بد نصیبی کی حد ہے 

بد نصیبی کی حد ہے 

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے انتہاہی نازک وقت میں سعودی عرب کا دورہ کرکے خلیج کے عرب ملکوں کے اندر جاری تنازعات کو حل کرنے کے لئے مصالحت کی داغ بیل ڈالی ہے وزیر اعظم نے اعلیٰ سطحی سرکاری وفد لیکر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات کی اور خلیج میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی ایسے مواقع پر اخباری نمائندوں کو پوری تفصیلات سے آگاہ کرنے کا دستور نہیں ہے تاہم وزیر اعظم کے وفد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وزیر اعظم نے خلیج میں جنگ کی صورت میں عالم اسلام کو درپیش مشکلات ،دشمن کو ملنے والے مواقع ،قطر اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نازک نوعیت اور اسرائیل کی تازہ ترین حکمت عملی پر اظہار خیال کیا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ملنے والی امداد اور سرپرستی کا تذکرہ بھی فوجی زبان میں کیا ہوگا اب سفارتی چینلوں کو حرکت میں لانے کے بعد وزیر اعظم کو شٹل ڈپلومیسی کی صورت میں قطر اور ایران کا دورہ بھی کرنا ہوگا

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ’’جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل الجہاد ہے ‘‘ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کیلئے دوسرے جابر سلطان سے اجازت لینے کی ضرورت پڑتی ہے وزیر اعظم پاکستان کو ایک ہفتہ پہلے ریاض کا دوسرا ہنگامی دورہ کر کے مصالحتی پیغام دینا چاہیے تھا اسلامی دنیا کی پہلی جو ہری طاقت اور مسلم امہ کی تیسری بڑی فوج کا سپہ سالار ہو نے کی حیثیت سے پاکستان کے وزیر اعظم کو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہونے کے لئے مسلما ن ملکوں میں صلح کرانے میں پہل کرنا پڑتا ہے اللہ تعالی نے ڈاکٹر اے کیو خان اور انکی ٹیم میں شامل سات ہزار سائنسدانوں کے ذریعے یہ ذمہ داری پاکستانی حکمران کے کندھوں پر عا ئد کی ہے کہ عالم اسلام کی قیامت کا فریضہ سنبھالے وزیراعظم محمد نواز شریف نے عراق کویت تنا زعے میں بھی شٹل ڈیلو میسی کرکے 1991میں عراق کو بڑی تباہی سے بچا لیا تھا جو 2003تک موخر ہو گئی سعودی عرب میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز تخت نشین ہو ئے تو تین باتیں میڈیا پر آ گئیں:

پہلی بات یہ تھی کہ شاہ سلمان اعلی تعلیم یا فتہ ہیں انہوں نے امریکہ کی بہترین درسگاہوں سے تعلیم پائی ہے دوسری بات یہ تھی کہ وہ سوشل میڈیا میں بہت مقبول ہیں ان کا ٹویٹر اکاونٹ ہر وقت فعال رہتا ہے اپنی حکومت کے قلیل عرصے میں انہوں نے ایک تبدیلی دکھائی سعودی تا جپوشی اور جانشینی کے دستور کو پس پشت ڈال کر بھائی کی جگہ اپنے بیٹے احمد بن سلمان کو ولی عہد اور جانشین نامزد کیا احمد بن سلمان بھی باپ کی طرح امریکی درس گاہوں کے فارغ التحصیل ہیں بہت پڑھے لکھے نوجوان ہیں عالمی حالات پر ان کی گہری نظر ہے اور عالمی تاریخ پر انہیں پورا عبور حاصل ہے میں سوچتا ہوں کتنی بد نصیبی اور بدبختی کی بات ہے کہ خادم حرمین شریفین کے منصب پر ایک پڑھا لکھا شخص جلوہ افروز ہے اُس کا ولی عہد اور جانشین بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہے مگر پاکستان سے پنجاب کے روایتی تاجر خاندان کا ایک متوسط فرد اور پاکستان کا وزیر اعظم ریا ض جاکر باپ بیٹے کو یہ بات بتا تا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ یہودیوں کے مفاد میں کام کرتے ہیں قطر اور ایران عالم اسلام کے دو اہم ممالک ہیں آپ کو قطر اور ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی تیاری کر کے اسرائیل اور امریکہ کو خوش نہیں کرنا چاہیے کس قدر بدنصیبی کی بات ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم کو عربی نہیں آتی وہ انگریزی زبان میں خادم حرمین شریفین کو سمجھا رہا ہے کہ داعش اور آئی ایس ،القاعدہ وغیرہ اسرائیل کیلئے کام کرتے ہیں شام کی جنگ اور یمن کی جنگ اسرائیل کے مفاد میں لڑی جارہی ہے ہمیں ان جنگوں سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے میں سوچتا ہوں یہ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ پاکستان سے اوسط درجے کا ایک سیاستدان اپنے آرمی چیف کو لیکر خادم حرمین شریفین کی خدمت میں یہ بتانے کیلئے حاضر ہوتا ہے کہ حماس ،حز ب اللہ اور اخوان لمسلمون کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی ہے مسلمانوں کی دشمنی نہیں ہے جس تنظیم کو اسرائیل اپنے لئے خطرہ قرار دیتا ہے وہ تنظیم یقیناًعالمی اسلام کی انکھوں کا تارا ہوگی ہمیں لا محالہ اس تنطیم کی سرپرستی کرنی ہوگی کیونکہ یہ عالم اسلام کے مفاد ات کا تحفظ کرتی ہے کس قدر بد نصیبی کی بات ہے کہ یہ اہم باتیں خادم حرمین شریفین کے علم میں نہیں تھیں پاکستانی قیادت نے ایک ہفتہ انتظار کیا جب واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصالحت کی پیش کش کی تو پاکستان میں بھی گھنٹیاں بجائی گئیں سفارتی زنجیریں ہلائی گئیں وائٹ ہاوس کے مکین سے پوچھا گیا ’’عالی جاہ !کیا آپ کا یہی منشا ہے ؟‘‘جب ایک جابر سلطان کی طرف سے مصالحت کا اشارہ ملا تو تو دوسرے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کیلئے پاکستان کا وزیر اعظم ریاض روانہ ہوا

منیر نیازی نے کیا بات کہی!

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
حقیقت کچھ اور تھی
جاکر ان کو یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments