مجھے جینے دو – حصہ دوئم

مجھے جینے دو – حصہ دوئم

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ سے پیوست

’’یہ حالت کسی ایک فرد کی ہو یا چند کی ،اتنی سنگین نہیں ہوتی۔مگر مجموعی طور پر ایک وسیع خطے پر اس کی نحوست چھا جائے تو یقینی طور پر اس کی سنگینی محسوس کی جاتی ہے۔ضلع غذر میں خودکشیوں کی جتنی بھی وجوہات گِنوائی جاتی ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ سماجی محرومیاں ہیں۔غذر کا علاقہ پہاڑوں کے بیچ دور دور تک پھیلی وادیوں کا مرقع ہے۔زمینی خد و خال ایسے ہیں کہ بہت سی وادیا ں شہر کی روشن دنیا سے دور ہیں ۔صحت ،تعلیم ،سماجی ترقی اور معاشی آسودگی سے اکثر محروم ہیں ۔وہاں کے نوجوان (لڑکے بھی لڑکیاں بھی)شہروں میں جاکر پڑھتے ہیں ۔ان کی تعلیم کا بنیادی مقصد ایک عدد نوکری کا حصول ہوتا ہے۔وہ بہت سے نئے خواب آنکھوں میں بسا کر فارغ ہوتے ہیں۔مگر ان میں سے اکثر کی آدھی ادھوری تعلیم ،پھر ستم بالائے ستم روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی ،ان کے خواب چکنا چور کر دیتی ہے۔انہیں گھر بسانا ہے۔ایک خاندا ن کی کفالت کرنی ہے۔ایک پُر آسائش زندگی گزارنی ہے۔جب اس میں ناکام ہوتے ہیں تو گھر اور زندگی میں مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔بیوی بچوں کی ذمہ داریاں ،ماں باپ کی امیدیں ،اپنی سماجی زندگی کی محرومیاں ۔۔۔یہ سب اتنی شدت سے گھیر لیتے ہیں کہ کہیں لڑکا موت کو گلے لگاتا ہے ۔کہیں اس کی وجہ سے متاثر کوئی لڑکی ہمت کے ساتھ ساتھ جان بھی ہار جاتی ہے۔۔۔

’’ایک دوست بتا رہا تھا۔اس کے ہمسائے میں ایک پڑھی لکھی شادی شدہ لڑکی نے خودکُشی کی۔اس کی شادی ہوئے تین سال ہوئے تھے۔ایک دو سا ل کا بچہ بھی تھا۔اس کا شوہربھی پڑھا لکھا تھا۔گلگت سے بی اے کرنے کے بعد اور تو کچھ نہ کیا ،شادی کی تھی۔شادی میں کچھ تو بوڑھے ماں باپ کی خواہش تھی اور زیادہ تر دل کی فرمائش تھی۔لڑکی مقامی کالج میں پڑھتی تھی۔دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ۔لڑکے نے رشتہ بھیجا تو بھائیوں نے اس کی بے روزگاری اور کم تر ذات سے تعلق کی وجہ سے انکار کیا۔اس کا باپ فوت ہوا تھا۔جنونِ شوق میں وہ اتنا آگے بڑھی تھی اس نے ماں کے ذریعے انتہائی اقدام کی دھمکی دی ۔بھائی مجبور ہو گئے ۔ان کی بیویوں نے بھی تنہائی میں کہا۔’’لڑکی جوان ہوئی ہے۔اچھے رشتے کے انتظار میں کل کلاں کوئی دوسری مصیبت نہ آئے۔یہ رشتہ منظور کر لیں ۔جوان جہان لڑکی کسی اور کی ذمہ داری میں چلی جائے گی۔‘‘

لڑکے کے گھر کی مالی حالت بہتر نہیں تھی۔باپ کی جوانی ڈھل چکی تھی۔کھیت مزدوری کی محنت سے بیٹے کو پڑھایا بھی تھا،اپنا گھر بھی چلا یا تھا۔اب بیٹا پڑھ کے آیا تو کچھ پیسے کمانے سے پہلے بیوی کا اضافی بوجھ لے آیا تھا۔شادی کے بعد ہی اسے احساس ہوا کہ گھر کیسے چلتا ہے؟جذبات کے تقاضوں سے مجبور ہوکر شادی کی تھی ،اب عملی زندگی کے تقاضوں سے آٹے دال کا بھاؤ پتا چلا۔پہلے باپ ہی سب کچھ کرتا تھا ۔اب بیوی کے لیے اسے بھی ہاتھ پاؤں چلانے تھے۔گھر میں ماں ،دو بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔ان کی کفالت بھی کرنی تھی۔شادی کے ابتدائی چند مہینے تو جیسے تیسے رنگین موسموں میں گزر گئے۔پھر مسائل آنکھیں دکھانے لگے۔ایک سال بعد بیٹا بھی پیدا ہوا ۔باپ اس کی بیوی کا بھی ،اور اب بچّے کا بھی خرچہ کب تک برداشت کرتا۔اس نے صاف صاف بتا دیا۔’’اب بیوی بچے کے لیے خود کماؤ۔نوکری نہیں ملتی ہے تو مزدوری کرو۔میں نے زندگی بھر محنت مزدوری کر کے تم سب کو پالاپوسا ہے۔ا ب میری بوڑھی ہڈیوں میں سکت نہیں۔تمہارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔خود کماؤ اور اپنی بیوی بچے کو کھلاؤ۔‘‘

باپ نے فیصلہ سنا دیا تھا۔گھر کے اندر ہی ایک علا حدہ کمرے میں وہ رہنے لگے۔وہ اپنی آدھی ادھوری تعلیم کے ساتھ دفتروں میں جوتے گِھساتا رہا۔چھوٹے بڑے افسروں اور لیڈروں کے جوتے سیدھے کرتا رہا ۔ایک ایک نوکری کے لیے سینکڑوں امیدواروں کی کھینچا تانی دیکھ دیکھ کے مایوس ہوتا رہا ۔وہاں سے مایوس ہو کرکچھ عرصہ بعد شہر آکے محنت مزدوری شروع کی۔اس کی بیوی شوہر کی غیر موجودگی میں بھائیوں کے پاس آکر رہنے لگی تھی۔وہاں چند دن تو سہارا مل گیا۔جلد ہی بھابیوں نے رنگ ڈھنگ دکھا نا شروع کیا ۔اخراجات اور تنگ دستی کا رونا رو کر شوہروں کے کان بھرنے لگیں ۔ساتھ ساتھ اسے بھی طعنے اور طنز سے مجروح کرنے لگیں۔اس کا بچہ گود میں تھا۔وہ کبھی دودھ کے لیے ،کبھی دوائی کے لیے اور کبھی کپڑوں کے لیے ترس جاتا تھا۔مگر بھابیوں کے رویے ایسے سرد ہوتے کہ اس معصوم کے لیے بھی ہم دردی پیدا نہ ہوتی۔اس کے بھائی بھی بیویوں کی عینک پہن کر اسے دیکھنے لگے تھے۔

بڑے عرصے بعد شوہر کچھ رقم کما کر گھر آیا ۔بیوی اور بچے کی بدحالی جان کر کٹ سا گیا۔جو تھوڑے بہت پیسے لے آیا تھا ۔ان سے چند د ن تو آسودگی سے گزر گیے۔اس کے بعد وہی تپتی دھوپ تھی۔پسند کی شادی کا جو رومانس تھا وہ کب کا ٹوٹ چکا تھا۔اب محرومیاں تھیں،دکھ اور مصائب تھے۔ان حالات کا اثر ان کے باہمی تعلق پر بھی پڑا۔وہ اکثر آپس میں لڑنے لگے۔مالی اور ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے شوہر اسے مارنے لگاتھا۔

آئے دن جھگڑے بڑھنے لگے۔شوہر کے ماں باپ یہ سب دیکھ رہے تھے۔اس کی وجوہات وہ جانتے تھے۔وہ بھی بے وسیلہ تھے۔محض تماشا ہی دیکھ سکتے تھے۔آہستہ آہستہ پورے محلے والے ان کی لڑائی جھگڑے کا تماشا دیکھنے لگے۔لڑکی کے لیے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی بات تھی۔بھائیوں کے دروازے بھی ان کی بیویوں نے بند کر دئے تھے۔سسرال میں بھی پناہ نہیں تھی۔پھر یہ مسائل اور دکھ اتنے گہرے ہوئے کہ وہ ٹوٹ گئی۔اس کے اندر کی پڑھی لکھی لڑکی اور دو سال کے بچے کی ماں مر گئی۔زمانے کی ستائی ہوئی ایک بے بس لڑکی رہ گئی۔

’’وہ دیکھتی اور سنتی آئی تھی کہ حالات سے مجبور ہوکر کئی لڑکیوں نے خودکُشی کی تھی۔وہ اسے برا سمجھتی تھی۔مگر اب خود ایسی دلدل میں اتر گئی تھی جہاں سے نکلنے کے لیے کوئی طریقہ سُجھائی نہیں دے رہا تھا۔پھر اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔بچے کی بیماریاں اور محرومیاں اس سے دیکھی نہ گئیں۔جس سے محبت کی شادی کی تھی،اس شوہر کی بدسلوکی اور ستم گری مزید برداشت نہ کر سکی۔اور ایک شام گرمیوں کے بپھرے ہوئے دریائے غذر کی لہروں میں جائے پناہ تلاش کر لی۔وہ بہ ظاہر تو ان دکھوں سے دور چلی گئی،مگر ایک اور قصّہٗ درد ،ایک اور المناک حادثے کے داغ غذر کی مہربان زمین کی چھاتی پہ ثبت کر گئی۔

اگلے دن اخبارات میں اور سوشل میڈیا میں سلگتی خبریں گردش کرنے لگیں ۔حقوقِ انسانی اور نسوانی تنظیمیں حلق پھاڑ پھاڑ کے چلّانے لگیں کہ ظالم شوہر اور ساس نندوں کے ناقابلِ برداشت رویے سے تنگ آکر اس نے خودکشی کی ہے۔کسی نے مزید سنسنی پھیلانے کے لیے سرخی جمائی کہ لڑکی کا کسی کے ساتھ چکّر چل رہا تھا۔شوہر نے قتل کر کے دریا میں پھینک کر خودکشی کا نام دیا ہے۔

اصل حقیقت سے بے خبر ،بڑے بڑے شہروں کے پُر آسائش ماحول میں بیٹھ کر یہ تنظیمیں پدر سری سماج کو ہدف بنا کر گولہ باری کرنے لگیں ۔چند دن چیخ چلّا کر یہ گَرد بیٹھ گئی۔پھر کوئی نیا واقعہ خودکُشی کا رونما ہوا ،اور حقوقِ انسانی اور نسوانی کی اس فوج کو پھر ایک نیا محاذ مل گیا۔۔۔‘‘

بسمل فکری بڑی دیر سے خاموش تھا۔بوجھل بوجھل قدموں سے میرے ساتھ چلتے ہوئے یہ سب سن رہا تھا۔پھر بڑے ہی جوش سے کہا ۔’’اس لڑکی کی خودکُشی سماج کے سینے پہ کلاشن کوف کا پورا برسٹ ہے۔اس سے ہمارے معاشرتی رویوں کی ٹوٹ پھوٹ ظاہر ہوتی ہے۔بہ ظاہر اس لڑکی نے اپنی جان لی تو وہ مظلوم ٹھہری۔اس کا شوہر اور سسرال والے ظالم کہلائے۔میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں منہ بھر بھر کے انہیں بُرا کہنے لگیں ۔کسی نے یہ نہیں سوچا اس ظلم میں اس کی بھابیاں بھی برابر کی شریک تھیں ۔جنہوں نے بھائیوں کے دروازے اس پر بند کر دئے تھے۔۔۔ (جاری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments