غیر ملکی کوہ پیماوں کی ٹیم نے چترال میں نوشاق سمیت تین چوٹیاں سر کر لیں

غیر ملکی کوہ پیماوں کی ٹیم نے چترال میں نوشاق سمیت تین چوٹیاں سر کر لیں

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم ا لدین ) ہندوکُش کی دوسری بلندترین چوٹی “نوشاق” کو کوہ پیماؤں کی ٹیم نے سر کر لی۔ ٹیم میں 77سالہ خاتون کوہ پیما بھی شامل ہے ۔ ٹیم سلووینیا سے تعلق رکھنے والی 44سالہ خاتون ٹیم لیڈر (ائرینا میراک ) IRENA MRAK،  43 سالہ خاتون موجکا سواجگر ( MOJCA SVAJGER) اور 36 سالہ نوجوان ٹوماز گوسلار (TOMAZ GOSLAR) پر مشتمل تھی۔ ان کے ہمراہ اٹلی سے تعلق رکھنے والی ٹیم کی معمر ترین کوہ پیما جن کی عمر 77سال بھی شامل تھی۔ ہے ۔ کو لے کر نوشاق کی چوٹی سر کر نے کے سلسلے میں مہم جوئی کی ۔ ٹیم نے  دو اور چوٹیاں زوم اور گروم جن کی اونچائی بالترتیب 6500اور 6300میٹر ہیں بھی سر کر لیں۔

ٹیم لیڈر ائرینا میراک نے چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں مشیر وزیر اعلی خیبر پختونخوا برائے کھیل و سیاحت عبدالمنعیم خان ، چترال چیمبر آف کامرس انڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان ، نائب صدر حیدر علی شاہ ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت غازی ، ونگ کمانڈر ( ر) فرداد علی شاہ و دیگر مہمانوں کی موجودگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا  کہ ہندوکُش کی ان چوٹیوں میں ماحول کی صفائی کی اشد ضرورت ہے ۔ اور اُن کا بنیادی مقصد ایکو ٹوررزم کے فروغ اور کوہ پیمائی کو پائیدار بنا نا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران اُن کے 20دن صرف ہوئے ،اور اُن کی کوہ پیمائی کا آغاز بابو بیس کیمپ ( BABU B C) سے ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ کوہ پیمائی کیلئے ہندوکُش کی چوٹیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔ انہوں نے بیس کیمپ اور اطراف میں پھیلے ہوئے مختلف کچروں کے بارے میں کہاکہ ہم نے علاقے کو صاف کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔ اور وہاں پر موجود کچروں اور کوڑا کرکٹ کو واپس چترال شہر پہنچایا ۔ جہاں اُنہیں ٹھکانے لگایا جائے گا ۔

اس موقع پر مشیر برائے ٹورزم عبد المنعیم خان نے کہا ۔ کہ ہم چترال میں ٹورزم کو فروغ دینے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ اور موجودہ شندور فیسٹول کا انعقاد اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ گلگت نے کئی ایشوز اُٹھا رکھے تھے جنہیں حل کرکے ہم نے شندور فیسٹول کے انعقاد کو ممکن بنا یا ۔ اور بہت بڑی تعداد میں سیاحوں اور لوگوں نے اس میں شرکت کی ۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ اب بھی کے پی ٹورزم کی طرف سے کیسز عدالت میں ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹورزم کو فروغ دے کر معاشی ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں ۔ چترال ہمارا دل ہے ۔ اور ہم اپنے دل کو کبھی خراب اور مشکلات سے دوچار نہیں دیکھنا چاہتے ۔ اس کو سیاحت کی ترقی کیلئے درکار وسائل مہیا کئے جائیں گے ۔ مشیر کھیل و سیاحت نے کہا ۔ کہ میری دُعا ہے ۔ کہ پاکستان کے تمام شہری چترال کے لوگوں کی طرح امن پسند اور نیچر سے محبت کرنے والے ہوں ۔ انہوں نے یقین دلایا ،کہ چترال میں ٹورزم کی ترقی کیلئے جو بھی تجاویز دیے جائیں گے ۔ وہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے اس کیلئے فنڈ کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے ۔

صدر چترال چیمبر سرتاج احمد خان نے صوبائی مشیر برائے کھیل وسیاحت عبد المنعیم خان اور ایکسپڈیشن ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ چترال میں سیاحت کے ذریعے سے آمدنی پیدا کرنے کے سوا کوئی مواقع نہیں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ بزنس کمیونٹی کو مضبوط بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کو کلائمیٹ چینج کے نقصانات سے بچانے کیلئے حکومت کی طرف سے سنجیدہ اقداما ت اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اور اُن لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں کھڑا کرنے کیلئے خصوصی پیکیج فراہم کرنا چاہیے ۔ جو 2015کے تباہ کُن سیلاب اور زلزلے سے کاروباری طور پر مفلوج ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے چترال میں ٹورزم کی ترقی کیلئے ایک جامع پلان اور پیکیج کا مطالبہ کیا ۔

قبل ازین ایکسپڈیشن ٹیم جب چترال ٹورزم انفارمیشن سنٹر چترال پہنچی ۔ تو اُنہیں باقاعدہ طور پر خوش آمدید کہا گیا ۔ ٹیم نے کوہ پیمائی کے دوران حاصل ہونے والی تجربات اور تجاویز سے مشیر ٹورزم ، انچارج ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر زرین خان ، شہزاد عالم کو آگاہ کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔