چھ ماہ بعد غذر پرائس کنٹرول کمیٹی نے مرغیوں کے نرخنامے جاری کردئیے، مگر نئی قیمتیں بازار سے 20 روپے اوپر

چھ ماہ بعد غذر پرائس کنٹرول کمیٹی نے مرغیوں کے نرخنامے جاری کردئیے، مگر نئی قیمتیں بازار سے 20 روپے اوپر

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر(بیورو رپورٹ)  غذر میں چھ ماہ بعد پرائس کنٹرول کمیٹی نے مرغیوں کے نرخنامے جاری کر دئیے مگروہ بھی پولٹری شاپس کی قیمتوں سے 20 روپے فی کلو زیادہ کرکے۔ بعض پولڑی فارم مالکان سرکاری ریٹ سے 20روپے کم کرکے مرغیاں فروخت کرتے ہیں گاہکوچ میں پولٹری شاپس میں جاری شدہ سرکاری نرخنامے کے مرغی فی کلو 220روپے مقرر کر دیا ہے مگر بعض دکاندار حضرات 200روپے فی کلو کے حساب سے مرغیوں کو فروخت کرتے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹی کی جاری کردہ نرخنامہ بھی دکانداروں نے نمایاں جگہ پر لگا دی ہے دوسری طرف عوام پریشان ہیں کہ سرکاری نرخنامے میں عوام کو کم قیمت پر اشیاء خوردنی کی فراہمی کی بجائے مرغی کی فی کلو 20روپے نرخ زیادہ لگانا سمجھ سے باہر ہے دوسری طرف ایسا ہی حال دکانوں میں بھی ہے جہاں کوئی بھی چیز مقررہ ریٹ پر نہیں مل جاتی زیادہ تر دکانوں میں تو سرکاری نرخنامہ ہی غائب ہے سبزی فروشوں سے ریٹ لسٹ کا پوچھا جائے تو ریٹ لسٹ ان کی جیب سے نکل جاتی ہے غذر میں مہنگائی کا طوفان ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ایک طرف تعمیراتی کاموں کی بندش سے مزدورں کو پیمنٹ نہ ہونے سے پریشان ہیں تو دوسری طرف روزانہ ہر چیز کی قمیتوں میں اضافہ ہورہا ہے پرائس کنٹرول کمیٹی کا ریٹ لسٹ بھی ایک مزاق بن کر رہ گیا ہے اور بعض دکانوں میں ریٹ لسٹ تک غائب ہے ہر دوسری دکان میں الگ الگ ریٹ مقرر ہے جس باعث غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی خاموشی بھی حیران کن ہے اور کبھی یاد ائے تو ایک بار چھاپے بھی لگائے جاتے ہیں اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا جب کہ بعض سبزی کی دکانوں میں گلی سڑی سبزیوں کا فروخت جارہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔