افغانستان میں بھارت کاکردار خطرے کی گھنٹی

افغانستان میں بھارت کاکردار خطرے کی گھنٹی

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عثمان حیدر

بدقسمتی سے پاکستان کے ہمسایہ ممالک باالخصوص بھارت اور افغانستانخطے سے دہشت گردی ختم کرنے کے بجائے دہشت گردی پھیلانے میں اپنا پورا پورا حصہ ڈال رہے ہیں پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں امن ہو کیونکہ پاکستان میں امن اسی صورت آسکتا ہے جب آس پاس امن ہو اسی لئے پاکستان نے امن کیلئے ہمیشہ تمام ممالک سے تعاون بھی کیا ہے اور خطے میں امن کیلئے سب سے زیادہ قربانی بھی پاکستان نے دی ہے لاکھوں جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصان اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن بھارت اور افغانستان پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امن کے خلاف سازشیں کرنے میں پیش پیش ہیں نہیں معلوم وہ کون سی وجوہات ہیں کہ کابل کی حکومت نے بھارت کو افغانستان کی سرزمیں میں کھلی چھوٹ کیوں دی ہے اور دوسری طرف امریکہ بھی افغانستان میں ہے امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا دعویدار ہے لیکن امریکہ کی ناک کے نیچے بھارت افغانستان کی سرزمیں کا استعمال کر کے دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے امریکہ اور افغانستان کی اس دوہری پالیسی سے بھارت کو آزادی مل رہی ہے کہ وہ جو مرضی آئے کرے اور خطے کا امن تباہ کرے یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں بھارت نے قونصل خانوں کے نام پر دہشت گردوں کو تربیت دینے کے درجنوں کیمپ کھول رکھے ہیں اور وہاں سے دہشت گردوں کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کیلئے روانہ کر دیا جاتا ہے دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان میں داعش بھی جڑیں پکڑ رہی ہے حیرت ہے کہ امریکہ افغانستان میں ہے اس کے باوجود پاکستان پر ہی ہمیشہ دباؤ بڑھایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرے سوال یہ ہے کہ افغانستان میں ایک طرف بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ جو مرضی آئے کرے اسے روکنے والا کوئی نہیں دوسری طرف پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کیا جا رہا ہے اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت کا متمنی ہے تو بھارت کو افغانستان میں دہشت گردی پھیلانے کی آزادی کیوں دی ہے اسی دوہرے معیار نے دنیا کے امن کو تباہی کے دھانے میں پہنچایا ہے امریکہ چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ حقیقی معنوں میں ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بھارت کو افغانستان کی سر زمین سے نکال باہر کرے ،پاکستان نے کئی دفعہ بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت دئیے لیکن اس کے باوجود بھارت کو اسی طرح کی آزادی دی گئی ہے ۔ دنیا کے اہم ادارے اور ماہرین بھی اس بات کی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ بھارت کے کردار کو افغانستان میں محدود نہیں کیا گیا تو خطے میں امن تہہ و بالا ہو جائے گا۔یو این او کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف افغانستان میں بھارت کے 65قونصل خانوں کو ختم کرکے جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ بھارت جنوبی ایشیاء کا امن خراب کرنے کیلئے نچلی ذات کے ہندؤں کو بھی ٹارگٹ بنارہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔خود کش بم دھماکوں میں استعمال ہونے والے افغانی نو عمر بچوں کو دیہی علاقوں سے جہاد کے نام پر بھرتی کرکے دھماکے کروائے جاتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے شہر کندھار میں بھارت کے 65قونصل خانے جس میں اسرائیلی، بھارتی اور افغانی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشتگردوں کوٹریننگ دے کر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھیج کر دہشتگردی کے واقعات کرواتے ہیں جس سے اب تک سینکڑوں معصوم لوگ بم بلاسٹ، خود کش دھماکوں میں اپنی زندگی گنوا بیٹھے جبکہ پولیس فورس اور پاک فوج کے جوان بھی جاں بحق ہوئے۔ بھارت افغانستان کی مدد سے 65کونسل خانو ں میں دہشتگردوں کو خفیہ ٹریننگ دے کر مختلف تنظیموں کی شکل میں پاکستان اور بھارت کے اندر چھوڑ رکھے ہیں جس کے باعث پاکستا ن کے مختلف شہروں میں بم بلاسٹ، خودکش دھماکوں سمیت دیگر کاروائیوں میں ملوث تھے جبکہ تمام نیٹ ورکس کا سربراہ کلبھوشن سدھیر یادیو کی گرفتاری کے بعد بھار ت کی قمر تو ٹوٹ گئی مگر دہشتگردی کا نیٹ ورک تاحال ختم نہ ہوسکا جس کے باعث بھارت اسرائیل، افغانستان کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کے منصوبوں پر گامزن ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف نے کیا ہے کہ کندھار میں بھارت کونسل خانوں میں ٹریننگ یافتہ بھارتی ایجنٹوں کی آڑ میں بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمان کا روپ دھار کے ہندؤ کی نچلی ذات کو قتل کرکے الزام پاکستان پر ڈالا جارہا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے ہندو یاتریوں پر حملہ کرنے والا گروہ میں بھی بھارتی کارندے ملوث تھے۔ یاترہ میں شریک تمام ہندؤں کا تعلق ہندؤں کی نچلی ذات سے تھا بھارت نے ایک سازش کے تحت اپنے یاتریوں کو قتل کرکے الزام حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین اور پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی مگر اس کا ری ایکشن اْلٹا ہوگیا۔ بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آگیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف افغان میں موجود بھارت کے 65کونسل خانوں کو ختم نہ کیا تو جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی کا نیٹ ورک ختم نہیں ہوسکتا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوامِ متحدہ کو باقاعدہ مکتوب بھی لکھ دیا جس میں مکمل تفصیل درج ہے۔دوسری طرف امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیںیہ بات اعزاز چوہدری نے انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز سیخطاب کے دوران کہی اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کے باعث پاکستان سے فرار دہشتگروں نے افغانستان میں پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد دونوں ملکوں میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں تاہم پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا واحد حل مذاکرات ہیں جبکہ بارڈر مینجمنٹ سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام کیلئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے اور حکومت پاکستان معاشی استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اپنے خطاب کے دوران اعزاز چوہدری نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہدرای منصوبہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے جبکہ امریکی کارپوریٹس بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں سنجیدہ ہیں ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف اپنی کاررئیوں میں تیزی لا چکا ہے اور اس مقصد کیلئے بھی افغانستان کی سرزمیں کا استعمال کر کے بلوچستان سے گلگت بلتستان تک اپنے مکروہ عزائم کی تکمیلچاہتا ہے ،اگر بھارت کو لگام نہ دی گئی تو دہشت گردی کے خلاف تمام ممالک کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی اور امن تہہ و بالا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔