داعش سے زیادہ خطرناک ۔۔۔۔۔ ہندو انتہا پسندی کا ایٹم بم

داعش سے زیادہ خطرناک ۔۔۔۔۔ ہندو انتہا پسندی کا ایٹم بم

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حسنین حیدر

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک اور اپنے آپ کو سکیولر ملک کہنے والے ملک بھارت میں ایک طرف غربت ،بھوک افلاس اور احساس محرومہ عروج پر ہے تو دوسری طرف اقلیتوں کی زندگی ہندو انتہا پسندوں نے تنگ کر دی ہے کبھی بھارت میں ٹرک ڈرائیور کو گائے ٹرانسپورٹ کرنے کے جُرم میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی صرف گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں کسی مسلمان کو بہیمانہ تشدد کر کے قتل کردیا جاتا ہے۔ کبھی گوشت کی دُکانوں کو بھارت میں نذرِآتش کر نے کی خبریں آتی ہیں تو کبھی بھارت کے راجیہ سبھا میں‘‘تحفظِ گائے کا بل’’پیش ہوتا ہے۔ اِس سب سے تو یہی لگتا ہے کہ بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ‘‘گائے کا تحفظ’’ہے یا پھر پاکستان دشمنی۔ اور اِس کی قومی ترجیحات میں اقلیتوں اور اُن کے حقوق کے لئے قطعاً کوئی جگہ نہیں۔ اوراِسکی وجہ کہیں نہ کہیں یقینی طور پر‘‘ہندوتوا کا شدت پسند نظریہ’’ہے۔ جو اَب بھارت میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بھارت کے اہم ترین قلم دان بھی مسلمان دشمنی کے لئے مشہور، ہندوتوا کے کٹر حامیوں کے پاس ہیں جن میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کُمار دیول، بھارت کے ایڈیشنل پرنسپل سیکرٹری پی کے میشرااور پرنسپل سیکرٹری ناریپندرامسرا کے علاوہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ سمیت سب‘‘انتہا پسند ہندوتوا’’کی دیگ کے چمچے ہیں ۔ہندو توا فلسفے کے پیرو کار یہ بھول گئے کہ بھارت کی شناخت تو سیکولر ملک کے طور پر کرائی گئی تھی لیکن ہندو توا تو سیکولر فلسفے کی یکسر نفی کرتا ہے ،درحقیقت ہندو توا دنیا کی بربادی کا دوسرا نام ہے اگر ہندو توا کے طوفان کو روکا نہیں گیا تو دنیا کو بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے ۔ہندو انتہا پسندی داعش کے فتنے سے زیادہ خطرناک ہے دنیا جیسے داعش کے خلاف متحد ہو کر اس فتنے کا پیچھا کر رہی ہے ایسے ہی ہندو انتہا پسندی کو روکنا ہوگا بصورت دیگر دنیا کا امن تہہ و بالا ہوگا کیونکہ ہندوانتہا پسندوں کی نظر میں گائے کے مقابلے میں انسان کی کوئی قدر نہیں ،توہمات میں گھرے یہ انتہا پسند بھارت میں صرف مسلمانوں پر ظلم نہیں کر رہے بلکہ عیسائی،سکھ اور ہندو نچلی زات کے لوگ بھی کسی بھی طرح محفوظ نہیں ،بھارت کے انسانوں کے قصائی نریندر مودی بھی انہی ہندو انتہا پسندوں کے سیاسی ورثرن ہیں اور نریندر مودی اسی مسلمان دشمنی اور اقلیت دشمنی کے فلسفے کو آگے بڑھا رہے ہیں ،حیرت ہے کہ کل تک امریکہ جس نریندر مودی کی دہشت گردی کو دیکھ کر امریکہ میں داخلے سے روک رہا تھا آج اسی انسانوں کے قصائی مودی کے کہنے پر کشمیر کی آزادی کے مجاہد سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے امریکہ کو بھی اپنی بندوقوں کا رخ صرف مسلمانوں کی طرف کرنے سے قبل بھارت کے اندرونی منظر نامے کو بھی دیکھنا ہوگا کہ داعش سے بھی زیادہ دہشت گردی اور ظلم کی داستانیں تو اپنے آپ کو سکیو لزم کے خوبصورت لبادے میں چھپانے والے ملک بھارت میں نظر آئیں گی ۔ ہندوتوا ایک ایسے بھیانک نظریے کا نام ہے جو کہ بھارتی ثقافت کو ہندو مذہب کے آئینے میں متعارف کراتا ہے۔ اورجس سے یقیناً سیکولر بھارت کے نام نہاد نعرے اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔بھارت میں ایک نہیں دو نہیں درجنوں دہشت گرد تنظیمں اپنا مضبوط نیٹ ورک قائم کر چکی ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 52دہشت گرد تنظیمیں ہیں جن میں آر ایس ایس، بھارتیا جنتا پارٹی، ویشوا ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ ڈل نمایاں ہیں دوسری طرف بھارت کی سرزمین تقریباً تیس(30)سے زائد علحیدگی پسند تحریکوں(مسلح شورشوں) کی لپیٹ میں ہے۔ خالصتان،آسام اورکشمیر کی تحریکیں اپنے سیاسی حقوق کے حصول کے لئے جبکہ اور شمال مشرقی ریاستوں (ناگالینڈ،مانیپور،تریپورااور میزورام) کی تحریکیں اپنے سماجی و معاشی حقوق کے حصول کے لئے سرگرمِ عمل ہیں ۔تمام ہندو انتہا پسند تنظیموں کی مشترکہ حکمتِ عملی ہے نفرت کا ماحول تیار کرنا۔بھارت کے حالات تو یہ ہیں کہ وہاں کیا ہندو کیا مسلمان اور کیا عیسائی کوئی بھی تو محفوظ نہیں اور دوسری طرف نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انتہاپسندی اورلاقانونیت کے راج کی بنیاد بنتا دیکھائی دے رہا ہے جہاں انسانوں سے زیادہ گائے کا تحفظ ہے، بھارت میں گائے ذبح کرنا جرم مگر مسلمانوں کا قتل عام جائز ہے۔ بھارت میں گائے کا پیشاب جب کہ معصوم مسلمانوں کا خون پیا جاتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی زندگیوں سمیت ان کے مذہبی عقائد پر حملے کیے جارہے ہیں، انہیں زور زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔بھارت میں جہالت کے سبب آج بھی زندہ انسانوں کی بَلی دی جاتی ہے، مگر انتہا پسند ہندو گائے کی جائز قربانی پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔بھارت میں چونکہ بڑا ملک ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے بھی ممکن نہیں کہ وہ انتہا پسندی کے واقعات کو پوری طرح منظر عام پر لا سکیں اس لئے مظالم کی داستانیں دنیا کے سامنے نہیں آرہی ہیں اس لئے دنیا کو صرف بھارت کا سیاسی چہرہ نظر آرہا ہے جس دن دنیا کو بھارت کے انتہا پسندوں کی پوری خبر ہوگی اس دن دنیا داعش کے مظالم بھول جائے گی لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی ہوگی اس لئے مناسب یہی ہے کہ دنیا ہندو انتہا پسندی کے ایٹم بن کو پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنا کر دنیا کو محفوظ کرے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔