زکواۃ ،خیرات، صدقات دیں مگر احتیاط سے

زکواۃ ،خیرات، صدقات دیں مگر احتیاط سے

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عمر حبیب

رمظان المبارک کے مقدس ماہ میں جہاں مسلمان روزہ رکھتے ہیں،قر آن پاک کی تلاوت کرتے ہیں ،اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں وہاں دل کھول کرصدقات اور خیرات بھی کرتے ہیں ،اسلام کا تصور زکواۃ خیرات اور صدقات کا فلسفہ معاشرتی انصاف پر مبنی ہے ،بہترین اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کیلئے یہ نظام تشکیل دیا گیا ہے جہاں مسلمانوں کو خیرات زکواۃاور صدقات کی تلقین کی گئی ہے وہاں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ جس کا حق ہے اسے پہنچایا جائے لیکن ہم اتنے آرام طلب ہو چکے ہیں کہ کسی تحقیق کے بغیر کسی کو بھی خیرات اور صدقات دے کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری دی ہوئی رقم استعمال کہاں ہو رہی ہے کیا حقدار پر خرچ ہو رہی ہے یا انسانیت کی بربادی کیلئے خرچ ہو رہی ہے یہ وہ نقطہ ہے جس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارہ دی ہوئی رقم سے ہمیں ہی مارنے کا سامان دہشت گر دتنظیمیں پیدا تو نہیں کر رہی ہیں پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر صدقات و خیرات اور زکواۃ کی رقومات سب سے زیادہ دی جاتی ہے۔درجنوں تنظیمیں اِن رقومات کو غریب اور حقدار تک پہنچانے کی دعویدار ہیں۔ پاکستان میں اِن رقومات کی سالانہ رقم معلوم کرنا اِس لئے بھی مشکل ہے کہ ہزاروں لوگ اپنی زکواۃ، خیرات اور صدقات کی رقومات خفیہ طور پر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ رقومات آج تک معمول کے حساب کتاب میں نہیں آئی ہیں۔زکواۃ، عطیات، صدقات، خیرات اور عشر کی مجموعی رقم معلوم کرنے کے لئے مختلف ادوار میں محتاط سروے کئے گئے ہیں، جن میں 2001ء کے قریب یہ رقم 100 ارب کے قریب تھی۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستانی سالانہ 554 ارب روپے خیرات کرتے ہیں۔ یہ وہ مملکت ہے جہاں پر عبدالستار ایدھی ایک روز کے لئے جھولی پھیلاتے تھے تو کچھ ہی گھنٹوں میں وہ جھولی لاکھوں روپوں سے بھر جاتی تھی۔ اِنہی رقومات سے لوگ سماجی خدمات سر انجام دیتے نظر آرہے ہیں۔ درجنوں مقامات پر اسپتال، اسکول اور بنیادی سہولیات کے فراہمی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن یہی وہ سروے تھا جس نے اِس سوچ کو مزید توانائی بخشی کہ کیا 554 ارب روپے کی یہ رقم محفوظ ہاتھوں میں ہے یا نہیں؟ایک عام آدمی جو معمولی رقم سمجھ کر 100 روپے خیرات کرتا ہے، اب یہ رقم اسکول کے طالبعلم کے لئے کئی ضروریات بھی پوری کرسکتی ہے اور ایک شرپسند کو شرپسندی کے لئے بھی بھرپور مدد دے سکتی ہے۔ یہ رقم آگ بھی پھیلا سکتی ہے اور آگہی بھی پھیلا سکتی ہے۔اِسی سروے میں محتاط انداز میں اِس سوال کو بھی رقومات مہیا کرنے والے افراد کے سامنے رکھا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی یہ رقم کن ہاتھوں میں جاتی ہے؟ آپ کی یہ رقم ایک قیمتی جان کو بچا بھی سکتی ہے اور بے گناہ موت مار بھی سکتی ہے؟ اِس سوال کے جواب میں 26 فیصد افراد کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اُن سے رقم لینے والے ’ہاتھ‘ کیا کرتے ہیں اور کہاں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ایک بڑی تعداد نے اِس بات کے جواب میں اثبات سے سر ہلایا کہ وہ خدشہ محسوس کررہے ہیں کہ اُن کی جانب سے دی جانے والی رقومات کو غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔وطنِ عزیز میں ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ جو دہشتگردی پھل پھول رہی ہے، اُس کے اثرات بغیر کسی حدود کے دوسرے علاقوں تک جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی مہینوں میں افضل ترین مہینہ ہے، یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں فلاح و بہبود کے لئے دی گئی رقومات میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ پورے سال کے مقابلے میں صرف ماہِ رمضان میں یہ رقم 70 فیصد ہوتی ہے۔ اگر 554 ارب روپے کا 70 فیصد نکالا جائے تو یہ رقم 350 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے، گویا پاکستان میں ماہ رمضان میں زکواۃ، خیرات، صدقات و دیگر عطیات کی مد میں 3500 ارب سے زائد روپے اکھٹے ہوتے ہیں۔ہم اگر اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ یہ رقم محفوظ ہاتھوں میں ہے یا غلط ہاتھوں میں، تو یقیناً نہ صرف مذہبی فریضہ جرم کی شکل اختیار کرجائے گا بلکہ قومی لحاظ سے بھی ہم اپنی نظروں میں مجرم ٹھہر جائیں گے۔ دہشتگردوں کی مذمت اور خود کش حملوں کی رد میں عالم امت کا اجماع ہے کہ قر آن و حدیث کے مطابق یہ سبھی آخرت میں جہنم کا حقدار ٹھہریں گے۔اسی ضمن میں عالم اسلام کے کئی مفتیوں اور علماء نے یہ فتویٰ جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص دہشتگردوں اور خود کش حملہ آوروں کی کسی قسم کی مالی امداد کرے گا وہ ان کے گناہ اور جرم میں برابر کا شریک ہو گا اور اس کا انجام بھی انہی کے ساتھ ہو گا۔ لٰہذا ہمیں اس دینی امر کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت نہیں دیکھانی چاہے اور یہ ہر حال میں ممکن بنانا چاہے کہ ہماری زکوٰۃ او ر خیرات کی رقوم قتل و غرت گری کی مرتکب تنظیموں اور ان کی رہنماؤں کے ہاتھوں میں نہ چلی جائیں۔دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل کو ختم کرنا یقینی طور پر ملک میں انسداد دہشتگردی میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عوام الناس اور مخیر حضرات آمدہ رمضان المبارک میں فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوے اپنی زکوٰۃو خیرات صدقہ فطر پوری احتیاط سے ادا کریں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔