خدا را ذرا سوچیے ! 

خدا را ذرا سوچیے ! 

69 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : عارف نواز

حضرت شیخ سعدی ؒ کی ایک حکایت شاید آپ حضرات نے بھی سنی ہو گی جس میں آپ (حضرت شیخ سعدیؒ ) ایک بادشاہ کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا جو نہایت سادہ اور معمولی قبا پہنا کرتا تھا ایک دن ا س کے درباریوں نے بادشاہ سے کہا کہ آپ قیمتی قبا پہنا کریں کیونکہ آپ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے اس پر بادشاہ نے ان سے کہا کہ یہ جو خزانہ میرے پاس ہے وہ عوام کا ہے اور یہ میری ملکیت نہیں ہے۔اللہ عزوجل نے جن لوگوں کو صاحب اختیار بنایا ہے انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عہد ہ ان کے پاس ایک امانت ہے اور وہ اس منصف کا حق اسی وقت ادا کر سکتے ہیں جب وہ عوام ا لناس کی فلاح و بہبود کا خیال رکھیں او ر ا پنے آ رام کی بجائے ان کے آرام کو ترجیح دیں۔۔۔۔۔۔۔

افسوس صد افسوس ہر آئے روز سکردو گلگت روڈ پر حادثات ہوتے رہتے ہیں اور بہت سے انسانی جانیں ضیاع ہو جاتے ہیں لیکن ہماری حکومت اس مسلے پر بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آ تی ۔ وزیر اعلی حافظ الرحمن صاحب چاہے خواہ کتنا ہی مخلظ کیوں نہ ہو لیکن ان کے مشیر حضرات صرف سیاسی مقاصد کے لئے ان کو مفت مشورے دیتے ہیں لیکن عام آدمی کی فلاح کے لئے کوئی قابل فخر مشاورت کرنے میں ناکام دیکھائی دیتے ہیں شائد وہ اس کو نیک نہیں سمجھتے۔

بلکل دوسری حکومتوں کی طرح اس غریب روڈ کا افتتاح بھی جناب میاں نواز شریف صاحب نے کیا تھا اور الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد چائینز کمپنی کو دیا ہو ا یہ ٹھیکہ کینسل کروایا اس کے بعد اس کا ٹینڈر د وبارہ کرا کے اس کا ٹھیکہ FWO کو دیا تھا لیکن FWO موجودہ پالیسی کے تحت کام کرنے سے قاصر ہے۔اور وفاقی بجٹ میں سکردو گلگت روڈ کے لئے فنڈز مختص نہ کیا جانا بھی حکومتی بے رخی اور سنگدلی کا ثبوت ہے۔

لیکن عوام کو بے وقوف بنانے کا عمل پہلے کی طرح جاری و ساری ہے ہر آئے روز ہمارے وزیر حضرات سکردو روڈ کے حوالے سے طرح طرح کے اخباری بیانات دیتے تھکتے نہیں ۔ویسے تو ہماری صوبائی حکومت کے حساب سے ہم پہلے کی نسبت بہت تیزی سے ترقی کی ر اہ پے گامزن ہے لیکن حقیقت میں ہم پہلے سے بھی زیادہ پستی کی طرف جا رہے ہیں اگر حکومت کی آگے بھی یہی پالیسی رہی تو گزشتہ حکومت کی طرح یہ حکومت بھی آنے والے انتخابات میں کو ئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی۔ ہم ما نتے ہیں کہ سکردو گلگت روڈ کا ٹینڈر ہو گیا لیکن عوام کو اب بھی یقین نہیں آرہا کیونکہ ان کو اب بھی وہی ڈر لاحق ہے کہ یہ بھی ایک ڈرامہ ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس روڈ کا ٹینڈر ہو ا تھا لیکن اس پے کتنا کام ہوا یہ بھی سب کے سامنے ہے۔

ٹینڈر پے ٹینڈر یہ تو فلموں والی بات ہو گئی کیونکہ اس طرح کی باتیں ہم صرف فلموں میں سنا کرتے تھے لیکن تا ریخ پے تاریخ تاریخ پے تاریخ والی یہ باتیں اب ہمارئے حکمران کر رہے ہیں۔

کیا انسان صرف پنجاب ، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان ا ور گلگت میں بستے ہیں بلتستان میں بسنے والے ا نسان نہیں ؟۔

کیا دوسرے صو بوں میں بسنے والے لوگ معصوم اور بلتستان میں بسنے والے لو گ معصوم نہیں؟

کیا دوسرے صوبوں ا ور گلگت کے لوگوں کی جانیں قیمتی اور سکردو ا ور بلتستان میں بسنے والے لوگوں کی کوئی قدروقیمت نہیں؟

کیا صرف دوسروں کی مائیں ہی مائیں اور یہاں کی مائیں ما ئیں نہیں؟ کیا صرف د وسروں کے بچے بچے ہیں اور بلتستان میں بسنے والے بچے بچے نہیں؟

کیا آپ لو گوں کے پاس سیاست کرنے کے لئے کو ئی او ر ٹاپک نہیں کہ آپ کی سیاست کیوں سکردو ا ور گلگت روڈ پے آ کے ختم ہو جاتی ہے؟

کیا ہرآئے روز سکردو اور گلگت روڈ پے حدثوں میں مرنے والوں کی لاشیں لاشیں نہیں؟

کیا بلتستان کی غریب عوام کو اس طرح نظر انداز کرنا انسانیت کی تذلیل نہیں؟ اگر ہر آئے روز سکردو گلگت روڈ پے لوگ مرتے ہیں تو مرتے رہیں لیکن آپ لوگ ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ر ہیں۔۔۔

اگر ہر آئے روز غریب مائیں اپنے جو ان بیٹوں کے لاشوں سے لپک لپک کر روتی رہیں اور لیڈر ز اپنے بچوں اور فیملی کے ساتھ کبھی اسلام آباد تو کبھی لندن کی سیر و تفری کرتے رہیں۔

وفاقی حکومت ہر آئے روز پہلے سے تیار شدہ سڑکوں کو پھر سے بنا سکتے ہیں تاکہ اپنا ا ور پارٹی کا لیبل لگا سکیں لیکن وہ کام نہیں کر سکتے ہیں جو وقت کی عین ضرورت ہے ۔

ایک مشہور انگریزی قول ہے۔۔۔۔

”With great power comes great responsibility”

and with great responsibility comes great wisdom

کاش اس کا مطلب ہمارے حکمرانوں کی سمجھ میں آجائے

خدا را

کچھ تو سوچیے! کچھ تو شرم کر یں! کچھ تو لحاظ کر یں! کچھ تو ہوش کے ناخون لیں!

لیکن ہمارے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں نے عقلمند تو بنا دیئے ہیں لیکن ان کی یہ عقلمندی کس کام کا اگر وہ غریب عوام کے لئے کچھ نہ کر سکیں۔

ہمارے لیڈر ز شروع شروع میں عوام کے اہم ا یشوز کو لے کے طرح طرح کے دعوئے اور اعلانات تو بہت کرتے ہیں لیکن جب واقعی میں کچھ کرنے کی باری آ تی ہے تو ان حضرات کا یہی بہانہ ہو تا ہے کہ بھائی ہم ان ایشوز کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں لیکن بجٹ کم ہونے کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر پا رہے ہیں ۔

یہاں کے عوام کسی ایک سیاسی جماعت سے گلہ نہیں کر رہے ہیں بس ان سب سے ایک درخواست کر تے ہیں کہ جو اختیار اللہ عزوجل نے آپ لوگوں کو عطا کی ہے خدا را ان اختیار کا حق ادا کریں اور جو ذمہ داری اور طاقت آپ کو للہ نے دیے ہیں ان کا اچھے سے استعمال کر کے غریب عوام کے غموں کا مداوا بنیں اور ان کو آسانیاں فراہم کریں شاید اس طرح آپ حضرات کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔