ن لیگ کا امتحان

ن لیگ کا امتحان

31 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ن لیگ کو ایک زبردست چیلنج اور امتحان درپیش ہے ماضی میں ایسے امتحانات ق لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی آئے تھے ق لیگ نے میر ظفر اللہ خان جمالی کی جگہ عبوری دور کے لئے چوہدری شجاعت حسین کے نام پر اتفاق کیا عبوری دور کے بعد شوکت عزیز کو پارلیمانی لیڈر بناکر مسئلہ حل کر دیا پاکستان پیپلز پارٹی نے راجہ پرویز اشرف کو پارٹی کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرکے سید یوسف رضا گیلانی کا منصب کسی مشکل کے بغیر ان کے سپرد کردیا یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ پارٹی میں جان ہے اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں ایک لیڈر کی جگہ دوسرا لیڈر،تیسرا لیڈر، چوتھا لیڈر آگے آکر کام سنبھال سکتا ہے پارٹی کسی بھی امتحان سے سرحزو ہوکر نکل سکتی ہے یہ اہم بات ہے کہ پارٹی اپنے فیصلے اجتماعی طورپر مجلس عاملہ،کورکمیٹی یا سینٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی یا ورکنگ کمیٹی کے ذریعے کرسکے۔

ن لیگ کو اپنی تیسری حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے کے لئے اس طرح کے اجتماعی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سابق یارغار بھلے وقتوں کے قریبی ساتھی اور کابینہ کے وزیر شیخ رشیداحمد نے ایک بار کہا تھا کہ نواز شریف کبھی کبھار راہ چلتے کسی بم کو ٹھو کر مار دیتے ہیں جس سے بڑا دھماکہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ فضول پنگا لیا صدر مملکت غلام اسحاق خان ،جنرل جہانگیر کرامت اورجنرل پرویز مشرف کے ساتھ پنگا لیا جس کا نتیجہ بہت بُرا ہوا۔

2017ء میں ان کی حکومت اپنی تاریخ دہرارہی ہے عدلیہ کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہیں مقتدر قوتوں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں امریکی سفارت خانہ کے ساتھ فاصلے بڑھائے گئے ہیں یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ تعلقات میں بہت زیادہ گڑبڑ ہے چین کی حکومت کا ایک زرین اصول ہے وہ تالی بجانے میں آپ کا ساتھ دیتی ہے ، رونے میں آپ کا ساتھ نہیں دیتی۔ آپ روتے ہیں تو وہ دور سے تماشا دیکھتی ہے اس کانام بزنس (Business)ہے۔

عموماًخیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی پارٹی میں جمہوریت نہیں عمران خان کو الگ کریں تو پی ٹی آئی کی ایسی حیثیت ہوگی جیسے چار صفروں کے بائیں طرف لکھا ہوا واحد ہندسہ ایک(1)ہٹا دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کے بغیر جمعیتہ العلمائے اسلام (ف) کا تصور محال ہے زرداری کے بغیر پی پی پی کچھ بھی نہیں ولی باغ کی قیادت کو مٹا دیا جائے تو اے این پی کا نام نہیں رہے گا۔الطاف حسین منظر سے ہٹا دیے گئے تو ایم کیو ایم کا قصہ تمام ہوگیا اس طرح محمد نواز شریف کے بغیر ن لیگ ریت کی دیوار کا درجہ رکھتی ہے شخصیات مضبوط ہیں پارٹیاں کمزور ہیں اور اس کا کوئی علاج اب تک نہیں ڈھونڈا گیا۔

دو اچھی مثالیں ہمارے سامنے ہیں مولانا مودودی نے اپنے چھ پڑے لکھے قابل اور ہونہار بیٹوں میں سے کسی ایک کو جماعت اسلامی پر مسلط نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف 8سال اقتدار میں رہے ان کا بیٹا یا ان کی بیٹی یا ان کا داماد کبھی منظر عام پر نہیں آیا آج بھی ان کی اولاد کا نام کسی کو معلوم نہیں ان کی تصویریں اخبار والوں کے ریکارڈ میں نہیں ہیں یہ دونوں اچھی مثالیں ہیں۔ ان مثالوں کے مقابلے میں فیلڈ مارشل ایوب خان کو صرف ان کی اولاد کی وجہ سے زوال آیا حالانکہ ان کی حکومت بہت اچھی تھی ان کی ذاتی زندگی بہت اچھی تھی انہوں نے قوم کی بڑی خدمت کی تھی اپنی اولاد کی وجہ سے ان کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا اولاد میں صلاحیت ہو تو وہ خود اپنے لئے راستہ نکال سکتی ہے۔ جارج واکربش نے اپنے باپ کے دور میں جانشینی کی سند حاصل نہیں کی صدر کلنٹن کے 8سالہ دور میں پارٹی کے اندر مقام پیدا کیا اور وقت آنے پر امریکہ کے صدر بن گئے سابق صدر کا بیٹا ہونا محض اتفاق تھا۔

قرآن پاک میں ساتھ بار خبر دار کیا گیا ہے کہ مال اور اولاد آدمی کے لئے فتنہ ہے آج وزیر اعظم محمد نواز شریف کو مال کی آزمائش اور اولاد کی ازمائش کا سامنا ہے۔وہ دونوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اپنی پارٹی اور حکومت کو بھی آزمائش میں ڈالا ہوا ہے ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبینگے ‘‘ لیڈر کی عظمت اور بڑائی یہ ہے کہ وہ لچک دکھائے، اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچے ، اپنے کُنبے اور اپنی اولاد سے بالاتر ہوکر سوچے سیاسی پارٹی کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں قیادت کی دوسری لائن موجود ہو، تیسری لائن اور چوتھی لائن کی قیادت موجود ہو آزمائش کی گھڑی میں قیادت کا بحران نہ ہو ایک آدمی ،اس کے کُنبے اور اس کی اولاد پر سیاسی جماعت کا انحصار نہ ہو جب ایک پارٹی کسی ایک فرد یا اس کی اولاد پر انحصار کرتی ہے تو وہ سیاسی جماعت نہیں رہتی اس کا منشور اور سیاسی پروگرام ختم ہوجاتا ہے صرف قصیدے رہ جاتے ہیں مکھن رہ جاتا ہے اور یہ زوالِ علم وعرفان ہے خدا ہر پارٹی کو اس طرح کے زوال سے بچائے۔

ن لیگ کا اصل امتحان یہ ہے کہ شریف خاندان کے بغیر یہ پارٹی زندہ رہ سکتی ہے یا نہیں؟ اگر پارٹی نے خود کو زندہ رکھا تو یہ مسلم لیگ بن جائیگی جو قائد اعظم کی جماعت تھی اس کے ساتھ کوئی قاف ،کوئی نون وغیرہ نہیں تھا۔خوشامدیوں کے لئے پرتور وہیلہ کا قطعہ ہے

؂ ناخدا سے گلہ نہ موسم سے
میرے طوفان تو بادبان میں تھے

یہ قصیدے جو تیری شان میں ہیں
یہ قصیدے ہی اُس کی شان میں تھے

یہ جو تیری وفا کے گاہک ہیں
یہ ابھی دوسری دکان میں تھے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments