143 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابدشگری)ضلع بھرمیں عاشورہ اسد مذہبی وعقیدت و احترام سے منایا گیا۔مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ مرکنجہ سے برآمد ہوا۔جس میں ہزاروں عزادار سینہ کوبی،زنجیر زنی کرتے ہوئے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا خانقاہ معلی تک گئے اور واپس اسی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگئے۔جبکہ چھورکاہ ژھوقپہ سے برآمد ہونے والا جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہواجامعہ مسجد صاحب الزمان میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے۔جلوس کے راستوں میں جگہ جگہ شربت اور دودھ کی سبیلیں لگایا ہوا تھا۔جبکہ عزاداروں کی حفاظت کیلئے پولیس اور شگر بوائز سکاوٹس کے رضاکار موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر شگر ولی خان اور ایس پی شگر سید الیاس خود جلوسوں کی نگرانی کیلئے جلوس میں موجود رہے۔جبکہ عزاداروں کی مرہم پٹی کیلئے محکمہ صحت شگر کے اہلکار بھی جلوس کیساتھ ساتھ موجود تھے۔اس سے پہلے عاشورہ اسد کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عسکری ممتاز اور شیخ ضامن علی مقدسی نے فلسفہ شہادت اور امام عالی مقام کی مظلومیت اور شہادت پر روشنی ڈالی۔

علمائے کرام کو معاشرے کو تفرقہ بازی اور اسلام کے اصل تعلیمات اور اسلام کی اصل حقائق لوگوں تک پہنچانے کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہیں۔کچھ مغربی ادارے اور خفیہ ایجنسیاں ہمارے بعض نام و نہاد ذاکرین کو تربیت دیکر اسلام کی اصل حقائق کو مسخ کرنے کی مشن پر ہیں ۔ جو اسلام کی اصل تعلیمات کو توڑ موڑ کر اور اسلام کے مسالک کے درمیان تفرقہ بازی کی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔مومنین کو ایسے ذاکرین اور علماء کی عزائم سے واقف ہونا لازمی ہے ۔معروف جیدعالم دین ڈاکٹر شیخ محمد عسکری ممتاز نے حسینیہ امام بارگاہ حسینی محلہ مرکنجہ میں اسدعاشورہ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلاء حق و باطل کا معرکہ تھا۔ امام عالی مقام نے اپنے اہل عیال کو قربان کرکے دین اسلام کو بقاء بخشاہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرہ اس وقت برائی کی جانب گامزن ہے معاشرے کو بگاڑنے کیلئے ہر طرح کی ہربے استعمال ہورہے ہیں۔علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو بگاڑ سے روکیں۔ لیکن علمائے کرام اپنی ذمہ داری پورا نہ کرنے کی وجہ سے معاشرے کی تباہی ہورہے ہیں ۔لہذا معاشرے کو تباہی سے بچانے کیلئے علماء کرام کیساتھ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں نظریہ ضروریات کے بجائے حق کو پہنچاننے اور حق کیلئے ڈٹ جانے کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مقررین نے کہاامام عالی مقام نے اپنی اور اپنے جان نثار ساتھیوں کو کربلاء میں قربان کرکے اسلام کو ابدی زندگی دیا ہے اور رہتی دنیا کو پیغام دیا ہے کہ جب بھی اسلام پر کوئی کڑی مقام آئے تو اپنی جان کو عزیز نہ سمجھنا۔

سیکیورٹی انتظامات سے متعلق گفتگو کرتے ہوے ایس پی شگر سید الیاس حسین نے کہا ہے کہ شگر میں امن و امان کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ اسد عاشورہ موقع پر فل پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔چھورکاہ میں اسد عاشورہ کی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاآبادی کے لحاظ سے شگر میں پولیس کی نفری انتہائی کم ہے لیکن اس کے باؤجود علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس ڈیپارٹمنٹ چوکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں مان و مان کا کوئی مسئلہ نہیں۔اس کے باؤجود جلوسوں کو سکیورٹی دینا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شگر میں تمام مسالک کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہے اس مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور امن و مان کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہیں تاکہ مستقبل میں شگر امن و مان کا گہوارا بنا رہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔