شندور میلہ،جہاں لوگ غمو ں کو بھول جاتے ہیں 

شندور میلہ،جہاں لوگ غمو ں کو بھول جاتے ہیں 

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ممتاز گوہر

دنیا کے بلند ترین اور خوبصورت پولو گراؤنڈ شندور میں ہونے والا سہہ روزہ میلہ اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور رعنائیوں کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ اس میلے میں ہر سال کی طرح اس سال بھی گلگت بلتستان اور چترال کے علاوہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح شریک ہوئے۔ بارہ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر واقع شندور کے وسیع میدان میں تین دنوں کے لیے ایک عارضی دنیا قائم ہوتی ہے جس میں پیار محبت، ادب، ثقافت، خوشی، موسیقی، احترام، کھیل کود کا دور دورہ ہوتا ہے۔لوگ شندور کے لیے نکلتے وقت ہی دنیا کے غم، دکھ درد، مشکلات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور یہاں آکر ایک دوسروں میں یوں گل مل جاتے ہیں کہ جیسے یہ ہی گھرانے کے لوگ ہوں۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ مختلف زبان، ادب، مسلک، تہذیب، سوچ، خیالات کے پھول شندور میں آ کر ایک گلدستے کا روپ دھار لیتے ہیں۔

میلہ تو تین دنوں کا ہوتا ہے مگر لوگ ا س علاقے کے سحر میں یوں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ ایک ہفتہ پہلے سے ہی یہاں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ یہاں ہایئکنگ کرتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں، گھڑ سواری کرتے ہیں، ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرتے ہیں اور قدرت کے دلفریب مناظر کا نظارہ کرتے ہیں۔”سرزمین شندور ” دو علاقے جو دلفریب قدرتی مناظر سے بھر پور اور خالص پیار و محبّت کرنے والے لوگوں کی سرزمین ہے کے باسیوں کو صدیوں سے ایک دوسروں کے ساتھ ملانے والا پوائنٹ ہے۔

شندور میلہ ہر سال جولائی کی سات سے نو تاریخ کو ہوتا رہا ہے مگر گزشتہ سالوں سے مختلف موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر وجوہات کی وجہ سے اس کی تاریخ تبدیل کی جاتی رہی ہے۔ رواں سال یہ مقابلہ 29 جولائی سے 31 جولائی تک ہوا جس میں گلگت بلتستان اور چترال سے چھ مختلف ٹیموں نے مقابلوں میں حصہ لیا۔جس میں مجموعی طور پر گلگت کی دو ٹیموں نے جبکہ چترال کی چار ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔پولو مقابلوں میں چترال کا پلڑا بھاری رہا اس ٹورنامنٹ کا سب سے اہم اور فائنل مقابلہ بھی چترال کی ٹیم نے گلگت کی ٹیم کو چھ گولوں سے شکشت دے کر جیت لی۔

اس بار میلے کے زیادہ تر انتظامات پاک فوج نے اٹھائے تھے۔فائنل میچ کے مہمان خصوصی بھی کمانڈنٹ 11 کور لیفٹنٹ جنرل ندیم احمد بٹ تھے۔اس میلے میں سخت سیکورٹی کے حوالے سے کچھ شائقین کی آراء بھی سامنے آئی مگر ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر اس طرح کے انتظامات انتہائی ضروری تھے۔

اس سال میلے کا افتتاح پھنڈر اور لاسپور کی روایتی حریف ٹیموں کے درمیان پولو میچ سے ہوا جسکا افتتاح صوبائی وزیر سیاحت گلگت بلتستان فدا خان فدا اور معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا عبدلمنیم نے کیا۔ یہ میچ لاسپور کی ٹیم نے دو کے مقابلے میں نو گول سے جیت لیا۔ اسی روز دوسرا میچ چترال ڈی اور گلگت ڈی کی ٹیموں کے درمیان ہوا۔ اس مقابلے میں گلگت کی ٹیم تین کے مقابلے میں آٹھ گول کر کے فاتح قرار پائی۔ ڈی جے گلگت سکاؤٹس نے دونوں ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے۔ میلے کے دوسرے دن تین میچ کھیلے گئے پہلے میچ میں گلگت بی اور چترال بی کی ٹیمیں مد مقابل تھے جس میں چترال بی کی ٹیم نے پانچ کے مقابلے میں آٹھ گولوں سے گلگت کی ٹیم کو قابو کر لیا۔ اسی روز کھیلے گئے دوسرے میچ میں یاسین کی ٹیم نے مستوج کی ٹیم کو پانچ گول سے ہرا دیا میچ کا فائنل سکور تین، آٹھ رہا۔ جبکہ اسی روز کھیلے گئے تیسرے اورآخری میچ میں بھی چترال کی ٹیم کامیاب رہی۔فاتح ٹیم چترال افسر کلب نے گلگت افسر کلب کی ٹیم کو تین کے مقابلے میں چھ گول سے آوٹ کلاس کر دیا یوں پہلے دو دنوں کے پولو میچز اختتام کو پہنچ گئے۔

اس میلے میں صرف پولو کے میچز پر ہی اکتفا نہیں ہوتا پیراگلیڈرز نے شندور کے بلند و بالا پہاڑوں سے چھلانگ لگا کر پولو گراؤنڈ کے عین وسط میں خوبصورت طریقے سے لینڈنگ کر کے شائقین کو داد دینے پر مجبور کیا۔ جی بی سکاؤٹس اور چترال سکاؤٹس کے جوانوں نے روایتی ڈانس کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ ساتھ جی بی، چترال سکاؤٹس اور ایف سی کے بینڈزنے دلفریب ساز بجا کر شائقین سے خوب داد سمیٹی۔میلے کی پہلی رات چترال انتظامیہ کی طرف سے خوبصورت میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں گلگت بلتستان اور چترال کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔موسیقی کی چھوٹی اور بھی محفلیں سجتی رہی۔ رات گئے لوگ خوشی سے جھومتے رہے۔ اسی رات دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ بھی کیا گیا۔

فیسٹول کی دوسری رات کو غذر انتظامیہ نے میوزیکل شو کا اہتمام کیا جس میں بھی دونوں طرف کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جب کہ ملکی و غیر ملکی سیاح بھی رقص کرتے رہے۔فنکار شائقین کی فرمائش پر ان کے پسندیدہ کلام سناتے رہے جبکہ ساتھ ہی گلگت بلتستان اور چترال کے خوبصورت ساز اور دھنوں پر لوگ روایتی ڈانس کا مظاہرہ کرتے رہے۔

یوں میلے کا وہ دن آ پہنچا جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔یعنی گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کا ٹکراؤ۔ اس میچ کے مہمان خصوصی کمانڈنٹ 11 کور لیفٹنٹ جنرل ندیم احمد بٹ کچھ تاخیر سے شندور پہنچے جس کی وجہ فائنل مقابلے کا آغاز دس بجے کے بجائے ساڑھے گیارہ بجے ہوا۔پولو میچ سے قبل شائقین کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا۔ مگر میچ شروع ہوتے ہی یہ جوش خروش اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا اور شندور کے پہاڑ بھی داد دینے والے شائقین کا ساتھ دے رہے تھے۔ پہلے ہاف تک مقابلہ انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز تھا اور مقابلہ پانچ پانچ کے سکور سے برابر تھا۔جیسے ہی دوسرے ہاف کا آغاز ہو گیا چترال کی ٹیم ابتدا سے ہی مخالف ٹیم پر حاوی ہونے لگی۔کھلاڑی سکور پر سکور نکالے جا رہے تھے۔ یوں دوسرے ہاف میں آٹھ گول داغ دیئے۔ جب کہ گلگت کی ٹیم صرف دو گول ہی کر سکی۔ اس موقعے پر چترال کے شائقین بھی کھل کر اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی پر حوصلہ بڑھاتے رہے۔ٹورنامنٹ کے آخر میں مہمان خصوصی نے ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے اور شاندار ایونٹ کے انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں کو مبارک باد دی۔

دنیا کے اس بلند ترین گراؤنڈ میں جمع ہو کرغموں اور رنجشوں کو بھلا کر ساری دنیا کو برملا یہ پیغام دے رہے تھے ہم زندہ دل قوم ہیں ہم خوشیاں دوسروں سے بھی بہتر طریقے سے منا سکتے ہیں بیشک چھوٹے موٹے اختلافات اپنی جگہ مگر مجموعی طور پر ہم ایک ہیں۔

میڈیا اور سپورٹس چینلز کی بے ہسی کی وجہ سے اس اہم ایونٹ کو دنیا کو نہیں دکھایا جا سکا۔ اس میں جی بی اور چترال کے انتظامیہ کی بھی غلطی ہے کہ وہ وقت پر اس طرح کے انتظامات نہیں کر سکے۔ البتہ اس سے پہلے پی ٹی وی اور کچھ دیگر چینلز اس فیسٹیول کی باقاعدہ لائیو کوریج کرتے رہے ہیں۔ اس دفعہ براہ راست پولو میچ نہیں دکھانے کی وجہ سے کروڑوں شائقین جو گلگت بلتستان اور چترال کا فری سٹائل پولو دیکھنے کے دلدادہ ہیں اسے دیکھنے سے محروم رہے۔ٹورنامنٹ کو اس بار مقامی اور قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی وہ کوریج نہیں ملی جو ملتی رہی ہے یا جس کی امید کی جاتی تھی۔ دونوں طرف کی انتظامیہ سے ایک گزارش یہ ہے کہ اگلے سال کے لئے ابھی سے ہی تہیہ کر لیں کہ اس ٹورنامنٹ سے قبل ہی کسی میڈیا چینل سے معاہدہ کر لیں کہ وہ اس میلے کو براہ راست دکھائے گا اور کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے اس میلے کی باقاعدہ تشیر کا معاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے جس سے بہت سارے لوگوں تک آگاہی ہو سکتی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ شندور کی طرف آئیں گے۔کچھ سال قبل اسی طرح کا ہی ایک معاہدہ ٹیلی نار کمپنی کے ساتھ ہوا تھا۔ جس کے انتہائی اچھے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ دور حاضر میں مارکیٹنگ اور میڈیا کسی بھی ایونٹ کی کامیابی میں نہ صرف کلیدی کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اب یہ ایک طرح سے مجبوری بھی بن چکے ہیں۔

شندور میلہ اور گلگت بلتستان پولو ٹیم خراب کارکردگی پر سوشل میڈیا میں شائقین نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار  ملے جلے انداز میں کیا۔ چترال کے معروف سماجی رہنما و لکھاری طاہر الدین شادان نے لکھا کہ خوبصورت ایونٹ کے انعقاد پر دونوں ٹیموں کو مبارکباد۔ اصل جیت امن و امان اور پیار و محبت کو فروغ دینے میں ہے جس میں دونوں ٹیموں اور عوام نے شاندار کامیابی حاصل کی۔مشہور لکھاری و سماجی رہنما نور پامیری نے لکھا کہ گلگت پولو ٹیم شندور سے واپسی پر اپنے پولو سٹکس تندور میں ڈال دیں۔ اسی پر جواب دیتے ہوئے ادبی شخصیت کریم مدد نے کہا کہ تندور میں کیوں (ایسی کارکردگی کے بعد) کہیں اور بھی ڈال دی جا سکتی ہیں۔کراچی میں مقیم غذر کے سماجی رہنما عبدالقادر ابدی نے کہا گلگت والے اپنی محنت سے زیادہ یقین صوبیدار ٹو (جعلی پیروں و تعویذوں)پر رکھیں گے تو انجام ایسا ہی ہوگا۔گلگت بلتستان میں معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رہنما ارشاد کاظمی نے کہا کہ صوبائی حکومت پولو پر کروڑوں کے اخراجات کرنے کے بجائے خصوصی کھلاڑیوں کی سرپرستی کرے تو وہ گلگت بلتستان سمیت پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔معروف صحافی منیر اختر نے کہا کہ کروڑوں لگا کر آخر اسی طرح ہارنا ہی ہے تو اس سے بہتر ہے عوام کا پیسہ بچایا جائے۔خیبر پختونخوا کی معروف خاتون سماجی رہنما عذرا نفیس یوسفزئی نے کہا ہار جیت کھیل کا حصہ ہے گلگت کی ٹیم ہارے یا جیتے ہمیں اس سے پیار ہے۔ انھوں نے نعرہ لگایا چترال ٹیم زندباد گلگت ٹیم پائندہ باد۔چترال کے مشہور ادبی رہنما ممتاز علی منتظر نے کہا آج کے میچ سے لگا گلگت کے گھوڑے کمزور ہیں۔پہلے ہاف میں پانچ پانچ گول اور دوسرے ہاف میں آٹھ دو سمجھ سے بالاتر ہے۔ بطور پولو شائق مجھے ارسطو اور بلبل جان کے جانشینوں سے ایسی امید نہیں تھی۔ انجینئر جمہور عالم نے کہا کہ کیا میچ تھی گلگت کی پوری ٹیم نے سات گول کئے اور اتنے ہی گول چترال کے کھلاڑی اظہار نے تن تنہا کر دیے۔مقامی زبانوں   کی ترویج پر کام کرنے والے امیر حیدر نے کہا کہ ان کھلاڑیوں پر جوتے برسانے چاہئے۔ ایک پولو شائق شکیل اومی نے زیادہ ہی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو گدھوں پر باندھ کر شندور سے واپس لانا چاہئے۔ دیار غیر میں مقیم اویس احمد نے کہا پولو کے میچ میں اسی فیصد کھیل گھوڑوں پر منحصر ہوتی ہے اگر گھوڑے ایک ہاف کے بعد کھڑے ہو جائیں تو کھلاڑی کیا کریں۔

شندور کا میلہ نہ صرف ہزاروں لوگوں کو صحت مندانہ تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ میلہ گلگت بلتستان اور چترال کے عوام کو بھی آپس میں عملی طور پر جوڑتا ہے جو خونی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔شندور کے میدان میں دو سو پچاس سال پہلے چاند کی روشنی میں پولو کھیلنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے دن کی روشنی اب بھی کھیلا جا رہا ہے۔خدا کرے یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے اور لوگوں میں پیار محبت، امن اور خوشی کے پھول بکھیرتا رہے۔

بس آخر میں ایسے تمام پولو کے شائقین جو بذات خود پولو دیکھنے شندور جاتے ہیں یہاں کی قدرتی حسن کو ماند ہونے نہ دیں۔ یہاں گندگی اور آلودگی پھیلانے سے ہر ممکن حد تک گریز کریں۔ یہ ایک چھوٹا سا کام ہے جو ہم با آسانی انجام دے سکتے ہیں جہاں ہم تین دنوں تک رہتے ہیں کھاتے پیتے ہیں دنیا کے غم بھلا کے مختلف علاقوں سے آئے لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں تو کیوں آخر واپس جاتے ہوئے اسی گھر کو کچرے میں تبدیل کر کے جائیں آج دنیا جس طرح کی موسمیاتی تبدیلوں اور گلوبل وارمنگ کے جن سنگین خطرات سے دو چار ہے اس کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہیں کہ ہم ماحول دوست بننے کے بجائے ماحول سے دشمنی کرتے جارہے  ہیں۔ جس کا خمیازہ ہمیں مخالف قدرتی آفات کی شکل میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بس ہر کسی کو ماحول دوستی کا ثبوت دینا ہوگا کیوں کہ یہ ہمارا گھر ہے اور گھر کو پاک صاف رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments