ریاستی عملداری اور ڈپٹی کمشنر(حصہ اول)

ریاستی عملداری اور ڈپٹی کمشنر(حصہ اول)

1706 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سید عبدالوحید شاہ
(پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس)

جناب علی احمد کرد ملک کے معروف وکیل اور ججز بحالی تحریک کے روح رواں ہیں ، چند سال قبل میرے پاس بعدالت ڈپٹی کمشنر خضدار کسی مقدمہ زمین میں پیش ہوئے ۔ عدالتی کارروائی کے بعد جب ہم دفتر میں جا بیٹھے تو بڑے استعجاب سے سوال کیا کہ شاہ صاحب آپ کے دفتر میں عوام الناس کا ہجوم کچھ زیادہ ہی ہے ۔ میں نے ان کی بات کا جواب دیئے بغیر اپنے دراز سے تین طرح کی فہرستیں برآمد کر کے ان کے روبرو رکھ دیں ۔پہلی فہرست محکمہ مال اور مقدمات زمین کی تھی جو ماہانہ بنیادوں پر تمام اسسٹنٹ کمشنر حضرات اور ان کے ماتحت عملہ کے فیصلہ شدہ معاملات پر مشتمل تھی اور ہر ماہ بذریعہ کمشنر یہ رپورٹ بورڈ آف ریوینو کو بھیجی جاتی تھی ۔ محدود سے عرصے پر مشتمل یہ رپورٹ بلا مبالغہ سینکڑوں کیسز پر مشتمل تھی ۔ جن کا فیصلہ چند دنوں کی تاریخ سے بلا وکیل کئے، بلا فیس کی وصولی ، انتہائی میرٹ کی بالادستی قائم کرتے ہوئے ان سالہا سال مقدمات کا حل تھا کہ جن کی طوالت سے کشت و خون اور قبائلی تنازعہ پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہ ہوا کرتی تھی ۔ دوسری فہرست ان فوجداری مقدمات کی تھی جو بطور لیوز کمانڈر کے ماتحت عملہ تحصیلدار و رسالدار ہر ہفتہ کی بنیاد پر پیش کرتا تھا اور جو بذریعہ کمشنر محکمہ داخلہ کو بھیجی جاتی تھی ۔جن میں چوری ڈکیتی ،اغوا ، قتل و غارت کے علاوہ منشیات اور سمگلنگ وغیرہ کے کیسز شامل ہوتے تھے ، جن کی از حد برق رفتاری سے برآمدگی اور تفتیش کے مراحل مکمل کر کے بعدالت سیشن جج داخل کیا جاتا تھا ، کیسز کی رفتارو معیار کا خود ڈپٹی کمشنر پندرہ روزہ جائزہ لیا کرتا تھا ۔ تیسری اور زیادہ حیران کن فہرست ان عائلی مقدمات کی تھی جو خاندانی جھگڑے اور تنازعے کے سبب عدالت ڈپٹی کمشنر میں پیش ہوتے تھے ۔
یہ تینوں فہرستیں فقط چند ماہ کی تھیں اور کئی ہزار فیصلہ شدہ کیسز پر مشتمل تھیں ۔فہرستیں ان کو تھمانے کے بعد میں نے کہا ، تو حضور اب آپ کا پہلا سوال بحیثیت قانون دان اور وکیل کے یہ ہونا چاہیے کہ جناب ڈی سی صاحب آپ کا دائرہ اختیار کیا ہے ؟ ان تمام کیسز کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ تو عرض یوں ہے کہ جہاں تک معاملات زمین کا تعلق ہے تو وہ لینڈ ریونیو ایکٹ ۱۹۶۷ کے تحت مکمل اختیارات ڈپٹی کمشنر اور اس کے ماتحت عملہ کے ہیں اور ضابطہ دیوانی اس میں باقی عدالتوں کے اختیارات کو ممنوع قراردیتا ہے ۔ رہی بات اس میں بہتری کی تو وہ ہم نے اس کو عوام الناس کے لئے قطعی مفت اور بلا وکیل کے روا رکھا ہے ۔ معاملات کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے ثالثی کی خاطر علاقائی علما ٰحضرات یا کسی معتبر شخص کو سونپ بھی دیا جاتا ہے ۔تاہم اس نوعیت کی ثالثی بیشتر معاملات میں عائلی یا خانگی تنازعات کے لئے زیادہ موزوں اور سہل سمجھی جاتی ہے ۔کسی بھی صورت میں کیس کا دورانیہ دو ہفتوں سے زائد نہ ہوپائے ۔اور سب سے اہم یہ کہ سائل اپنے مقدمات کسی بھی فورم پر کسی بھی وقت دائر کرسکتا ہے اور بسا اوقات وہ اپنی درخواست بیان کرتا ہے اور ہمارا سرکاری اہلکار اس کا مدعا تحریر کر رہا ہوتا ہے ۔اسسٹنٹ کمشنر اور ماتحت عملہ کی طرف سے تاخیر کی صورت میں عدالت کلکٹر کی جانب سے باقاعدہ وضاحت طلب کی جاتی ہے اور اشد تنبیہ کی جاتی ہے ۔
فوجداری مقدمات کی سماعت اگرچہ جوڈیشیل مجسٹریٹ ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرتے ہیں تاہم لیویز علاقہ ہونے کے سبب کیسز کا اندراج اور چالان جمع کرنا ، معاملات کی تفتیش اور گرفتاری و بر آمدگی جیسے معاملات براہ راست تحصیلدار و رسالدار کی ذمہ داری ہوتے ہیں جو کہ ڈپٹی کمشنر کا عملہ ہوتا ہے ۔ ان تمام معاملات کے لئے پندرہ روزہ اجلاس طلب ہوتا ہے اور آئے روز کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے ۔ میں نے ضمناّّ عرض کیا کہ اس ضلع کا پچانوے فیصد علاقہ لیویز کی تحویل میں ہے جیسا کہ بلوچستان کے باقی ۳۰ اضلاع میں ہے ، مگر جرم کی شرح اور کیسز کی عدالتی کارروائی و تکمیل مثالی ہے ۔سبب اس کا یہ ہے کہ ریاستی ادارے(ڈپٹی کمشنر) کو مکمل طور پر تاخت و تاراج کرنے کے باوجود بلوچستان میں ابھی تک ڈپٹی کمشنر بذریعہ لیویز ان اختیارات کا قدرے استعمال کرتا ہے جو کبھی بھلے وقتوں میں ضلع مجسٹریٹ کے پاس ہوا کرتے تھے ۔اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
کچھ مذکور اب اس آئینی و قانونی اختیار کا ہو جائے کہ جس کے تحت میں عائلی و خانگی معاملات کا تصفیہ کرتا ہوں ۔تو جناب یہ صرف اس اعتماد اور مذکورہ بالا دو قانونی اختیارات کی وجہ سے ہے کہ عوام الناس اپنے نجی معاملات عدالت میں لے جانے کی بجائے اس دفتر کے سامنے پیش کر کے ایک گو نہ اطمینان پاتے ہیں ۔اور میرے پاس قانونی جواز یہ باہر فرش پر براجمان وہ گریباں دریدہ مجبور و مظلوم مردو زن ہیں کہ جن کے پاس نہ تو عدالتی کارروائی کے لئے زر کثیر ہے اور نہ ہی وقت ۔جب انہیں آن کی آن میں مبنی بر حق فیصلہ مل جاتا ہو اور وہ بھی بلاتردد و خرچہ اخراجات کے تو انہیں اس سے بہتر چوکھٹ اور کوئی نہیں سوجھتی ۔مجھے سمجھائے کہ میں ایک مفلوک الحال خاتون کو کیا جواب دوں جب وہ میرے دروازے پر دھرنا دے کے بیٹھ جائے کہ اسے سامنے نادرا والا عملہ تنگ کر رہا ہے ، اور اندر ایک شخص تصدیق کے نام پہ کھلم کھلا پیسے بٹور رہا ہے ۔میں اس شخص کو کس طرح سے ٹالوں جو کہتا ہے کہ میرا بیٹا فلاں وڈیرے کے گھر میں مقید ہے اور ریاستی ادارے وڈیرے کے ساتھ شب و روز داد عیش دے رہے ہوتے ہیں ۔میں ان غربا خواتین کو کیا تسلی دوں جن کے شکن آلود ہاتھوں میں پھٹے پرانے شناختی کارڈ ہیں اور وہ ڈاک خانہ کے عملہ کی ہفتوں سے جھڑک کھا رہی ہیں مگر پھر بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط نہیں مل پا رہی ۔ میں ان مشتعل عوام الناس کو کیا تسلی و تشفی دوں کہ جو بجلی پانی کی عدم دستیابی اور بڑھتی ہوئی واردات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ میں ہسپتال میں کسی مریض کے سرہانے کس زبان اور کس یقین سے ہمدردی اور بہتری کے دو بول بولوں ۔ گھریلو ظلم و ستم کی ستائی یہ خاتون اگر اسی در کو اپنا مسیحا سمجھ لیتی ہے تو میں کہاں سے اسے فیملی کورٹ کے لئے وکیل کر دوں اور اپنے در سے دھتکار دوں ۔قبائلی تنازعات کا تصفیہ اگر میرے ہاں سے ہوتا ہو اور وہ بھی بلا کسی حیل و حجت کے تو اس میں امر مانع کیا ہے ۔ ، اس منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے جب میں کسی ضلع کی ذمہ داری سنبھالتا ہوں تو میرے لئے وہ اخلاقی اور انسانی معیار کافی مہمیز ہوتا ہے جس کے بعد میں اس امر سے مبرا ہو جاتا ہوں کہ قانون اس مظلوم ومجبور کے لئے کہاں اور کس کے پاس آسانی رکھتا ہے ۔ مجھے اس سے سرو کار نہیں رہتا کہ اختیارات کا مالک کون ہے ۔ مجھے یہ بات کھائے جاتی ہے کہ بطور سربراہ ضلع اگر کسی کی داد رسی نہ ہو سکی تو بروز قیامت یہ سوال مجھ سے ہو گا ۔ میں تو ان سائلین کو نہیں سمجھا سکتا کہ یہ میرا اختیار نہیں ہے تو بروز محشر رب الخلائق کو کیا منوا سکوں گا ۔ ریاست کا چہرہ اور نمائندہ ہی اگر مہمل اور معدوم ہو جائے تو عوام الناس بھٹکتی پھرتی ہے اور یوں ہر درو دیوار سے ملتجی رہتی ہے کہ آخر کون ذمہ دار ہے ۔ کس سے فریاد کریں ۔ایک دفتر سے دوسرا دفتر دکھایا جاتا ہے دوسرے سے تیسرا ۔جس توجیح پر اس ادارے کو کمزور اور نحیف کیا گیا وہ بظاہر انگریزی استعمار کی علامت و نشانی کہا گیا مگر یہ امر بالکل ہی نظروں سے اوجھل رہا کہ آخر برطانوی سامراجیت کے ساتھ ہی پارلیمنٹ اور اس کے ’’حسین ثمرات ‘‘بھی آئے ریلوے کا نظام ، ڈاک کا، دفاع کا ، امن و عامہ کا ، جنگلات کا ،آب رسانی کا، زرعی آراضی کا،تعلیم و تعلم کا ، رسل و رسائل کا نظام اور دیگر اس طرح کے سینکڑوں ادارے وجود میں آئے اور تاحال شجر بارآور کی طرح سایہ فگن ہیں ۔دیگر ان تمام ممالک میں یہ ادارے ایسے ہی فعال اور مفید ہیں جو برطانوی دور کے زیر سایہ رہے ، ہم ہی نے دور آمریت میں اس ادارے پر ضرب کاری لگائی اور خود اپنی ہی ریاستی گرفت کے حصے بخرے کر دیئے ۔عدالتی کارروائی کا ریکارڈ ملاحظہ کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ۲۰۰۱ سے اب تک کئی گنا عدالتی کیسز میں تاخیر و وزن بڑھتا جا رہا ہے ۔ سائلین کے معمولی نوعیت کے فوجداری مقدمات کی سماعت تب ہوتی ہے جب وہ اپنی قید کی مدت بھی پوری کر چکے ہوتے ہیں یا پھر دار فانی سے کوچ کر گئے ہوتے ہیں ۔ دیوانی مقدمات کا تو نام ہی نہ لیں ۔
جناب کرد صاحب کو خلاصہ پیش کیا تو وہ اس وعدہ سے اٹھے کہ وہ کراچی جا کر اپنے رفقا سے ایسی بے مثال کارروائی ضرور بیان کریں گے اور ملک گیر بہتری کے لئے بہر صورت اس ادارے کی فعالی و بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے
آئے رقیب گئے وعدہ فردا لئے ہوئے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔