حالات حاضرہ 

حالات حاضرہ 

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر  بشیر احمد قریشی

 کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ سیاست میں مستقل دوست یا دشمن بھی نہیں ہوتے ۔سیاست میں آج کا دوست کل کا دشمن اور کل کے دشمن کو آج کے دوست بننے میں وقت نہیں لگتا۔

 پاکستان کے موجودہ سیاست کو ہی دیکھ لیجئے کل تک اسٹبلیشمنٹ مخالف جماعتوں کی فرست میں جمیعت علما اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی سر فرست تھی اور اسٹبلیشمنٹ کی ہمنوا یا پھر اسٹبلیشمنٹ کی پیدا کردہ جماعتوں میں مسلم لیگ کی جماعت پہلے نمبر پر تھی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب جب اسٹبلیشمنٹ مخالف جماعت کہلانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تب تب اسٹبلیشمنٹ سے اکثر ساز باز کرتے ہوۓ بھی پائی گئی ۔

 جب 1999 کا مارشل لا نافذ ہوا اور اس کے نتیجے میں مسلم لیگ کے صدر اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک معاہدے کے تحت ملک بدر ہونا پڑا تب اسٹبلیشمنٹ کی پشت پر سوار ہوکر میدان سیاست میں آنے والے میاں محمد نواز شریف اسٹبلیشمنٹ سے دل برداشتہ ہوگئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت سائن کر کے انٹی اسٹبلیشمنٹ جماعتوں کی فہرست میں شامل ہونے کی ابتدئی کوشش کی ۔

 جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جسٹس افتخار چودھری کی پرطرفی کے خلاف تحریک چلی تو میاں نواز شریف نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ۔

اس حوالے سے جمیعت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الر حمان صاحب نے پارٹی پالسی بیان دیتے ہوۓ کہا کہ جمیعت کسی فرد کی جنگ لڑنے کی حامی نہیں، جسٹس افتخار چھودری کے حوالے سے جے یو آئی کسی طور فریق نہیں بنے گی ۔دوسری جانب نواز شریف، وکلا اور سول سوساٹی و دیگر قوتوں کی جانب سے لانگ مارچ کے نتیجے میں افتخار چودھری کی بحالی ممکن ہوئی اور محمد نواز شریف کو یہ مغالطہ رہا کہ اب عدلیہ مکمل آزاد ہے اور ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ کے لئے آسان نہ تھاکہ ایک دم اسٹبلیشمنٹ مخالف راستہ اختیار کر سکیں یہی وجہ تھی کہ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور بعد ازاں میموگیٹ کا اشو اٹھاتو نواز شریف اعلی عدالت جا پہنچے اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف  رضا گیلانی کو عدالت کے ذریعے نااہل کروانےسے بھی گریز نہیں کیا ۔ ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ آرمی اسٹبلیشمنٹ سے دور ہونا بھی چاہتی تھی اور جلد برسرے اقتدار آنے کے لئے ان کے ساتھ بنا کر چلنا بھی چاہتی تھی ۔

دوسری طرف اسٹبلیشمنٹ محمد نواز شریف کی جانب سے دو طرفہ بھاگ دور سے بھانپ گئی اور نئے مہرے کی تلاش میں جوت گئی ۔اس حوالے سےجنرل پاشا نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوۓ عمران خان نیازی کے سر پر ہاتھ رکھا اورتمام تر توانائی صرف کر کے عمران خان کے لاہور جلسے کو کامیاب بنادیا گیا ، جلسے کی کامیابی کیلئے باز ٹی وی چینلز پر انوسٹمنٹ کی گئی۔

 حیرت انگیز طور پر ایک سال کے اندر اندر پی ٹی آئی کو عالمی سطح پر فنڈنگ ہونے لگی جس میں دو انڈین اور ایک اسرائیلی ڈونربھی شامل ہیں۔

ادھر نواز شریف جو اسٹبلیشمنٹ کے صف سے نکلنا چاہ رہے تھے ، 2013 کے الیکشن کے بعد جب حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اور میاں نواز شریف نے جمیعت علما اسلام کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔ جمیعت علما اسلام نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے محض اسٹبلیشمنٹ کے حوالے سے ان کے بدلتے ہوۓ رویے کو بھانپتے ہوئے چند شرائط کے ساتھ حکومت میں شامل ہو گئی۔

 پھر وہ وقت بھی آ گیا جب عمران خان “انگلی” کے سہارے 126 دن ڈی چوک اسلام آباد میں رات دن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو سرے عام نچواکر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر دباو بڑھا نے کی سعی میں مشغول رہے ۔

دوران دھرنا عمران خان کے حکم پر دفعہ 144 کے باوجود پی ٹی آئی ورکرز نے اسلام آباد میں ریڈ زون کراس کر دیا اور پی ٹی وی پر حملہ آور ہوۓ ۔سرے عام پارلیمنٹ اور جمہوریت کو گالی دی گئی مگر عمران سے کوئی جواب طلبی نہ کرسکا ۔انہی ہتھکنڈوں کے ذریعے نواز شریف دفاعی پوزیشن میں داخل ہوۓ ۔

یہی وجہ تھی کہ نواز شریف کو پہلے اپنے ہی کابینہ کے وزیر مشاہد اللہ  کو ایک ریٹائر جنرل کے خلاف بولنے پر وزارت سے ہٹانا پڑا تو بعد ازاں ڈان لیکس پر نادیدہ قوت کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وزیر اطلاعات پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنا ڈالا اس پر بھی معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تو مشیر خارجہ فاطمی صاحب کو بھی حکومت سے باہر کردیاگیا ۔

ادھر نواز شریف کا لچکدار رویہ دیکھ کر مطالبات کی فہرست میں اضافہ ہوتا گیا اور بلیک میل کرنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال ہوتے رہے ۔

جب عالمی میڈیا پر امریکی آشیر باد سے پانامہ میں آف شور کمپنیوں کا شور گوگا ہوا تو پاکستان بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوا ۔پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کو مزید بلیک ملینگ کیلئے متاثر کن اشو ہاتھ لگا ۔ میڈیا کے ذریعے صرف میاں نواز شریف کے بیٹوں کے آف شور کمینی کو گھسیٹا گیا حالانکہ پانامہ میں چار سو پچاس پاکستانیوں کے آف شور اکاؤنٹس موجود ہیں ۔ حیرت کی انتہا تو یہ کہ جس عمران خان کے ذریعے نواز شریف کے بیٹوں کے آف شور کمپنی کا ڈھنڈورا پٹوایا گیا ، اس کا اپنا بے نامی اکاؤنٹ ” نیازی سروسز ” کے نام سے پانامہ میں موجود تھا جبکہ نواز شریف کے اپنے نام سے کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہونے کے باوجود ان کا میڈیا ٹرائل ہوتا رہا لیکن عمران خان  غیرقانونی آف شور کمپنی کے مالک ہونے کے باوجود میڈیا پر کوئی طوفان بھرپا نہیں ہوا۔ اس سے پاکستان میں باز میڈیا گروپس کی اصلیت عیاں ہو جاتی ہے ۔

نواز شریف کے بیٹوں کے آف شور کمپنی کو بنیاد بنا کر سب سے پہلےاسٹبلیشمنٹ کی اصلی وارث جماعت اسلامی کے امیر نواز شریف کے خلاف اعلی عدالت جا پہنچے ۔دوسرے آپشن کے طور پر عمران خان اور شیخ رشید کو عدالت بیجھا گیا ۔جس پر پانچ رکنی بنچ سماعت کے لئے تشکیل پائی اور ڈے بائی ڈے کیس کی سنوائی شروع کر دی گئی ۔

بلآخر عدالت کے پانچ میں سے دو ججوں نے نواز شریف کو مجرم اور تین ججوں نے پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ سنا دیا ۔

یوں عدالت نے اپنی روایت کے خلاف جے آئی ٹی تشکیل دے دی جس میں اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی کی جانب سے ایک ایسے بندے کو جے آئی ٹی کا حصہ بنایا گیا جو خود آئی ایس آئی کا موجودہ ملازم نہ تھا اور ایک ایسا بندہ بھی جے آئی ٹی کا حصہ رہا جس کی قریبی عزیز پٹیشنر عمران خان کی جماعت سے وابسطہ ہیں ۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے جے آئی ٹی پر سوالات اٹھائے گئے اور پانچ میں سے دو افراد کو نواز مخالف قرار دیکر  جے آئی ٹی سے نکالنے کا مطالبہ سامنے آیا مگر ان کے مطالبات مسترد ہوے ۔

آخر کار جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مرتب کر کے اعلی عدالت کے پانچ رکنی کمیٹی کے سامنے پیش کردیا ۔

عدالت کی پانچ رکنی بینچ نے رپورٹ کا جائزہ لے کر متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ نواز شریف اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملازم تھے اور تنخوا کے حقدار ہونے کے باوجود وصول نہ کرنے پر نااہل ہو گئے ہیں ۔

ادھر نواز شریف نے عدالت کے احترام میں وزارت اعظمی سے فوری مستفی ہوگئے ۔

عدالت کے اس فیصلے نے پوری قوم کو حیرت میں ڈال دیا اور عام شہریوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف کو پانامہ کے مسئلے پر عدالت میں لایا گیا اور عدالت نے پانامہ کے بجاے اقامہ پر فیصلہ صادر کر کے کیوں نااہل کر دیا ؟

یہی وہ سوال ہے جس کی وجہ سے نواز شریف پاکستانیوں کی اکثریت کے نزدیک مظلوم قرار پائے ۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کی اکثریت نے بھی عدالتی عمل کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہوۓ کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں لہذا اعلی عدالت کو یہ کیس نیچلے کورٹس میں منتقل کرنا چاہیے تھا۔

باز قانونی ماہرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد تین ججوں کو فیصلے کا اختیار تھا کیونکہ جے آئی ٹی میں شامل دو جج پہلے ہی نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنا چکے تھے ، لہذا پانچوں ارکان کا متفقہ فیصلہ غیرقانونی ہے ۔

اس فیصلے کے حوالے سے سب سے توانا تبصرہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سامنے آیا ۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ بہت بڑی کرپشن سامنے آئے گی ، بڑی بڑی فکٹریاں پاکستان کی ملکیت میں آینگی ۔مگر فیصلہ پانامہ کے بجاے اقامہ پر آگیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہسائی ہوئی ہے اور کوئی عالمی عدالت اس فیصلے کو بطور نظیر پیش نہیں کر سکے گی ۔

بہرصورت میاں نواز نے عوامی راۓ کو مد نظر رکھ کر ہمدردی حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد سے لاہور تک روڈ کارواں شروع  کیا اور جگہ جگہ اپنے خلاف عدالتی فیصلے پر تنقید اور سول بالادستی کا نعرہ بلند کیا ۔نواز شریف نے اپنے جلسوں میں کہا کہ دو کروڑ عوام ووٹ دیکر  وزیراعظم بناتے ہیں اور پانچ بندے بن کمرے میں بیٹھ کر اس عوامی وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیتے ہیں ، یہ حق ان کو کس نے دیا ہے ۔

انہوں نے صحافیوں سے بار بار اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ سول حکومت اور آمریت پر ڈبیٹ شروع کر دیں ۔

نواز شریف کے انداز بیاں سے واضع ہوتا ہے کہ انہوں نے اب جمہوریت کو مظبوط اور اسٹبلیشمنٹ سے مکمل ہاتھ کھینچنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔

پنجاب کی سرزمین میں پہلی مرتبہ انٹی اسٹبلیشمنٹ تحریک بلاشبہ جمہوریت کے حق میں توانا آواز اور مستقبل میں جمہوریت کی مظبوطی کا باعث ہو سکتی ہے ۔

میاں نواز شریف کا یہ کہنا کہ ستر سال سے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا ۔سو فیصد درست اور جمہہوریت کو مظبوط کرنے کیلئے بہترین نعرہ ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔