل کوکم کرناجوکہ صحت تک رسائی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ یہ پراجیکٹ ان علاقوں میں ماں بچے کی شرح اموات میں کمی لائے گا جنسی مساوات کوفروع دے گااورعورتوں کوترقی کے مواقع فراہم کریگا۔انہوں نے کہاکہ (AQCESS)پراجیکٹ جی بی اورچترال میں عنقریب ڈسٹرکٹ Gener Advocacy فورم تشکیل دے گاجن میں ہرمکتبہ فکرکے لوگوں کی نمائندگی ہوگی ان میں سے ایک چیئرمین منتخب ہوں گے اوراُن کے تحت تمام ٹارگٹ علاقوں میں لوکل لیول پرGender Advocacy فورم تشکیل دی جائی گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔