لالک جان شہید نشان حیدر ۔۔۔۔۔۔۔ پیدائش سے شہادت تک

لالک جان شہید نشان حیدر ۔۔۔۔۔۔۔ پیدائش سے شہادت تک

74 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لالک جان شہید گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین ایک بعید ترین بستی ہندور میں ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے نومولد کا نام لالک جان(سورج جیسا )رکھا گیا تب یہ بات کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگی کہ لالک جان سچ مچ جہاں تاب کی طرح نہ صرف اپنے دادا اور باپ کا نام روشن کریگا بلکہ ملک کے لیے بھی نام کمائے گا۔ لالک جان شہید نشان حیدر کی والدہ فوت ہوچکی ہے والد نے دوسری شادی کرلی سوتیلی ماں لالک جان اور دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ خوب شفقت کا برتاؤ کرتی رہی۔

لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے شروع کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ناردن لائٹ انفنٹری میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اور معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔ جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو اس کی چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے لالک جان نے اپنے چھٹی ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا ابو اب میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں لیکن چھ روز میں یہاں گھر میں گزارنے کی بجائے محاذجنگ پر گزارنا چاہتاہوں اور سوتیلی ماں سے کہا میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں شہید لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنی خون کا کا نذرانہ پیش کیا میرے لیے یہ بہت بڑا اعزا ز ہے کہ میں ایک شہید کا باپ ہوں

لالک جان کے والد سے سب سے پہلے راقم نے انٹرویولیا یہ13اگست1999ء کا دن تھا جب راقم کو پتہ چلا کہ غذر کے ایک سپوت کو نشان حیدر ملنے والا ہے اس دن گاہکوچ سے راقم شہید لالک جان کے آبائی گاؤں ہندور کی طرف روانہ ہوا حالانکہ اس وقت شہید لالک جان کے والد کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ کل یعنی 14اگست کو ان کے شہید بیٹے کو ملک کا سب سے بڑا عسکری اعزاز سے نواز جارہاہے جب یہ خوشخبری ان کو دی تو ان کے یہ الفاظ تھے کہ میں بوڑھا ہوا ہوں تو کیا ہوا میرا جذبہ جوان ہے وقت آنے پر کارگل محاذ پر پہنچ جاؤنگا میرے شہید بیٹے لالک جان کو نشان حیدر ملنے کی جو نوید سنائی گئی ہے اس کو میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔

شہید لالک جان کی سوتیلی ماں محترمہ جور بیگم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے نے محاذ جنگ پر جام شہادت نوش کیا مادروطن کے لیے میرے بیٹے نے جو قربانی دی ہے اس پر مجھے فخر ہے۔

حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے انھوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جسکی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے بحیثیت ایک جونیئر لیڈر انہوں نے اپنی جرات مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کردیئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔

مئی1999میں یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھا اس موقع پر انھوں نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیے یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں حوالدار لالک نے اپنے سینئر افیسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کا اصرار کیا ایک انتہائی مشکل گزارپہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔

جون کی آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان اور سلامتی سے بے پرواہ ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔ دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن زیرک لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرات کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔

سات جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائر گرادیا پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حولدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

حولدارلالک جان نے جس بے باکی اور جرات مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مورچے کا بھر پور اور آخری وقت تک دفاع کیا اور دشمن کے پے درپے حملوں کو پسپا کیا اور اس کی مثال بہت کم نظر آتی ہے زخمی حالت میں بھی لالک جان دشمن سے نبردآزما رہے اور آخری وقت تک ملک کا دفاع کیا اس کی بے باکی حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر بعداز شہادت عطا کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author