جامعہ چترال کا افتتاح

جامعہ چترال کا افتتاح

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جامعہ کراچی، جامعہ پنجاب اور جامعہ پشاور کی طرح جامعہ چترال کو خواب سے حقیقت میں بدل دیا گیا31مارچ 2017ء کو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حکم سے محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے چترال یونیورسٹی کے قیام کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری کردیا اور ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کو یونیورسٹی کا پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیاتھا 5جولائی 2017ء کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے عمران خان کے ہمراہ یونیورسٹی کا باقاعدہ افتتاح کیا یوں برسوں کا سفر ساعتوں میں طے ہوا اور خوش اسلوبی کے ساتھ طے ہوا۔

یونیورسٹی کے افتتاح کی تقریب کئی لحاظ سے یادگارتھی۔ چترال سے تحریک انصاف کی خاتون ایم پی اے اور پارلیمانی سیکریٹری بی بی فوزیہ اپنی چار سالہ جدوجہد کے شجر کو بارآور اور ثمربار ہوتا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری ایک سنگ میل عبور کرتے ہوئے نئے سفر کے لئے پر عزم دکھائی دے رہے تھے اس روز عمران خان کے چہرے پر سکون ، مسرت اور اطمینان کے اثرات نمایاں دکھائی دے رہے تھے وہ مسکراہٹیں بکھیرنے کے موڈ میں تھے اس لئے ان کی تقریر بھی نپی تُلی اور شگفتہ و شُستہ تقریر تھی۔ انگریزی محاورے کی رو سے ’’گیلیریوں سے کھیلنے ‘‘ والی کوئی بات اس میں نہیں آئی۔

خان صاحب نے اپنی تقریر میں اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹی کے حوالے سے عالمانہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا کام ریسرچ ہے تحقیق ہے یونیورسٹی علم کی ترسیل ہی نہیں کرتی علم کی تخلیق بھی کرتی ہے تحقیق یا ریسرچ کے ذریعے علم کے نئے گوشوں کو وا کرتی ہے۔ انہوں نے چترال کی جغرافیائی حدود کے پیش جامعہ چترال میں سیاحت اور سیاحت سے منسلک علوم کی تدریس و ترویج پر زور دیا معدنی دولت، آبی وسائل ، حیاتیاتی تنوع، ثقافتی رنگارنگی، لسانی بو قلمونی ، کلاش ثقافت ، لسانیات اور اس طرح موسمیاتی تغیرکے مضامین کی ضرورت وافادیت کو اجاگر کیا۔ چترال اور چترال کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار بہت سے لوگوں نے کیا ہے اس باب میں عمران خان کا اسلوب سب سے الگ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چترال اور بلتستان کے لوگ مجھے خاص طور پر پسند ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سکردو اور چترال میں لوگ چوریاں نہیں کرتے، گھروں کو تالا نہیں لگاتے پورے ملک میں یہ ایک منفرد بات ہے اور منفرد خصوصیت ہے۔

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اپنی تقریر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی حکومت کو دو سالوں کے اندر اپنا وعدہ پورا کرنے کی توفیق بخشی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چترال کے عوام سے محبت ہے چترال کے لوگ اپنی شرافت اور نظم و ضبط کی وجہ سے پورے صوبے میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی تعریف کی اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے پراجیکٹ کو شروع کرنے کے لئے ہمیں چترال ہی سے ایک پروفیسر مل گیا جو اس کام کی اہلیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پی ڈی کے تین مطالبات سے اتفاق کیا۔ یونیورسٹی کیلئے 10بسیں اور 100ملین روپے کے انڈومنٹ فنڈدینے کا اعلان کیا انہوں نے ایگری کلچر ریسرچ سنٹر اور ریسرچ سٹیشن کو ایگریکلچر یونیورسٹی سے لیکر چترال یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

ہائیر ایجوکیشن کے وزیر مشتاق غنی نے دلچسپ بات کی۔ انہوں نے کہا کہ 2سال پہلے ایک مجلس میں چترال یونیورسٹی کا مطالبہ ہوا تو خان صاحب نے میری طرف دیکھ کر سوال اُٹھایاکہ اب تک چترال کی اپنی یونیورسٹی کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا جب ہماری حکومت آئی تو صوبے میں سرکاری یونیورسٹیوں کی تعداد 19تھی ان میں سے اکثر یونیورسیٹیوں کا انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ چند کمروں میں یا کرایے کی عمارتوں میں قائم تھیں ہم نے نہ صرف 10نئی یونیورسیٹیاں بنائیں، بلکہ پرانی یونیورسیٹیوں کو انفراسٹرکچر بنا کر دیا۔اب صوبے میں سرکاری یونیورسیٹیوں کی تعداد 29تک پہنچ گئی ہے۔

چترال یونیورسٹی کا قیام دو یونیورسیٹیوں کے 3سب کیمپسزکو آپس میں ضم کرکے عمل میں لایا گیا بقول شاعر ’’خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا‘‘۔

جامعہ چترال کے پروجیکٹ دائریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے اپنی مختصر تعارفی کلمات میں کہا ہ جامعہ چترال کے لئے وفاقی حکومت نے ایچ ای سی کے ذریعے 2ارب 99کروڑروپے مختص کئے جبکہ صوبائی حکومت نے اکتیس کروڑ روپے کی پہلی قسط کے بعد 88کروڑ روپے کی دوسری قسط بھی ریلیز کر دی ہے۔ یونیورسٹی کو عبدالولی خان یونیورسٹی سب کمپس کی عمارت اور 27کنال زمین منتقل کی گئی ہے۔ 176کنال زمین شہید بینظر بھٹو یونیورسٹی شرینگل سے منتقل کی گئی ہے، جبکہ 400کنال زمین یونیورسٹی کی عمار ت سے ملحق علاقے میں خریدی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں کلاسوں کا آغاز 17جولائی 2017کو ہوگا، اکنامکس، پولٹیکل سائنس، انگلش، کمپیوٹر سائنس، زوالوجی، باٹنی، سوشیالوجی اور مینجمنٹ سائنسز کے شعبے کام شروع کرینگے مستقبل میں جیالوجی ، منرالوجی، لسانیات ، کلچرل سٹڈیز ، کالاش کلچر، سیاحت ،قانون ، تعلیم ، ایگریکلچر ، بیالوجیکل اور فزیکل سائنسز کے مزید شعبے قائم کئے جائنگے ۔ اس سال چترال یونیورسٹی میں چین اور کوریا کی 4یونیورسیٹیوں کے 40طلبہ اور طالبات پر مشتمل گروپ کا سمر کیمپ لگے گا۔

افکار تازہ سے ہے جہاںِ نو کی نمود
کہ سنگ و حشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments