گلگت بلتستان میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی کاکردگی

گلگت بلتستان میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی کاکردگی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اچھے سے اچھے درسگاہ میں تعلیم حاصل کریں یہی سوچ کر وہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے ماہانہ ہزاروں روپے کے سکول فیس ادا کرتے ہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی پرائیوٹ سکولزو کالجز کا جال بچھایا گیا ہے مگر ان سکولوں کی کی نگرانی کے لئے تاحال سرکاری سطح پر کوئی ادارہ ایسا وجود میں نہیں آیا ہے جو ان سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لئے اور یہ دیکھا جائے کہ جو شخص پرائیوٹ سکول کھول کر اس میں بہترین تعلیم دینے کے نام پر والدین سے پیسے بٹور رہا ہے وہ سکول بھی اس قابل ہے کہ واقعی میں جو فیس لیا جارہا ہے سکول کے اساتذہ اور بلڈنگ کو دیکھ کر مناسب ہے مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ پرائیوٹ سکولوں کی جتنی تشہر ہوتی ہے ایسا نہیں ہے گلگت بلتستان کے درجنوں ایسے پرائیوٹ سکول ہیں جن کی چار دیواری تک نہیں کسی میں سائنس کا سامان نہیں تو کئی ایسے سکول جو گلی محلے میں کھولے گئے ہیں ان میں مناسب سیکورٹی نہیں دوسری طرف حکومت کے بڑے سرکاری سکولوں میں سیکورٹی کے حوالے سے سکول کی اونچی اونچی چار دیواریاں تعمیر کرارہے ہیں مگر ان پرائیوٹ سکولوں پر سیکورٹی کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دے رہاگلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بہترین تعلیم کے نام پر جگہ جگہ مختلف بورڈ آویزاں ہیں اور اس وقت خطے میں اگر کوئی منافع بخش کاروبار ہے تو وہ پرائیوٹ سکول کھولنا ہے اور اس کاروبار میں کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا ہے کہ جو سکول کھولے گئے ہیں انھوں نے سرکار سے کوئی اجازت نامہ بھی لیا ہے یا نہیں اور جن اساتذہ کو ان سکولوں میں بچوں کی پڑھائی کے لئے رکھا گیا ہے وہ اس معیار پر اترتے ہیں یا نہیں اس حوالے گلگت بلتستان میں محکمہ ایجوکشن کے حکام بھی خاموش ہیں اور یہ لوگ تھوک کے حساب سے کھولے گئے پرائیوٹ سکولز اور کالجز کا دورہ کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگرکسی شخص نے پرائیوٹ سکول کھول دیا ایک دوسال چلانے کے بعد اس کو کسی اور کو فروخت کر دیا ایسے کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوتی اور روزانہ بڑے بڑے بینرز اور پوسٹر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جہاں بچوں کو اچھی تعلیم اور اعلی ڈگری کے اساتذہ سے بہترین تعلیم دلوانے کی نوید سنائی جاتی ہے اور یہ پتہ نہیں چل جاتا کہ جو ذکر پوسٹروں میں کیا جاتا ہے اس معیار کے اساتذہ ان سکولز میں ہیں یا نہیں بعض پرائیوٹ سکولز میں بہتر تعلیم دی جاتی مگر گزشتہ کچھ عرصے میں گلی محلے میں سکولز کا جال بچھایا گیا ہے جسکی وجہ سے سادہ لوح والدین اپنے بچوں کو ان پرائیویٹ اور بعض نام نہاد کالجوں جو نہ توکسی تعلیمی بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان سکولوں میں اعلی ڈگری یافتہ اساتذہ ہیں چند ایک پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے دیگر گلی کوچوں میں بنائے گئے ان سکولوں میں میٹرک پاس مرد وخواتین قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں جسکی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں جو کسی تعلیمی بورڈ سے بغیر کسی این او سی کے کونے کونے میں کھول دیئے گئے ہیں غریب والدین سے بہترین تعلیم کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں اس سے پہلے راقم نے محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کے نوٹس میں یہ بات لائی تھی کہ گلگت بلتستان کے دیگر ڈسٹرکٹ کی طرح غذر میں سوائے چند ایک سکولز اور کالجزکے باقی تمام پرائیویٹ سکول اور کالجز جو کہ جگہ جگہ موجود ہیں ان کالجوں میں نہ تو فرنیچر کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی لیبارٹری نام کی کوئی چیز اس کے باوجود غذر کے بعض سرکاری کالجزکی انتظامیہ ان کالجوں کے طلباء کو کالج کے ریگولر طلباء میں شامل کر کے باقاعدہ بورڈ سے امتحان دینے کی اجازت دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے حالانکہ پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء نے انٹرکالج کو دیکھا تک نہیں ہوتا اس کے باوجود ان کو پرائیوٹ کی بجائے بعض سرکاری کالجز کے زمہ داران ان کو اپنے کالج کا ریگولر سٹوڈنٹ شو کرتے ہیں اور طالب علم کالج کا ریگولر طالب علم کی حثییت سے امتحان میں شامل ہوتا ہے حالانکہ کالج کے ایک ریگولر طالبعلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ سالانہ 75فیصد حاضری کو یقینی بنائے مگر نہ جانے کیوں سر کاری انٹرکالجز میں بورڈ کے اس رول کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور بغیر بورڈ کی اجازت والے نام نہاد کالجوں کے سٹوڈنٹس کو ریگولر شو کر کے ان کے فارم بورڈ کو ارسال کیے جاتے ہیں اگر محکمہ تعلیم کے اعلی حکام نے فوری طور پر ان نام نہاد کالجوں اور سکولوں کو بند نہ کیا تو گلگت بلتستان میں تعلیم کا معیار مکمل طور پر ختم ہوکر رہ جائیگا اس سلسلے میں ممبران قانون ساز اسمبلی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قوم کے ان معماروں کے ،مستقبل سے کھیلنے والے افراد کا محاسبہ کریں جو ہر گلی کوچے میں ایک سکول کھول کر اور این جی او بنا کر ڈونر زسے پیسے بٹورنے کی جو حرکت کرتے ہیں وہ کسی طور پر بھی یہاں کی قوم اور طلباء دونوں کے لیے نیک شگون نہیں ہے حالانکہ ایک طرف بھاری فیس اور سے کسی ڈونر کی بھی تلاش کی جاتی ہے تاکہ کسی طرح ان کو بھی اپنی جال میں پھنسا کر رقم بٹور لی جائے خطے میں اگر پرائیوٹ سکولز کھولنے کے لئے کوئی واضع پالیسی نہ بنائی گئی تو ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائیگا اور بعض سرکاری کالجز کے حکام پرائیوٹ طالب علموں کو ریگولر شو کرکے ان کے فارم پر دستخط کرتے ہیں حکومت کے زمہ داران ایسا افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائے جبکہ جو سرکاری کالجز کے حکام پرائیوٹ طلبا کو اپنا کالج کا ریگولر طالب علم شو کرکے ان کے فارم پر کرکے دستخط کرتے ہیں اس سے سالانہ آنے والا بدترین رزلٹ بھی کالج انتظامیہ کے لیے بدنامی کا سبب بنے گا اور یہ رزلٹ قراقرم بورڈ کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے آج کل سکول کھولنے اور ہر گاؤں میں دو دو کالج چلانے کا جو رواج چل رہا ہے اگر قراقرم بورڈ اور ایجوکشن کے زمہ داران اپنے دفتروں سے نکل کر ان تمام نام نہاد کالجوں کا دورہ کریں تو ان کو اندازہ ہوگا کہ خطے میں کتنے غیر قانونی طور پر پرائیوٹ کالجز چلائے جاتے ہیں اگر پھر بھی قراقرم بورڈ اور ایجوکیشن کے حکام خاموش تماشائی بنے رہے ا ورپرائیوٹ کالجز کو کھلی چھٹی دے رکھی تو گلگت بلتستان میں تعلیمی نظام بد سے بدتر ہوتا جائے گا اوریہ قوم کے معماروں کے لئے کوئی نیک شگون نہیں اس حوالے سے ہمارے حکمرانوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ ہزاروں روپے ماہانہ پرائیوٹ سکولز اور کالجز کو والدین ادا کرتے ہو اور تعلیم بھی وہ معیار کی نہیں دی جاتی ہو اور اس کے باوجود بھی حکمران خاموش رہے تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔