چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کا الگ تھلگ جلسہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے دروش میں منعقد

چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کا الگ تھلگ جلسہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے دروش میں منعقد

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کا الگ تھلگ جلسہ عوامی نیشنل پارٹی نے جمعرات کے روز دروش میں منعقد کیا جس سے پارٹی کی صوبائی خاتون قائدین نے خطاب کرتے ہوئے چترال کی سرزمین کو پارٹی کے لئے نہائت زرخیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنگ پہاڑوں کے درمیان رہنے والے اس علاقے میں فخر افغان باچا خان کے ماننے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور آنے والا دور اے این پی کا ہی ہوگا اور اگلے سال الیکشن میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کی شکست فاش صاف نظر آ رہی ہے ۔ دروش کے مقام پر اے این پی کی صوبائی خواتین کمیٹی کے چیرمین شازیہ اورنگزیب، سیکرٹری شگفتہ ملک اور اراکین خدیجہ سردار، خورشید بیگم، یاسمین ضیاء، ڈاکٹر شاہین، سلمیٰ جہانگیر نے خواتین کی ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے صوبے کے عوام کو مایوسی اور پسماندگی کے علاوہ کچھ نہ دے سکے اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کے عوام اب دوبارہ فخر افغان باچا خان کی راہ دیکھ رہے ہیں اور اگلے سال ان کو دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیاب کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے انہوں نے تبدیلی کانعرہ لگایا جوکہ کھوکھلا ثابت ہوا اور اقتدار کے حصول کے بعد صوبے کو پسماندگی کے دلدل میں دھکیل دیا اور ترقیاتی بجٹ کی استعمال میں ناکام ہوکر اپنی نا اہلیت کا دل کھول کر ثبوت دیا۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی کا دور صوبے کی تاریخ میں ایک سنہرا دورمانا جاتا ہے جس میں تمام پسماندہ اور دورافتادہ اضلاع اور علاقوں کو سب سے ذیادہ توجہ دی گئی جس کا ثبوت چترال میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں اے این پی کا کوئی منتخب کونسلر بھی نہ ہونے کے باوجود یہاں ریکارڈ اسکیل پر ترقیاتی کام انجام پذیر ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اے این پی کی تاریخ صوبے کے حقوق کے لئے جنگ کی تاریخ ہے اور صوبے کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دوڑ میں آگے لانے کی جدوجہد کی تاریخ ہے اور فخر افغان باچا خان کے پیروکار اپنا یہ فریضہ انجام دیتے رہیں گے اور گزشتہ دور میں اسی حق گوئی کی بنا پر اپنے سینکڑوں کارکنان کی قربانی دی ۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی کی تاریخ اس صوبے کے عوام کی حقوق کے لئے طویل جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسی پارٹی نے صوبے کواس کا شناخت دے دی اور اپنے سینکڑوں کارکنوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی سے تعلق رکھنے والے خواتین بھی ترقی کے لئے جدوجہد میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور صوبے کی تاریخ میں اے این پی کی خواتین کی جہدوجہد اور قربانیوں کو سنہری حروف سے لکھاجائے گا اور چترال جیسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقے میں خواتین کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ اس علاقے کے عوام حقیقی معنوں میں تبدیلی چاہتے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کریں گے جب اس ضلعے سے اے این پی کے نامزد امیدواروں کو شاندار کامیابی حاصل ہوگی۔ اس سے قبل اے این پی کی صوبائی قائدین تین روزہ دورے پر چترال پہنچے تو پارٹی کی مقامی قائد اور ڈویژنل جائنٹ سیکرٹری خدیجہ سردار نے دوسرے خاتون قائدین کے ساتھ مل کر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور چترالی روایت کے مطابق ان کو چادر پیش کیا ۔ اے این پی کی خاتون قائدین چترال ، ایون ، بمبوریت اور بونی کا بھی دورہ کرکے خواتین کی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔