غذر میں خودکشیاں ۔۔۔۔۔اسباب و عوامل

غذر میں خودکشیاں ۔۔۔۔۔اسباب و عوامل

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:شکور علی زاہدی

ضلع غذد رقبہ کے لحاظ سے گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اسکا کل رقبہ11919مربع کلومیٹر ہے جو چار تحصیلوں پر مشتمل ہے اس میں پونیال کا رقبہ1639،یاسین2258، گوپس5232اور اشکومن کا رقبہ2792مربع کلومیٹر ہے۔2016کے ایک سروے رپورٹ کے مطابق غذر کی کل آبادی تقریباََ2لاکھ نفوس پر مشتمل ہے غذر کے شمال میں افغانستان اور وادی ہنزہ اور مغرب میں چترال جنوب میں داریل تانگیر اور کوہستان کو علاقہ جبکہ مشرق کی سرحد ضلع گلگت سے ملی ہے۔غذر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔قبل اسلام یہاں بدھ مذہب کے پیروکار آباد تھے۔حضرت عثمان کے زمانے میں جب بدخشان فتح ہوا تو خراسان اور بدخشان سے مبلغین اسلام کی تبلیغ دین کیلئے غذر کی پہاڑی دروں کا رخ کیا۔سولویں صدی میں بدخشان کے حکمران تاج مغل کی توسط سے حضرت پیر ناصر خسرو اور ان کے شاگر دعوت اعلانیہ کا پیغام لے کر غذر گلگت، ہنزہ، چترال اور سنٹرل ایشیاء وارد ہوئے اور تبلیغ دین کے فرائض انجام دئے1895 ؁ء مین انگریزوں نے شندور پہاڑ کو غذر اور چترال کی مستقل سرحد قرار دیا۔1947 ؁ء میں غذر کے عوام نے جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔1974 ؁ء میں ان چاروں تحصیلوں کو ملا کر حکومت نے ان علاقوں کو ضلع غذر کا درجہ دیا۔1999 ؁ء کے سانحہ کارگل میں غذر سے تعلق رکھنے والے لالک جان نے پہلے دفعہ نشان حیدر لے کر پورے ضلع کو جی بی سمیت وطن عزیز پاکستان میں بلند مقام عطا کیا۔اس کے بعد یہ خطہ شہدا اور غازیان کی سرزمین سے منسوب ہوا۔

غذر کے عوام محب وطن جفاکش محنتی دلیر بہادر مہمان نواز اور امن کے داعی ہیں علاقے کی پسماندگی کے سبب80%عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی میسر کررہے ہیں ضلع غذر کی شرح خواندگی 85%ہے جن میں مرد میں85%اور خواتین میں75%ہے۔سرکاری سطح پر غذر میں تعلیم ،صحت پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے جس کی مثال یہ ہے آج تک غذر میں کوئی گرلز ڈگری کالج کا قیام نہیں ہواہے۔ لیکن آغاخان ایجوکیشن سسٹم کی وجہ سے یہاں کی شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔غذر میں70فیصد سے زیادہ لوگ بے روزگاری کی وجہ سے مزدوری کے شعبہ سے منسلک ہیں جبکہ20فیصد عوام پاک آرمی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور باقی10فیصد عوام سرکاری و غیر سرکاری ملازمت سے وابستگی رکھتے ہیں۔

غذر میں خودکشیوں کا آغاز2000 ؁ء میں ہوا2000 سے2004تک خودکشی کے60واقعات پیش آئے۔2000سے2016تک300خودکشی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔جبکہ2017کے وسط تک یہ تعداد350تک پہنچ چکی ہے۔جی بی میں سالانہ15سے 20کے واقعات خودکشاں ہوئی ہیں جن میں 10سے15تک خودکشیاں غذر میں ہوئی ہیں جبکہ2011سے2016تک پورے گلگت بلتستان میں196افراد نے خود کو موت کے حوالہ کردیا۔دنیا کے دیگر ممالک میں10ہزار آبادی کے پیچھے 96علاوہ لوگ خود کشی کرتے ہیں ان میں40فیصد واقعات جاپان، چین اور ہندوستان میں رونما ہوتی ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں روس میں ہوتی ہیں۔یہاں ایک لاکھ کے پیچھے30لوگ سالانہ خودکشیاں کرتے ہیں اس کے بعد چین جاپان اور ہندوستان کا نمبر آتا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ملک ہندوستان میں ہر سال2لاکھ افراد خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

خودکشی کا مطلب ہے اپنے ہاتھ سے اپنی جان کو خیر باد کرنا۔یعنی زندگی سے تنگ آکر اس کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرنا ہے۔اسلام اور انسانیت میں خودکشی کرنا حرام ہے اور سب سے بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پورے انسانیت کی جان بچائی۔خودشکی انتہائی مایوسی کا ذریعہ ہے۔جبکہ مایوسی حرام ہے۔خودکشی کرنے والا انسان دنیا میں زندگی کی بہتری نعمت سے محروم ہوتا ہے۔اور آخرت میں وہ داخل جہنم ہوتا ہے۔یعنی خودکشی دنیا اور آخرت دونوں کیلئے عذاب کا ذریعہ ہے۔لہٰذا بحیثیت انسان اور مسلم ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم سب اپنے آپ اور دوسروں کو اس لعنت سے بچائیں اور دین کی صحیح اصولوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی کی قدر کریں۔خودکشی اسوقت ہوسکتی ہے جب انسان کو اپنا کوئی ذاتی مسلہ حل کرنے کیلئے ذریعہ اور وسیلہ نہ ہو اور وہ کسی ایسے مسلے میں مبتلا ہو جس کا ذکر وہ سماجی رسومات غربت اور دیگر وجوہات کی وجہ سے اپنے خاندان یا رشتہ داروں میں شیر نہ کرسکتا ہو۔ان مسائل سے بچنے کیلئے اسلام نے دوستی کا باب بھی کھول دیا ہے۔ اب مجبور انسان اپنے والدین اور رشتہ داروں سے وہ مسلہ بیان نہیں کرسکتا ہے لیکن دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جس میں اس مسلے کا حل موجود ہے۔اس لئے حضرت علی نے فرمایا ہے”دنیا میں غریب انسان وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو” حضرت امام موسیٰ کاظم فرماتے ہیں کہ کہ رشتہ داری دوسی کی محتاج ہوتی ہے اور دوستی رشتہ داری کی محتاج نہیں ہوتی ہے۔بعض انسان اپنی ذاتی معاملات سے آگاہی کیلئے اپنے من پسند لوگوں سے رشتہ، دوسی برقرار رکھتے ہیں تاکہ دوستی کے ذریعے ان کے اپنے مسائل حل ہونے میں مدد رہے کیونکہ مخلص دوستی ہی انسان کو اس عظیم مصیبت سے بچاسکتا ہے۔ضلع غذر کا المیہ توجہ طلب مسلہ ہے۔2000سے اب تک ضلع غذر میں تقریباََ350افراد نے خودکشی کی ہے جن میں 90فیصدخواتین اور10 فیصد مرد ہیں۔خواتین خودکشی میں80فیصد خواتین ان پڑھ اور20فیصد تعلیم یافتہ ہیں10فیصد مردوں میں90فیصد طالب علم ہیں جن کی عمر 15سے 25سال کے درمیان ہوسکتی ہے۔

غذر میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔جس کا ادراک کرنا انتہائی ضروری ہے۔اول یہ کہ غذر میں غربت اور بیروزگاری خودکشی کرنے میں بنیادی کردار ادا کررہی ہے جس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔دوسرا یہ کہ ماں باپ شادی بیاہ کے معاملے میں اپنی مرضی سے کام لیتے ہیں۔اپنی بچیوں کی زبردستی ایسے افراد سے شادی کرواتے ہیں جن کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوسکتی ۔جس کی وجہ سے خواتین میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔نیز یہ کہ غذر میں خواتین زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور مرد زیادہ تر مزدور ، بیروزگا اور دیگر ایسے شعبوں سے وابسطہ ہین جو ایک تعلیم یافتہ لڑکی کے سامنے قابل قبول نہیں ہوسکتے ہیں۔لہٰذا اس بنیادی فرق کی وجہ سے بھی خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔چوتھا یہ کہ موجودہ دور میں موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے دیگر لڑکے اور لڑیاں غلط فہمی میں قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں جو بعد میں خوکشی کا سبب بنتا ہے۔پانچواں یہ کہ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کے اندر چلانے والے ڈرامے اورفلمیں وغیرہ اس چیز کا ارکاب ہوسکتے ہیں۔خصوصاََ خواتین انڈین ڈرامے اور فلمیں دیکھ کر اپنا ذہنی رجحان اس طرف مائل کرکے خودکشی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔چھٹا یہ کہ معصوب بچیاں معاشرے میں لگائے گئے بے جا الزامات کے متعلق اپنے ماں باپ کے سامنے زبان نہیں کھولتی بلکہ اپنی عزت بچانے کے خاطر خودکشی کرنے پر ترجیح دیتی ہیں۔ساتواں یہ کہ اکثر ماں باپ اپنے بچوح کو دوسرے کے بچوں کے مقابلہ کراکر انھیں احساس کمتری میں مبتلا کردیتے ہیں جس کی وجہ سے بچے خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔آٹھواں یہ کہ اکثر مائیں ان پڑھ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بچیوں کی نفسیاتی اور جذباتی معاملات اور مسائل کو نہیںٍسمجھ پائی جن کی وجہ سے ان کی بچیاں خودکشی کرتی ہیں ۔ نواں یہ کہ عوام کے اندر روحانی تربیت کی کمی اور دین سے ناآشنائی کی وجہ سے اللہ پر یقین کامل کے بجائے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔جو بعد میں خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا علماء کرام جماعت خانوں اور مساجد میں عوام کی بھرپور روحانی اور دینی تربیت کریں تاکہ عوام اس مصیبت سے جان چھڑا سکیں۔دسواں یہ کہ اکثر 15سے25سال تک طالب علم امتحان میں ناکامی کی وجہ سے بھی خودکشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔گیارھواں یہ کہ حکومت کی جانب سے عدم توجہ کی وجہ سے یہی معاشرے میں خودکشیوں کا رجحان بھڑتا ہوا جارہا ہے اور بارھواں یہ کہ مختلف سماجی ادارے اور میڈیا کا بنیادی کردار نہ ہونے کی وجہ سے بھی غذر میں خودکشیوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔بعض اوقات غیرت کے نام قتل ذاتی دشمنی اور دہشت گردی کے عناصر کو بھی دبانے کیلئے خودکشی کا رنگ دے کر اس حقیقت کے اوپر پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔اور چودھواں یہ کہ اسلام آزادی کا علمبردار ہے۔لیکن بعض گھرانوں میں خواتین سے ان کی آزادی کا جائز حق چھین کر انھیں مجبور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے خواتین خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔