چترال شہر سے تورکہو جاتے ہوے گاڑی کو حادثہ، دو افراد جان بحق، دو زخمی ہوگئے

چترال شہر سے تورکہو جاتے ہوے گاڑی کو حادثہ، دو افراد جان بحق، دو زخمی ہوگئے

39 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) چترال سے تور کہو جاتے ہو ئے ایک سیرا جیپ نمبر CL 9324شوچ تورکہو کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گیا ۔ جس کے نتیجے میں دو افراد جان بحق اور دو زخمی ہو گئے ۔

چترال پولیس کے مطابق مذکورہ سیرا جیپ میں چار افراد مولانا حفیظ الرحمن ساکن چمرکن ، مولانا غلام یوسف ایون ، قاری ذاکر اللہ بکر آباد اور صہیب ولد محمد یوسف ساکن تریچ تورکہو میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ کاغلشٹ کے آخری مقام شوچ میں اُن کی جیپ بے قابو ہو کر سینکڑوں فٹ نیچے دریائے تور کہو میں جاگری ۔ جس کے نتیجے میں قاری ذاکراللہ بکر آباد ااور صہیب ولد محمد یوسف جان بحق جبکہ مولانا یوسف اور مولانا حفیظ الرحمن شدید زخمی ہو گئے ۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی کے ایمبولنس میں فیول نہ ہونے کے باعث زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر اور دقت کا سامنا کرنا پڑا ۔ جبکہ ایک زخمی کی موت تاخیر کی وجہ سے واقع ہوئی ۔ جائے حادثہ سے زخمیوں کی مدد کرنے والے نذیر احمد اور دیگر نے ٹیلیفون پر ایکسپریس کو بتایا ۔ کہ حادثے کی اطلاع دے کر ٹی ایچ کیو ہسپتال سے جب ایمبولینس طلب کیا گیا ۔ تو متعلقہ اہلکار نے ایمبولینس میں فیول نہ ہونے کی بات کی ۔ میڈیا نے اس حوالے سے ڈی ایچ او چترال کو حادثے کے بارے میں اور ایمبولینس میں فیول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو اُنہوں نے اس کی تصدیق کر دی اور کہا کہ ضلعی گورنمنٹ نے نان سیلیری بجٹ نہیں دی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایمبولینسز ڈیزل نہ ہونے کے سبب کھڑی ہیں ۔روزانہ اپنی جیب سے فیول ایمبولینس میں ڈالنا مشکل ہے ۔ تاہم انہوں نے درخواست پر ایمبولینس موقع پر بھیج دیا ۔

چترال کے عوامی حلقوں نے اس حادثے پر جتنے افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔ اُس سے زیادہ اس بات پر غم کا اظہار کیا ہے ۔ کہ ہمارے ادارے اب زخمیوں کو بھی جائے حادثہ سے اُٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ اور اب ان کی کارکردگی پر نوحہ کرنا باقی ہے ۔ عوامی حلقوں نے یہ بھی سوال کیا ہے ۔ کہ صوبائی حکومت جو صحت کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتی ۔ اپنی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے ۔ اور اس واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف انکوائیری کی جانی چاہیے ۔ کہ کیسے ضلع کے ذمہ دار ادارے عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔