بابوسر روڑ پر زیادہ تر حادثات ڈرائیونگ میں لاپرواہی کی وجہ سے رونما ہورہے ہیں، بچاو کے لئے سڑک کنارے ریت کی بوریاں رکھی جارہی ہیں

بابوسر روڑ پر زیادہ تر حادثات ڈرائیونگ میں لاپرواہی کی وجہ سے رونما ہورہے ہیں، بچاو کے لئے سڑک کنارے ریت کی بوریاں رکھی جارہی ہیں

40 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)بابوسر ناران روڈ گلگت بلتستان کی سیاحت کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔روڈ پر ٹریفک حادثات کی روک تھام اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی میں تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔انتظامیہ نے اپنے طور پر سیاحوں کی تحفظ،سہولیات کی فراہمی ،ٹورسٹ فیسیلٹیشن سنٹرز ،بابوسر روڈ پر سفر سے متعلق آگاہی اور صحت سے متعلق سہولیات، واش رومز،پارکنگ ،ایمرجنسی میں فرسٹ ایڈ کی فراہمی کے لئے بھر پور انتظامات کئے ہیں۔جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آنے والے سیاح ایک اچھا تاثر لے کر جا رہے ہیں۔تاریخی درہ بابوسر سے روڈ گزرنے کے باعث اترائی اور چڑھائی زیادہ ہے۔جس کی وجہ سے محتاط ڈرائیونگ نہ ہونے کے باعث بریک فیل ہو کر حادثات رونما ہو رہے ہیں۔اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔چیف سیکرٹری بھی اس صورتحال پر قابو پانے اور روڈ کو حادثات سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور ہمسایہ ملک چائینہ سے روڈ کے کنارے تنصیب کے لئے جدیدٹیکنالوجی منگوانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔تاکہ حادثات سے بچاو ممکن ہو، اور قیمتی انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

کمشنر دیامر نے ہنگامی طور پر بابوسر شاہراہ پر محفوظ سفر اور حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے روڈ کے دونوں اطراف کناروں پر سینڈ بیگز رکھ دئیے جائیں گے۔جبکہ گنجائش والے مقامات پر مٹی کی ڈھلوانیں بنائی جائیں گی۔بابوسر ٹاپ کے درمیانی مقامات پر پولیس چیک پوسٹیں قائم کر کے ویل اور بریک گرم ہونے والی گاڑیوں کو کچھ دیر کے لئے روکی جائیں گی۔

کمشنر دیامر استور نے اسسٹنٹ کمشنر کو فوری طور پر ایکسکویٹر مشین کو فوری طور پر بابوسر بھیجنے کی ہدایت کی۔جبکہ سینڈ بیگز فوری طور پر بابوسر روڈ پر کناروں میں رکھوانے کے احکامات دئیے۔انہوں نے مزید کہا کہ این ایچ اے اور دیگر ماہرین کی ٹیم جلد ہی بلائی جا رہی ہے ۔تاکہ وہ سڑک کا جائزہ لیں اور رپورٹ مرتب کریں تاکہ مکمل منصوبہ بندی کر کے سڑک کو مکمل طور پر حادثات سے محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122کی مزید ایمبولنسز بھی بابوسر روڈ پر تعینات کرنے کے احکامات دیئے۔

کمشنر دیامر طارق حسین نے بابوسر ٹاپ پر کمیونیکیشن کی بحالی کے لئے موبائل کمپنیوں کے حکام کی میٹنگ بلانے کے احکامات بھی دیئے۔جس میں انہیں بابوسر ٹاپ ایریا میں موبائل سروس کی فراہمی کا پابند بنایا جا ئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے طور پر روڈ کو محفوظ بنانے کے لئے ہنگامی سٹیپ اٹھا لیا ہے۔این ایچ اے کے ذریعے روڈ کے کناروں پر لوہے کی حفاظتی باڑ کی تنصیب کا آغاز بھی جلد ہی کروا دیا جائے گا۔روڈ پر ڈائریکشن بورڈز مزید لگوائے جائیں گے۔گاڑیوں کی تیز رفتاری کو روکنے کے لئے ٹریفک پولیس کو مزید فعال کر دیا جائے گا۔انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے دیامر کے سیاحتی مقامات کی تشہیر اور معلومات سے متعلق ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر پمفلٹ اور کتابچے شائع کروانے کے احکامات بھی دیئے۔اس موقع پر انہوں نے محکمہ سیاحت کے عملے کی کمی کو دور کروانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت بھی کی۔اور محکمہ سیاحت کو دیامر کی سیاحت کی ترویج کے لئے کردار ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

دیامر پریس کلب کے اراکین سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دیامر کی تعمیر و ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لئے پریس کلب کی خدمات قابل ستائش ہیں اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دیامر پریس کلب نے بابوسر روڈ پر سفر کو محفوظ بنانے کے لئے ٹورسٹس(دی قراقرم کلب)،ماہرین،اور ڈرائیورز کی تجاویز تحریری شکل میں کمشنر دیامر استورکے حوالے کی۔ان تجاویز پر کمشنر نے فوری عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کی۔انہوں نے تتہ پانی پر لینڈ سلائیڈنگ سے تنگ ہونے والی سڑک کو فوری کشادہ کرنے اور حفاظتی اقدامات کے لئے ایف ڈبلیو او کو بھی ہدایت جاری کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔