دیامر: تھک گاوں کے نواح میں واقع جوتی جنگلات کی جدید مشین کی مدد سے کھلے عام کٹائی جاری

دیامر: تھک گاوں کے نواح میں واقع جوتی جنگلات کی جدید مشین کی مدد سے کھلے عام کٹائی جاری

49 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تجزیاتی رپورٹ: محمد قاسم

چلاس: سیاحتی لحاظ سے نہایت ہی اہمیت کے حامل اور تاریخی درہ بابوسر تهک کے نواحی گاؤں جوتی کے جنگلات میں دیودار کے معصوم ننھے منے درختوں کا جدید مشینوں سے بے تحاشا قتل عام شروع۔

اطلاعات کے مطابق ٹمبر مافیا سے جڑے لوگ گزشتہ روز سے فارسٹ لیزی جنگل جوتی میں جدید چنسہ درخت کٹر کے زریعے ہزاروں درخت کاٹ چکے ہیں، جبکہ مزید درختوں کی کٹائی جاری ہے۔ تاہم جوتی سمیت دیگر تمام جنگلات کی رکھوالی پر مامور محکمہ فاریسٹ چلاس کے ملازمین لمبی تان کر گہری نیند سو گئے ہیں۔

بابوسر کے گهنے جنگلات کسی وقت اپنی خوبصورتی اور رعنائی میں کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے .یہاں کے دیودار، کائل اور فر کے قیمتی قدرتی درخت سیاحوں پر سحر طاری کرتے تھے۔ مگر دیامر فارسٹ ڈپارٹمنٹ کی لاپرواہی اور ملی بھگت ان قدرتی گھنے جنگلات کی ٹمبر مافیا کے ہاتھوں کٹائی تیز کرنے میں بہت مددگار اور کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ جوتی جنگل اب تک غیر قانونی کٹائی سے پاک تھا، اور اسے ٹمبر مافیا سے بچانے میں مقامی لوگوں کا اہم اور قابلِ تعریف کردار تھا۔

چلاس فارسٹ سب ڈویژن میں اس وقت جوتی اور مشہور سیاحتی مقام فیری میڈوز کے قدرتی جنگلات دیودار کائل چلغوزہ اور فر سمیت مختلف جنگلی درختوں اور جنگی حیات کےلئے معروف ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے ٹمبر مافیا کی نظریں جوتی جنگل کو غیر قانونی طور پر کاٹنے کے لئے سازشوں کا جال بُن رہی تھیں، اور اب آخر کار محکم جنگلات چلاس کے عملہ کی غفلت، لاپرواہی، ملی بھگت اور مقامی لوگوں کی بےروزگاری کی وجہ سے یہ سازش کامیاب ہوگئی ہے۔ جبکہ جوتی کے گھنے جنگلات میں صف ماتم بچھا ہوا ہے۔ ہر طرف معصوم درختوں کا قتل عام جاری ہے۔

دیودار کے ننھے منے درخت اپنے لڑکپن میں ہی چنسہ درخت کٹر نامی ظالم مشین کے ہاتھوں زمین بوس ہوچکے ہیں، جبکہ ٹمبر مافیا اپنی کامیابی پر جشن منا رہا ہے۔

محکمہ جنگلات چلاس کے سابق ڈی ایف او امتیاز پر ناجائز الزامات لگا کر اسے راتوں رات ہٹانا اور موجودہ ڈی ایف او افتخار کو سیاسی اشاروں پر داریل تانگیر اور چلاس کا چارج ملنے کے فوراً بعد جوتئ جنگل میں کٹائی شروع ہونا معنی خیز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹمبر مافیا کے اس نایاب گر سے اعلیٰ حکام بھی مستفید ہوتے ہیں، اور اسی لئے وہ نظریں پھیر کر دوسری طرف دیکھتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جوتی جنگل کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے لئے وفاقی حکومت، وفاقی ادارہ ماحولیات ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اُٹھائیں، تاکہ جنگل اور جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔