توجہ طلب صحت مند زندگی

توجہ طلب صحت مند زندگی

46 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دیدار علی شاہ

اپنی صحت کے بہتری کے لیے فکر مند رہنا اچھی بات ہے ، لیکن اگر صحت اچھی طرح سے گزر رہی ہو پھر خود کو مختلف الجھنوں میں مبتلا کرنا تشویش ناک عمل ہے۔آج کل ہمارے معاشرے میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ ایک اچھی خاصی صحت مند زندگی گزر رہی ہے پھر بھی ہم مختلف الجھنوں میں رہیں گے ، شک کریں گے،کہ ہماری صحت خراب تو نہیں ہو رہی ہیں ۔ہم کسی بیماری میں تو مبتلا نہیں، یہ ساری وہ تمام باتیں ہے جو ہمارے معاشرے میں ایک صحت مند انسان بھی سوچتا ہیں اور ایک صحت مند زندگی کے لیے یہ ایک خطرناک عمل ہے جس سے ہر انسان کو دور رہنے کی ضرورت ہے۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں احتیاطی تدابیر سے متعلق علم ہو اور وقت اور حالات کے ساتھ نمٹنے کا ہنر بھی ہو۔

ہر انسان اپنی پوری زندگی کے دوران مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتاہے۔ لیکن علاج کے بعد اسے نجات بھی ملتا ہے۔لیکن معاشرتی، سماجی اور معاشی اور زندگی کے دوسرے معاملات کی وجہ سے پریشانیاں اور مسائل اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔پھر بھی اگر ہم اپنی زندگی میں چند اہم سماجی رویوں کو اپنا کر اپنی زندگی کو خوشگوار، طویل اور کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحت مند زندگی کے اصولوں پر عمل کیا جائے تو طویل عمر پائی جاسکتی ہے۔

اب بات یہ ہے کہ اُن ماہرین کے مطابق وہ اصول کیا ہے، اس پر کیسے عمل کیا جائے ، اس پر عمل کے طریقہ کار اور شرائط کیا ہے،بوقت ضرورت کن سے مشورہ لیا جائے، یہ تمام وہ ساری باتیں ہے جو ہر معاشرے کے تمام ا فرد جاننے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ سمجھ نہیں پاتا ۔

ان تمام باتوں کا اپنے زندگی میں عملی جامعہ پہنانے کے لئے ضروری ہے کہ کسی ماہرین کی مدد لی جائے اور یہ ماہرین ہمارے معاشرے میں موجود ہے ۔ایسے بہت سارے ادارے بھی موجود ہے جہاں پر یہ تمام معلومات آسانی سے دستیاب ہے۔ ،انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلق یہ ماہرین ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں اور ان سب کا کام انسانی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرناہے۔

اگر انسان اپنی زندگی کو ایک منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھائے تو یہ مفید اور کاریگر ثابت ہوتا ہے۔ اور خاص کر اپنے روز مرہ زندگی میں اُن چند مثبت سرگرمیوں کو شامل کرے جو ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ڈاکٹر یا دوسرے ماہرین تاکید کرتے ہے ۔ان چند سرگرمیوں کے بارے میں آپ تمام کو ہر وقت آگاہ رہنا از حد ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیئے پہلا قدم خوراک کا انتخاب ہوتا ہے ۔ایک صحت مندزندگی گزارنے کے لیے اپنے روزمرہ یا ہفتہ وار تمام قسم کی غذاوں پر مشتمل ایک چارٹ تیار کرلیں تاکہ آپ کو بہتر طور پر غذائیت حاصل ہو سکے۔اور ان چیزوں کو ترجیح دینا ہے جس میں وٹامنز اور پروٹینز کی مقدار زیادہ ہو۔اس سے آپ کی جسم میں توانائی کی مقدار قائم ہے گی۔

دوسری بات آپ کے جسم سے متعلق ہے۔ روزمرہ کی بنیاد پر کھائی ہوئی غذا کو بہتر طور پر ہضم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا جسم مسلسل حرکت میں رہے۔ یعنی خوب کام کاج میں مصروف رہے۔ اسی جسمانی سرگرمی اور کارکردگی سے موجود غذا اچھی طرح سے ہضم ہوگا اور ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اپنے جسم سے خوب کام لیں تاکہ آپ کو پسینہ آئے ۔اس سے آپ کا مزاج خوشگوار رہے گا۔

تیسری بات سیرو تفریح اور ورزش کے حوالے سے ہے۔روزانہ کی بنیاد پر ہر انسان کو ورزش، سیر، چہل قدمی اور تفریح ان چاروں سرگرمیوں کو اپنے روزمرہ کے زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔اس سے انسان جسمانی طور پر چست اور ذہنی طور پر تازہ اور خوش رہیں گے اور خیالات بھی مثبت رہے گا۔

چوتھی چیز موسیقی سے متعلق ہے۔ یعنی اپنی روزمرہ زندگی میں موسیقی یا رقص جیسے مشاغل ضرور شامل کرنا چاہیے ۔ایسا کرنے سے انسان ذہنی اور جسمانی طور پر خوشگوار اور پُرسکون محسوس کرتا ہے ۔ اور انسانی زندگی میں موجود منفی پہلو مثبت میں بدل جاتے ہے۔

پانچواں چیز مسکراہٹ سے متعلق ہے۔ انسان کو ہر لمحہ ، ہر وقت ، ہر روز اپنے چہرے پر مسکراہٹ ضرور رکھنا چاہیے اس سے آپ کے ہر مسائل حل ہونگے اور ہر کام آسان ہوگا۔

چھٹی بات جذبات اور محسوسات سے متعلق ہے۔انسان کو اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری نہیں کرنا چاہیے اس سے کئی مسائل اور مشکلات جنم لے سکتا ہے۔اسی لئے ہمیشہ اپنی دلی جذبات اور محسوسات کا اظہار کھل کر کریں اس سے لوگ آپ کے قریب ہونگے اور آپ خوشی محسوس کریں گے۔

ساتواں کام سماجی رابطہ قائم کرنا ہے۔اپنے قریبی لوگوں سے تعلقات برقرار رکھنا اور دوسرے نئے لوگوں سے تعلقات پیدا کرنا آپ کی زندگی میں مددگار ثابت ہوگا۔

اٹھواں کام تخلیق سے متعلق ہے۔ اپنی روزمرہ یا ہفتہ وار فارغ اوقات میں سے وقت نکال کر کوئی تخلیقی کام کرنی چاہیے اس سے آپ کو یا دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جس سے آپ ذہنی طور پر مطمئن رہیں گے اور خود اعتمادی بڑھ جائے گا۔

نواں کام معلومات سے متعلق ہے۔ انسان کو ہمیشہ دنیا کے ہر شعبہ زندگی سے متعلق معلومات حاصل کرتے رہنا چاہیے اس سے آپ خود اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہونگے اور آپ دنیوی حالات سے باخبر رہیں گے۔دسواں کام ذہنی تناو سے متعلق ہیں۔ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی کے راستے میں جتنے بھی مسائل آتے ہے انھیں اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیں ۔ بلکہ وقت اور حالات کے مطابق انھیں سلجھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

گیارویں کام نشہ سے متعلق ہے۔ تمباکو نوشی یا نشہ آور چیزیں کوئی سا بھی ہو انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔ اس لئے اس کا استعمال نہ کرنا دانشمندی ہیں۔بارواں کام بامقصد زندگی سے متعلق ہیں۔ بامقصد زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ جس شعبے سے تعلق رکھتے ہو اس میں محنت اور دل لگا کر کام کرنا اور کامیابی حاصل کرنا اور اپنے معاشی اور معاشرتی زندگی میں برابری پیدا کر کے خوشحالی سے آگے بڑھنا�آآخری بات امید سے متعلق ہیں۔ انسان کو ان تمام باتوں پر عمل کر کے ہر آنے والے کل کے لیے پُر امید رہے۔ اس سے ہر آنے والا کل حقیقی خوشی کے حصول کی ضمانت ہے۔

ان تمام باتوں پر عمل کرنے کے لئے ذہنوں میں کچھ کرنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہیں اور یہ وہ لوگ کرسکتے ہیں جو اپنے مستقبل کو خوشگوار بنانے کا قائل ہیں ۔انسان جس طرح سے سوچتا ہیں اسی طرح سے اس کا عمل اور کردار ہوتا ہیں ۔اسی لئے اچھے عمل اور اچھے کردار کو اپنانے کے لئے اچھے سوچ کو قبول کریں ۔خوشحال اور کامیاب مستقبل کے لیے صحت مند زندگی کا ہونا ضروری ہے اور صحت مند زندگی کے لیے صحت مند سوچ کا ۔اسی لئے یہ صحت مند سوچ آپ کے حوالے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments