چترال کےقابل فخر فرزند،  ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری 

چترال کےقابل فخر فرزند، ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری 

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عزت و ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے اللہ پاک جسےچاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دےاور جسےوہ عزت،نیک نامی اور اچھی شہرت سے نوازے ہمیں بھی اس کی عزت اور قدر کرنی چاہیے۔ اسی حوالے سے اگر بات کی جائے توچترال کی سرزمین بہت ہی زرخیزہے۔چترال کی سرزمین نے بہت سے نمایاں اور قابل فخر فرزند پیدا کیے ہیں۔جن میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نمایاں ہے۔ یہ چترال کا وہ فرزند ہے جس نے قلیل مدت میں مسلسل محنت و جدو جہد اور لگن سے اپنا ایک مقام بنالیا ہے ۔جس پرتمام اہلیان چترال کو فخر ہے۔ ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی شخصیت کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی شخصیت اور عملی خدمات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔اس ضمن میں میری یہ تحریر اور میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے ۔بہر حال اپنی قلم کو یہ شرف دلانے کے لیے یہ تحریر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری صاحب کے نام کررہا ہوں۔

میں بادشاہ منیر صاحب کو بچپن سے جانتا ہوں اس وقت بادشاہ منیر صاحب ریڈیو پاکستان چترال میں اردو پروگرام کیاکرتے تھے۔بادشاہ منیر مضبوط اعصاب اور دراز قد کے مالک ایک خوش باش نوجوان تھے۔چترال میں کسی بھی تقریب اورپروگرام اور اہم فورمز میں پیش پیش رہتے ،کھیل کے حوالے سے اپنے وقت میں فٹبال اور کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت دنیائے کرکٹ میں ویسٹ انڈیس  کی ٹیم سب سے خطرناک ٹیم سمجھی جاتی تھی۔ جسے کالی اندھی بھی کہا جاتا تھاٍ، ایمروز ویسٹ انڈیس کے خطر ناک فاسٹ بالر تھے جس سے اچھے خاصے بیٹسمین بھی ڈرتے تھے۔ گویاکہ بادشاہ منیر اپنے زمانے کے ایمروز تھے ایمروزجیسا اسٹائل اور بولینگ کیا کرتے جس سے مخالف ٹیم پر دباؤ مزید بڑھ جاتا تھا۔ شندور پولو فیسٹول میں چترال پولو ٹیم کو سپورٹ کرتے ہوئےگیند کا تھرو کس کو یاد نہیں جو مخالف ٹیم کے گول کے سامنے جاکرگرتا وہ بھی دنیا کے سب سے بلندی پر واقع گراؤنڈ میں یہ کسی اور کے بس کی بات نہیں یہ بادشاہ منیر کے علاوہ کون کر سکتا تھا۔سماجی اور فلاحی خدمات میں بھی سب سے آگے رہتے اگر کسی کو ہنگامی بنیاد پر خون کی ضرورت ہوتی اور اگر خون کا عطیہ دینا ہوتا تو بادشاہ منیر صاحب کا نام لیا جاتا تھا۔بادشاہ منیر ٹورسٹ گائیڈ بھی رہ چکے ہیں۔ چترال میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھی بادشاہ منیر صاحب کی کافی خدمات ہیں ۔بادشاہ منیر صاحب کی مستقل مزاجی اور مسلسل محنت اور لگن کی بدولت ایک دن ایسا بھی آیا کہ قدرت کی جانب سے اردو ادب کی خدمت کے لیے اور نوجوان نسل کی تعمیر نو کے لیے بادشاہ منیر صاحب کا انتخاب ہوا۔ کس کو خبر تھی کہ بادشاہ منیر ملکی اور غیر ملکی سطح پر ایک بڑے اسکالر بینں گے۔بادشاہ منیر بخاری کھبی بھی نہیں گھبرائے دوستوں کی ہنسی مذاق کی بھی پرواہ نہیں کی جس کی بدولت وہ آج جس مقام پر فائز ہیں ہم سب کو بادشاہ منیر پر رشک،فخر اور خوشی ہے۔چترال کے عوام زندہ د ل لوگ ہیں جو مقام چترال کے اس قابل فرزند نے پایا ہے۔یہ چترال کے لوگوں کی دعاؤں کا ہی ثمر ہے۔

بادشاہ منیر صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ نجی اور ذاتی زندگی کے حوالےسےبادشاہ منیر آج بھی وہی بادشاہ منیر ہیں جو آج سے پہلے ہوا کرتے تھے طبع ملنگسار، ہنس مکھ اور جن کی منفرد مزاح سے بھرپور انداز آج بھی ویسا ہی ہے ۔ آج چترال کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں۔آپ کی اردو اور چترالی زبان کے لیے کیا کیاخدمات ہیں۔اسی حوالے سے میں نے مناسب جانا کہ بادشاہ منیر بخاری صاحب کی علمی خدمات کا مختصرا تذکرہ کیا جائے تاکہ چترالی عوام کو بھی ان کی خدمات کا اندازہ ہوجائے۔چونکہ چترال کے عوام علم دوست اور تعلیم سے پیار کرنے والے ہیں۔لہذا چترال کے لوگ علم و دانش کے اس سمندر اور ہیرے کی قدر کریں۔ مگر آج بھی بعضی لوگ بادشاہ منیر صاحب کو پسند نہیں کرتے اس کے پیچھے کیا بات ہے میں نہیں جانتا ۔ میں سمجھتا ہوں اس کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کی قدر نہ کرنا ناانصافی اور ظلم سے کم نہیں ہے۔

یوں تو مملکت خداداد پاکستان میں علمی خدمات کے حوالے سے ایسے کئی بے شمار نام ہیں ، مگر ان میں جو مقام بادشاہ منیر صاحب کو حاصل ہے وہ منفرد اور لائق تحسین  ہے۔

چونکہ اردو ادب سے شغف پچپن سے ہی تھا۔ بادشاہ منیر نے ایم ۔اے اردو ادب میں گولڈ میڈل حاصل کرکے اپنے ترقی کا سفر شروع کیا ۔جس کے بعد آپ پشاور یونیورسٹی میں اردو ادب پڑھانے لگے۔ اسی دوران آپ نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا جس کی وجہ سے بادشاہ منیر بخاری پشاور یونیورسٹی کے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر بنے ۔ یہ سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ آپ پشاور یونیورسٹی کے ایڈمینسٹریٹو آفیسر پھر کنٹرولر ایگزمینیشن بنے بادشاہ منیر پشاور یونیورسٹی ہاسٹل 2 کے وارڈین بھی رہ چکے ہیں ۔ خیبر پختونواہ سے وہ واحد فرد جو ورلڈ لینگویج کونسل کےممبر ہے۔ آپ  پشاور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ بادشاہ منیر بخاری نے اپنے پی۔ایچ۔ڈی کے مقالہ ”اردو اور کھوار کے لسانی روابط “ کے حوالے سے کتاب لکھ کر اپنے مقالے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے فلاسفی آف ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اب تک ایم۔فل کے 229 طلبہ اور پی۔ایچ۔ڈی کے 21 طلبہ آپ کے زیر سایہ اپنے تحقیقی مقالہ پورا کرچکے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے یورپ کے تقریبا نصف سے زائد ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ہے۔ آپ نے 61 سے زائد کتابیں بھی لکھی ہیں جو کہ آپ کے مقالوں اور مضامین کے علاوہ ہیں ۔ بادشاہ منیر بخاری خیابان اردو کے آٹھ جلدوں کے بھی مصنف ہیں ۔ ان خدمات اوراعزازات کے علاوہ اور بہت سی ملکی و غیر ملکی اعزازات ہیں جن کا یہاں بیان ناممکن ہے ۔

آج کل پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں جن کی سرپرستی میں یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر و ترقی کا مشکل کام شب و روز زوروشور سےجاری ہے۔ کسی علاقے یا خطے میں ایک مکمل یونیورسٹی کا قیام مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے ۔ جس کے لیے صلاحیت تجربے اورایک مکمل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چترال یونیورسٹی کا قیام ایک خواب معلوم ہوتا تھا مگر یہ خواب ڈاکٹر بادشاہ منیر صاحب کی قیادت میں شرمندہ تعبیر ہوچکا ہے۔ یونیورسٹی آف چترال کے لیے بادشاہ منیر صاحب ایک موزوں ترین انتخاب ہے۔ آپ کی زندگی پشاور یونیورسٹی جیسے ملک کے عظیم ادارے کے ساتھ جڑی ہے ۔ اردو ادب ،اردوزبان اور کھوار زبان کے لیے آپ کے گراں قدر خدمات ہیں اردو زبان و ادب پر آپ کی کتابیں امریکہ کی یونیورسٹوں میں بھی پڑھائی جاتی ہیں دنیا کے کئی مشہور و معروف رسالوں میں بادشاہ منیر صاحب کے تحقیقی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ اس لحاظ سے واقعی میں چترال یونیورسٹی کے لیے بادشاہ منیر صاحب کا انتخاب درست معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ بادشاہ منیر صاحب کے پاس صلاحیت و تجربہ ہونے کے ساتھ دوسرے بڑے بڑے ناموں کا تعاون بھی حاصل ہے ۔ انشاء اللہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب چترال یونیورسٹی کو بادشاہ منیر صاحب اس مقام پر پہنچائیں گے جب بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں چترال یونیورسٹی کا بھی شمارہوگا ۔ اور ہمیں قوی امید ہے کہ اس عمل کے پیچھے بھی ڈاکٹر بادشاہ منیر صاحب کا ہاتھ کارفرما ہوگا۔ آخر میں ہم سب دعا گو ہیں بادشاہ منیر صاحب اسی طرح دن بدن  ترقی کی منزلیں طے کرتے رہے اور چترال کا نام روشن کرتے رہے۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author