دنیا کی سب سے بڑی ہجرت

دنیا کی سب سے بڑی ہجرت

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 شکور علی زہدی

دنیائے عالم میں بعض اوقات ایسے واقیات رونماہوتے ہیں جو خودبخود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اور عوام صدیوں تک ان واقعات کو فراموش نہیں کرتے ہیں ایسے واقعات کے اندر ماضی حال اور مستقبل کے لئے درس عبررت کا شدت سے احسا س ہوتاہے ، برصغیر کی تاریخ میں بھی ایک ایسا عظیم واقع رونماہوا ہے ، جس کو تقسیم ہند کی ہجرت کے نام سے یاد کیا جاتاہے ، اگر چہ ہجرت کا مطلب ہے کہ بعض وجوہات کی وجہ سے ایک جگہ چھوڈ کر دوسری جگہ میں آباد ہو نا اور جب سے دنیاکا وجود ہوا ہے ہجرت کے مختلف واقعات اور حالات رونماہوئے ہیں ، برصغیر میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے آباد تھے اور برصغیر کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں مسلم اور غیر مسلم کی ملی جلی بستیاں تھی ، مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ دور حکومت کے بعد 1857 ء کی جنگ آزادی انگر یزوں کے خلاف بھی دونوں اقوام نے مل کر لڑی تھی ، لیکن ہندواکثریت کی بناپر برصغیر میں کا بض ہونا چاہتے تھے ، جس کی وجہ سے اس زمانے کے دس کروڈ مسلماں و کا مفاد اس میں تھا ، کہ وہ اپنے لئے علاہدہ وطن کا قیام عمل میں لائے جس کے لئے مسلم لیگ کا قیام اور تحریک پاکستان کا آغاز ہوا جس کا نتیجہ1940 کی قراداد پاکستان 1945-46 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کی تاریخی کا میابی اور 14 اگست میں قیام پاکستان کی شکل میں سامنے آگیا ، ان حالات کی وجہ سے ایک ہی خطے میں صدیوں سے رہنے والے ہندومسلم عوام ایک دوسرے کے مخالف صف میں کھڑے ہوئے ، اور بڑی تعداد میں برصغیر میں فسادات کا آغاز ہوگیا، برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے والے برصغیر کو پاکستان اور ہندستان میں تقسیم کیے جانے کے بعد دونوں اطراف میں مذہبی بنیادوں پر فسادات اتنے بڑے پیمانے پر شروع ہوگئے تھے کہ جس پر قابو پانا پولیس اور فوج کے بھی بس کی بات نہیں تھی ، ان حالات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں ، تقسیم ہند کے وقت دونوں اقوام کے درمیان خونزیز فسادات ہوئے ایسے ہندو جو کئی نسلوں سے ان علاقوں میں رہ رہے تھے جو پاکستان کا حصہ بن گئے ، انہیں راتوں رات اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھارت جانا پڑا جبکہ کئی میلین مسلمانوں کو سرحد پار کر کے پاکستان ہجرت کرنا پڑی دنیاں کی تاریخ میں تقسیم ہند کی ہجرت کو سب سے بڑی ہجرت کا نام دیاجاتا ہے جس میں کل ایک اندازے کے مطابق ایک کروڈ 20 لاکھ افرادا نے ہجرت کی جن میں 65 لاکھ مسلمانوں نے بھارت کے مختلف علاقوں سے ارض پاک کا رخ کیا ۔ اور 55 لاکھ ہندو مغربی پاکستان اور بنگال سے ہندوستان کا رخ کیا ۔ اس دوران پر تشدت واقعات میں 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں 15 لاکھ سے زاہد مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ہجرت کے دوران 50 ہزار خواتین اغوا ہوئی ، اور تقریباًہزاروں شیر خوار بچوں کو تلواروں سے قتل کیا گیا۔ ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئی ، برطانوں حکومت نے ایک سازش کے تحت ہندوں میں اسلحہ تقسیم کیا ، اور ہندوں کی سازش میں آکر پٹیالہ میں سکھ فوج نے مسلمانوں کے اوپر جو ظلم کے پہاڑ ڈالے گئے ان کو تاریخ کیسے فراموش کرے گی،امرستر اور جالندمیں سیکھوں نے سینکڑوں نوجوان مسلم خواتین کو بہرینہ کر کے ان سے پریڈکرودیا ،اور زیادتی کے بعد ان کو قتل کردیا گیا بے سروسامان مسلم قافلوں پر ایسے حملے کئے کہ بچھرنے والے پھر کبھی زندگی میں نہ ملے ، مسلم قافلوں کو ٹرینوں کے زد میں لاکر انہیں لہولہان کر دیا ، ہنگاموں کا آغاز مارچ 1947 سے شروع ہوا پنجاب دہلی بہار اور بنگال میں حق وباطل کے درمیان ختم نہ ہونے والے فسادات شروع ہوئے ہر معرکہ کر بلاکا منظر پیش کر رہاتھا ۔ ان ہنگاموں میں برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں نے متحد ہوکر جذبہ ایمانی کے ساتھ ہندوں اور سکہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور بہت سے علاقوں میں یزیدیت کو پاش پاش کر دیا ، برصغیر کے مشہور شاعر رئیس امروہی کے مطابق 14 اگست 1947 کو دہلی میں تاریخ کے بدترین حالات رونماہوئے لاکھوں ہندوں کے پاکستان مخالف حوجوم کے مقابلے میں لاکھوں مسلمانوں نے نارے تکبیر کا رسالت نارے حیدری اور حسینیت زندہ باد کے نعروں سے دہلی کی فضاکو گرمادیا ، اور زمانے کے یزیدیوں کے ساتھ اس طرح مقابلہ کیا کہ باطل کو پس پا ہونا پڑا ، دنیاکی تاریخ میں ہجرت کے دوران جو مسائب مسلمانوں نے برداشت کیے ان کی مشال کہی نہیں ملتی ، پاکستان کے محبت میں وطن جان مال عزت آبرو اور اولاد تک مسلم قوم نے قربان کر کے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے اگر ہم تقسیم ہند سے متاثر افراد کے واقعات اور کہانیوں کا مجموعہ جمع کیاجائے تو ان کی تعداد 2000 سے زاہد بنتی ہے جس کو 1947 پارٹیشن آر کو ےؤکا نام دیاگیاہے ، تاریخ برصغیر کے کے ان واقعات کا جائزہ لنے سے یہ پتہ چلتاہے کہ اس زمانے کے مسلمانوں نے مملکت خداداد کو بنانے اور محفوظ رکھنے کے لئے کتنی بڑی قربانیاں دی ہے ، جس کا اندازہ لگانابہت مشکل ہے غالباً2002 ء میں راقم کراچی میں کسی گھر میں بچوں کو ٹیوشین پڑھا رہاتھا، اس گھر کی مالکہ سیدھہ کنیز مہدی زیدی جو ایک انتہائی بزرک عمر رسیدہ اور پڑی لکھی خاتون تھی ۔ وہ بتارہی تھی کہ ان کا گھر علی گڑھ میں تھا انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تقسیم ہند کے وقت ان کی عمر 18 سال تھی مسلمان قافلے پاکستان کی جانب رواں دواں تھے ، جب اچانک ان کابھی قافلہ تیار ہوا تو وہ اپنے گھر میں روٹیاں پکارہی تھی اس عالم مین اپنا سب کچھ علی گڑھ میں چھوڑ کر قافلے کے ساتھ ہجرت کی اور دوران ہجرت انہوں نے مجھے ہندوں او سیکھوں کے جو ظلم وستم کے داستان بیان کئے انہیں سن کر آج کے ہمارے ملک کے کے حکمران سیاسی لیڈر اور جمہوریت کے علمبرداروں پر حیرت ہوتی ہے کہ نہوں نے ماضی کو سب کچھ بلاکر ہندوں او ر سیکھوں کو گلے ملارہے تھے ۔ لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمیں 1947 میں رونماہونے والے انقلاب ہجرت کو صروف داستانوں کی حدتک رکھنانہیں چاہیں ۔ بلکہ دنیاکی اس سب سے بڑی ہجرت سے سبق لتے ہوئے ہمیں اپنے وطن ملک اور قوم کے لئے ہرقسم کی قربانی دینے سے دریخ نہیں کریں اور جس طرح ہمارے آباواجادہ نے اس ملک کو بنانے کیلے اپنا جان ومال کی قربانی دے کر دنیاکے نقشے میں عظیم اسلامی مملکت پاکستان کے نام سے قیام عمل لانے میں کامیاب ہوئے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔