منٹھو کہ آبشاراور وادیِ کھرمنگ

منٹھو کہ آبشاراور وادیِ کھرمنگ

126 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔ محمد سکندر مہدی آبادی

منٹھوکہ آبشار پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے یہ آبشار خوبصورت پاکستان کی حسن کو دنیا کے سامنے رکھنے ک لیئے، دنیا کی سیاحوں کے دل مول لینے کے لئے اپنی خوبصورتی کا جوہر دکھا رہے ہیں اس آبشار کے ارد گرد کے علاقے بہت خوبصورت ہیں اس کے علاوہ یہ آبشار اس علاقے کی رعنائی کو مزید بڑھاتے ہیں آبشار کیا ہوتا ہے آبشار یعنی کہ پانی چادر کی شکل بن کر گرنے کی جگہ کو کہتے ہیں یہ لفظ فارسی زبان کی ہے اسے انگریزی میں واٹر فال اور مقامی زبان میں چھوفیار کہتے ہیں چھو بلتی زبان میں پانی کو کہتے ہیں فیار پانی کا اونچی جگہ سے نیچے کی جانب دھار کی شکل میں گرنا ۔ پاکستان میں آبشار شاید سینکڑوں کی تعداد میں ہونگے لیکن یہ آبشار کافی بلندی سے گرتا ہے اور اس کا شمار پاکستان کا سب سے بڑے انچائی سے گرنے والا آبشار ہے اس کی چوڑائی میں گھیراوکم از کم تیس فٹ ہے اور تقریبا تین سو فٹ کی اونچائی سے گرتا ہے آبشار کی گرنے کا انداز اس طرح ہے اوپر سے زیادہ دباؤ کی وجہ سے چھینٹیں الگ الگ ہوکر بادل کی طرح لگتا ہے نیچے پہنچتے پہنچتے سورج کی کرن لگ کر محسوس ہوتا ہے کہ پھوٹان گر رہے ہ ی بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے اس کے نیچے کھڑے ہوکر سیاح خوب سیلفیاں بنا کر اپنی ان خوبصورت لمحات کو کیمرے میں قید کرتے دکھائی دیتے ہیں جو برسوں بعد اپنی اصلی حالات یعنی کہ جوانی ، بڑھاپا ، کم سنی اور پڑانی یادیں دوبارہ زہن میں لانے کا زریعہ ہے اس کے اندر زندگی کی خوش کن لمحات دوستوں سے ملنے کے اوقات اور مناظر قدرت محفوظ ہوتے ہیں یہ آبشار مملکت پاکستان کے انتہائی شمال میں گلگت بلتستان کے ایک خوبصورت وادی کھرمنگ میں واقع ہے جو کہ ایک نوزائیدہ ضلع بھی ہے یہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے اعلان کا حصہ ہے یہ ضلع سطح سمندر سے 8000 فٹ کی بلندی سے شروع ہوکر تقریبا 14000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس کا رقبہ تقریبا سات ہزار مربع کلو میٹر آبادی تقریبا پچاسی ہزا ر پانچ سو کے لگ بھگ ہے یہ وادی دریائے شیوک اور دریائے سندھ کے سنگھم سے شروع ہوتی ہے وادی کھرمنگ نا صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ دیگر علاقوں کی نسبت صحت عامہ کی تمام سہولیات بھی ہیں یہی وجہ ہے کی بلتستان کی دیگر وادیوں سے لوگوں کی بڑی تعداد علاج و معالجے کے لئے کھرمنگ کا رخ کرتے ہیں چونکہ یہاں سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نجی و آرمی ہسپتال بھی ہیں جو کہ ہمہ وقت لوگوں کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں مثلا وادی کھرمنگ کے ابتدائی گاوں سرمک میں زبیدہ خالق ہسپتال ہے جہاں سینکروں کی تعداد میں مریضوں کا مفت آپریشن کر اکے علاج کیا جاتا ہے یہاں سے چند کلو میٹر آگے سول ہسپتال مہدی آباد ہے اس کے عقب میں معرفی ہسپتال بھی ہے یہاں بھی لوگوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے پھر طولتی کھرمنگ میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال ہے یہاں پاکستا ن آرمی کی طرفسے مفت علاج و معالجے کی سہولیات میسر ہیں اس وادی کی چند گاوں مہدی آباد کتی شو غاسینگ منٹھوکہ طولتی پاری ترکتی غندوس اور اولڈینگ صحت افزا مقامات میں شامل ہیں اس لئے مخیر حضرات کی بھی دلچسپی ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں ایسی چیزیں بنائیں مثلا سکول ہسپتال لنک روڈ ریسٹ ہاؤں مساجد بند کوہل باغات دوسرے علاقوں کی نسبت ان علاقے کے لوگ ایسی چیزوں سے زیادہ فائدہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں متہ منگل جو کہ ڈوگرہ راج کے اگریکچر ڈیپارٹمنٹ کا آفسیر تھا نے اس علاقے میں باغات لگائیں جس میں ہر اقسام کے پھلدار درختیں لگوا ئیں لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھائے اور ڈوگروں نے باغات کے ساتھ ساتھ تعلیمی مراکز بھی قائم کیا جس میں یہاں کے لوگوں نے پڑھنا شروع کیا یہی وجہ ہے کی پارٹیشن سے پہلے اس علاقے میں پڑے لکھے افراد کی تعداد زیادہ تھی اور حکومت کی خاص توجہ کی وجہ سے اب بھی اس علاقے میں تعلیمی مراکز کی کمی نہیں ہے اس وادی کی زیادہ سے زیادہ آبادی نالوں میں رہتی ہے جہاں لوگ کھیتی باڑی اور مال مویشیوں سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں

یہ وادی کوہ ہمالیہ اور کوہ قراقرم کے درمیان میں واقع ہے اس کی بیج سے پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہزاروں سال سے رواں دواں ہے اس دریا سے کون واقف نہیں ایشیائے کوچک کا سب سے بڑا دریا ہے اس کی لمبائی دو ہزار سات سو کلو میٹر ہے یہ دریا جھیل مانسر ور سے شروع ہو کر بحیرہ عرب میں جا کر گرتا ہے اس دریا کو مقامی زبا ن میں سنگے کھ بب کہتے ہیں اس دریا سے موسوم سنگے کھہ بب کا مطلب میں نے اپنے والد محترم مرحوم سے پوچھا کہ سنگے کھ بب نام پڑنے کی وجہ کیا ہے والد محترم سے اس لئے پوچھا کہ وہ تاریخ سے آشنا تھے اور پاکستان معرض وجود میں آنے سے پہلے کارگل کے مختلف علاقوں میں سرکاری ملازم کی حیثیت سے اپنی فرائض سر انجام دیتے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ سنگے کھہ بب کا مطلب شیر کے منہ سے نکلنا سنگے بلتی زبان میں شیر کو اور کھہ منہ کو اور بب نکلنے یا اترنے کو کہتے ہیں لداخ میں جس جگہ سے یہ دریا نکلتا ہے اس جگہ کی شکل شیر کی منہ کی طرح ہے یعنی شیر کی منہ سے نکلنے والا دریا نام پڑگیایہ لداخ پاک انڈین سرحد سے بہتا ہوا مرمق وادی کھرمنگ میں شامل ہوتا ہے وادی کھرمنگ میں سینکروں چھوٹے بڑے نالے ہیں ان ندی نالوں کے پانی دریا سندھ میں گر کر اس دریا کا حجم کافی بڑھاتا ہے اس دریا کی وجہ سے وادی کھرمنگ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ جس علاقے سے دریا بہتا ہو اس علاقے کی شان دیگر علاقوں سے کافی بڑھ جاتی ہے اگر چہ یہ دریا کا پانی اس علاقے کے لوگوں کے فائدے کا نہیں اس کا فائدہ صوبہ کے پی کے پنجاپ کا کچھ حصہ اور سندھ کے سارے علاقوں کو سیراب کرتے ہیں کراچی والے اس دریا کے پانی پینے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں بلتستان کے بڑے بڑے گلیشیئر بھی پگھل کر اس دریا میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ ایک گلیشیئر میں جمے ہوئے پانی کی مقدار بیسووں ڈیموں کے پانی کی مقدار سے زیادہ ہوتا ہے مملکت خدا داد پاکستان کیلئے یہ دریا ایک نعمت سے کم نہیں ہے بات منٹھوکہ آبشار کی ہے اب میں اس آبشار کے گرد و نواح کے علاقوں کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کیوں کہ ملکی اور غیر ملکی سیاح جو اس علاقے سے مانوس نہیں ہوتے ہیں اکثر سیر سیاحت کے شوقین حضرات کسی بھی علاقے سے واقفیت رکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یہ آبشار سکر دو شہر سے تقریبا ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کارگل سیکٹر کی طرف واقع ہے وادی کی طرح جاتے ہوئے سب سے پہلے ضلع کا ابتدائی اور سب سے بڑا گاوٗں مہدی آباد اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے اپناالگ مقام رکھتا ہے اس گاوں میں ضلع کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ سہولیات میسر ہیں جن میں انفراسٹرکچر ٹیلی مواصلات کے زرائع خصوصا تمام اقسام کی دکانیں موجود ہیں اس وقت مہدی آباد میں چار بنکس کام کر رہے ہیں مہدی آباد علم و ادب کے لحاظ سے بلتستان بھر میں مشہو ر ہے جہاں بڑے بڑے علما ء گزرے ہیں ۔ مہدی آباد بازار سے تقریبا پانچ کلومیٹرکے فاصلے پر آبشار علاقے کا پہلا گاوں غاسینگ آتا ہے اس علاقے سے آگے منٹھو اورکہ اسکے بعد اسی منٹھوکہ کے نالے میں منٹھوکہ آبشار اپنی خوبصورتیاں بکھیرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ آبشار کے سامنے ایک چھوٹا سا پارک بھی ہے جہاں بچے بزرگ آبشار میں بھیگ جانے کے بعد اپنی طعام اور آرام کا مزہ لیتے ہیں۔ اس پارک کے بیجوں بیج صاف ندی بھی بہتی ہے جو اس جگہ کی خوبصورتی کو مزید مزین کرتے ہیں اس ندی کا پانی صاف شفاف ہونے کے علاوہ ہاضمے کے لئے بھی بہت اچھا ہے اس خوبصورت و ددلفریب جگہوں کو دیکھ کر مقامی اور ملکی سیاح لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔